📢 واٹس ایپ چینل
✖ صفحہ اول 🏠

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

غزل

🌐 ترجمہ کریں:
⏱️ لوڈ ہو رہا ہے...




 سیفی موتیہاری


ضمیر بیچتے، تو ہم بھی آج شاہ ہوتے
کجلا کے اپنی غیرتیں، عالی جاہ ہوتے

جھکا کے سر جو چلتے، تو راہیں سنور جاتیں
ادائیں سیکھ لیتے، تو ہم بھی واہ واہ ہوتے

ہمیں بھی آتا، اگر فنِ خوشامد اے دوست
تو کئی منصبوں کے ہم بھی، سزاوار ہوتے

لبوں پہ "جی حضور" کا، گر ذائقہ رہتا
تو زمانے بھر کی نظروں میں، باوقار ہوتے

ہمیں تو لے ڈوبی، یہ سرکشی اپنی
ورنہ ہم بھی کسی کی، چشمِ انتظام ہوتے

فریبِ مصلحت سے، جو جوڑ لیتے رشتہ
تو اجالوں کے شہر میں، ہم بھی چراغ ہوتے

مگر سکون ہے یہ، کہ سر اپنا بلند ہے
گر جھک کے جیتے، تو خود اپنی نظر میں گناہ ہوتے

🏷️ ٹیگز:

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

📱 واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے