خالد سیف اللہ موتیہاری
دنیا ہمیشہ بدلتی رہی ہے، اور ہر دور میں نئے نظریات، چیلنجز، اور فتنے ابھرتے رہے ہیں۔ لیکن آج کا زمانہ خاص طور پر فتنوں کا دور ہے، جہاں عقائد، نظریات، اخلاقیات، اور معاشرتی اصولوں پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔ میڈیا، سوشل نیٹ ورکس، جدید فلسفے، اور غیر اسلامی افکار نے نوجوان نسل کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ اس دور میں اگر کوئی چیز انسان کو ان فتنوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے، تو وہ علمِ دین ہے۔ دین کا علم ایک ایسی روشنی ہے، جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے، ایک ایسا قلعہ ہے، جو ایمان کو محفوظ رکھتا ہے، اور ایک ایسی طاقت ہے، جو گمراہی کے طوفان کے سامنے ڈٹ جاتی ہے۔
علمِ دین کی ضرورت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ فتنے ہمیشہ جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب انسان کے پاس صحیح علم نہیں ہوتا، تو وہ آسانی سے گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ آج بہت سے لوگ دین کے بنیادی اصولوں سے ناواقف ہیں، جس کی وجہ سے وہ غیر اسلامی نظریات کو قبول کرنے لگتے ہیں۔ کچھ لوگ مذہب کو صرف رسم و رواج کا مجموعہ سمجھتے ہیں، کچھ دین کو مشکل اور ناقابلِ عمل خیال کرتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو دین کے نام پر انتہا پسندی یا بے راہ روی کو فروغ دیتے ہیں۔ ان تمام فتنوں کا مقابلہ صرف صحیح دینی علم کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، جو قرآن و حدیث، فقہ، سیرت، اور اسلامی تاریخ پر گہری بصیرت فراہم کرے۔
آج کے دور میں دین کا علم نہ صرف ایک انفرادی ضرورت ہے، بلکہ اجتماعی فریضہ بھی ہے۔ اگر معاشرے میں علمِ دین عام نہیں ہوگا، تو باطل نظریات زیادہ تیزی سے پھیلیں گے، لوگ دین سے دور ہوتے جائیں گے، اور امت مسلمہ کمزوری کا شکار ہو جائے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے علم کو چھوڑا، وہ زوال کا شکار ہو گئے۔ لیکن جب انہوں نے علم دین کو مضبوطی سے تھاما، تو وہ دنیا کے رہنما بن گئے۔ علم دین کا اثر نہ صرف عقائد پر ہوتا ہے، بلکہ یہ کردار، اخلاق، اور زندگی کے ہر پہلو کو سنوارتا ہے۔ ایک دین دار عالم اور ایک جاہل شخص کے فیصلوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ عالم حق اور باطل میں تمیز کر سکتا ہے، جبکہ جاہل آسانی سے دھوکہ کھا جاتا ہے۔
علمِ دین کی ایک اور ضرورت یہ ہے کہ آج غیر مسلم دنیا اسلامی تعلیمات کو غلط انداز میں پیش کر رہی ہے۔ میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جہاد، خواتین کے حقوق، اسلامی قوانین، اور دیگر موضوعات پر بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اگر مسلمانوں کے پاس دین کا علم نہ ہو، تو وہ ان اعتراضات کے جوابات دینے کے بجائے خود ہی ان سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مسلمان، خاص طور پر نوجوان، علمِ دین حاصل کریں تاکہ وہ نہ صرف خود کو ان فتنوں سے محفوظ رکھ سکیں، بلکہ دوسروں تک بھی صحیح معلومات پہنچا سکیں۔
دینی علم کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ یہ انسان کو روحانی طور پر مضبوط بناتا ہے۔ جب انسان قرآن و حدیث کو سمجھتا ہے، اسلامی تاریخ کو پڑھتا ہے، اور دین کی حکمتوں پر غور کرتا ہے، تو اس کا دل ایمان سے لبریز ہو جاتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے، آخرت کا انجام کیا ہوگا، اور کس طرح زندگی گزارنی چاہیے۔ علمِ دین انسان کو صبر، شکر، عاجزی، اور تقویٰ جیسی صفات سے آراستہ کرتا ہے، اور اسے دنیا کی عارضی لذتوں کے دھوکے سے بچاتا ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ جو آج کل درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ہر کوئی عالم اور مفتی بن بیٹھا ہے۔ لوگ بغیر کسی مستند علم کے دین کے نام پر فتوے دیتے ہیں، غلط تشریحات پھیلاتے ہیں، اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ اگر ایک عام مسلمان کے پاس علمِ دین نہ ہو، تو وہ ان جھوٹے علما کے چنگل میں پھنس سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لوگ مستند علما اور صحیح علمی ذرائع سے دین سیکھیں، تاکہ وہ غلط فہمیوں اور بدعات سے بچ سکیں۔
علمِ دین کی ضرورت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس شخص کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔" (بخاری و مسلم)۔ یعنی دین کا علم حاصل کرنا نہ صرف ضروری ہے، بلکہ یہ اللہ کی خاص نعمت بھی ہے۔ اگر کوئی شخص دین کا علم حاصل کرتا ہے، تو دراصل وہ اللہ کی رحمت کو اپنی طرف کھینچ رہا ہوتا ہے۔
یہ فتنے کا دور ہے، جہاں باطل قوتیں پوری کوشش کر رہی ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کر دیا جائے۔ ایسے میں دین کا علم ہی وہ ہتھیار ہے، جو ان فتنوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ علمِ دین کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائے، قرآن و حدیث کو سمجھے، اسلامی تاریخ سے سبق لے، اور صحیح عقائد اور نظریات کے ساتھ زندگی گزارے۔ جو لوگ دین کے علم سے آراستہ ہوں گے، وہی اس فتنہ انگیز دور میں اپنی اور اپنی نسلوں کی حفاظت کر سکیں گے، اور وہی اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں گے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں