خالق کے نام ایک گناہ گار بندے کے خطوط
السلام علیکم و رحمتہ اللہ!
رمضان المبارک کی حقیقت جسمانی ریاضت میں نہیں، بلکہ روحانی بیداری میں مضمر ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جب ہم اپنے اور اپنے خالق کے درمیان حائل فاصلوں کو سمیٹتے ہیں۔ ہم اکثر دعاؤں میں الفاظ کی صناعی میں اُلجھ جاتے ہیں، جبکہ عبادت کی اصل روح دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی صدائے حق میں پوشیدہ ہے۔
اس رمضان میں "مکتوبِ بندگی" کے عنوان سے ایک فکری سلسلہ پیش کر رہا ہوں؛ یہ تیس خطوط ایک بندے کے اپنے مالک سے مکالمے کی صورت ہیں۔ ان میں نہ تصنع ہے نہ ریاکاری، بلکہ خالص ندامت، صادقانہ اعتراف اور محبت کی لطیف کیفیات ہیں۔ ہم انسانی نفس کے تضادات، زبان کی خطاؤں، دلی کرب اور روحانی خلا پر غور و فکر کریں گے۔
ان شاء اللہ کل سے یومیہ ایک مکتوب شائع ہوگا۔ میرا مقصد ادبی تخلیق نہیں، بلکہ اس شعور کی بیداری ہے کہ ہمارا رب ہماری ہر پکار کو سنتا ہے اور اس کی رحمت ہماری خطاؤں سے کہیں وسیع تر ہے۔ دعا ہے کہ یہ سلسلہ تزکیہ نفس کا وسیلہ بنے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں