واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

رفیع احمد آفتاب

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...


تاریخ: 4 جنوری 2026، اتوار


خالد سیف اللہ موتیہاری 


آج کا دن میری زندگی کا ایک یادگار دن ثابت ہوا۔ صبح سے ہی دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی، جیسے کوئی خوشگوار اتفاق ہونے والا ہو۔ معروف ادیب جناب رفیع صاحب سے میری پہلی ملاقات 'اردو لائبریری موتی ہاری' کے ایک ادبی پروگرام میں ہوئی تھی، جہاں انہوں نے کمالِ ذرہ نوازی سے فرمایا کہ وہ میرے مضامین پڑھتے ہیں۔ وہاں وقت کی تنگی اور ہجوم کے باعث صرف مختصر سا تعارف ہی ہو سکا اور ہم ایک دوسرے کو کماحقہُ جان نہ سکے۔ مگر آج دوسری بار ان سے باریابی کا شرف حاصل ہوا، تو گویا شناسائی کے نئے در وا ہو گئے۔

آپ ان قد آور شخصیات میں سے ہیں جن کے تذکرے ایک مدت سے ادبی حلقوں میں سنتا رہا تھا، لیکن چشمِ مشتاق کو آج پہلی بار ان کے ساتھ سیر حاصل گفتگو اور تفصیلی نشست کا موقع میسر آیا۔ موتی ہاری جیسے شہر میں آپ جیسی نابغہ روزگار ہستی کا قیام ہم سب کے لیے باعثِ صد افتخار ہے۔ رفیع صاحب کے ساتھ بیتے ہوئے یہ تین چار گھنٹے میرے لیے صرف ایک نشست نہیں بلکہ علم و آگہی کا ایک مکمل باب تھے۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت میں جہاں شاعری کی لطافت اور صحافت کی بیباکی نظر آتی ہے، وہیں ایک کھلاڑی کی پھرتی اور توازن بھی نمایاں ہے۔ یوں لگا جیسے ان کی ذات میں فکر و فن کے کئی دریا ایک ساتھ بہہ رہے ہوں۔

چائے کی پیالیوں سے شروع ہونے والا یہ تذکرہ دسترخوان تک پھیل گیا۔ کھانا جتنا سادہ تھا، رفیع صاحب کی گفتگو اتنی ہی پرمغز اور گہری تھی۔ اس سادہ سے ماحول میں ان کی باتیں معنویت کا ایک ایسا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا جس نے مجھے اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ دورانِ گفتگو انہوں نے کمالِ شفقت سے اپنے کلامِ بلاغت نظام سے نوازا۔ 'آج کل'، 'سب رنگ' اور 'گلبن' جیسے معتبر ادبی جریدوں میں ان کی تخلیقات دیکھ کر مجھ پر حیرت کے در وا ہو گئے۔ ان کے ہر شعر میں فکر کی گہرائی، لفظوں کی حلاوت اور معنی کا جہانِ نو آباد نظر آیا۔ یہ محض لفظوں کی شعبدہ بازی نہ تھی، بلکہ حیاتِ انسانی کے تجربات کا ایک سچا آئینہ تھا۔

رفیع صاحب کی شخصیت کا سب سے دلکش پہلو ان کی بے نیازی اور درویشانہ سادگی ہے۔ پریشان بال اور سادہ لباس؛ نہ کوئی تصنع، نہ نمائش کی تمنا۔ ان کے پاس جہاں ایک جوہر شناس آنکھ اور نکتہ رس نظر ہے، وہیں سینہ بے کینہ اور طبیعت میں غضب کا کھرا پن ہے۔ وہ ان معدودے چند لوگوں میں سے ہیں جو شہرت کی ہوس سے بے نیاز رہ کر اپنے فن سے اپنی شناخت بناتے ہیں۔ باتوں باتوں میں پتا چلا کہ آپ 'انجمن جمہوری ترقی پسند مصنفین' کی صدارت کے منصب پر فائز ہیں۔ اس گراں قدر علمی ذمہ داری کو بھی وہ کمالِ انکساری سے نبھا رہے ہیں۔

آج کی اس مختصر سی رفاقت نے میرے فکر و خیال کے بند کواڑ کھول دیے ہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ رفیع صاحب کی شخصیت ابھی بہت کچھ لکھنے کا تقاضا کرتی ہے؛ سو، ان شاء اللہ جلد ہی ان کی حیات و خدمات پر تفصیلی خامہ فرسائی کروں گا۔ واپسی کے سفر میں میرا وجود ایک سرشاری اور عجیب سے قلبی اطمینان کی گرفت میں تھا۔ یہ خیال بار بار دستک دیتا رہا کہ زندگی کی راہوں میں مسافر تو بہت ملتے ہیں، مگر کچھ ملاقاتیں روح کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہیں۔ آج مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ حقیقی عظمت کا معیار نام و نمود نہیں، بلکہ سادگی اور اعلیٰ انسانیت ہے۔ رفیع صاحب جیسی ہستیاں ہمارے معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں، جنہیں ہم نے ناقدری کی دھول اور گمنامی کے پردوں میں کہیں اوجھل کر دیا ہے۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے