مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج ایک طویل عرصے بعد، میں اپنی انا کی اونچی دیواروں سے اتر کر، گناہوں کی دھول میں اٹے قدموں کے ساتھ تیرے حضور حاضر ہوا ہوں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہاں آتے ہوئے شرم بھی آ رہی تھی اور خوف بھی۔ شرم اس بات کی کہ جب دنیا کے کاموں کے لیے وقت نکالنا ہوتا تھا تو میرے پاس ہزار بہانے تھے، لیکن جب تیری پکار آتی تھی تو میں "مصروفیت" کا لبادہ اوڑھ لیتا تھا۔ اور خوف اس بات کا کہ کہیں تو نے اپنے دروازے مجھ پر بند تو نہیں کر دیے؟
لیکن آج سحر کے وقت جب میں نے ٹھنڈے پانی سے وضو کیا اور تیری زمین پر ماتھا ٹیک کر "سبحان ربی الاعلیٰ" کہا، تو مجھے محسوس ہوا کہ تو تو وہیں تھا، میں ہی کہیں بھٹک گیا تھا۔ تو تو شہہ رگ سے بھی قریب تھا، میں ہی خود کو دوریوں کے سراب میں گم کر بیٹھا تھا۔
میرے اللہ!
یہ پہلا روزہ، بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے۔ یہ تو ایک اعتراف ہے کہ میں تیرے بغیر کتنا کمزور ہوں۔ دو گھنٹے کی پیاس نے مجھے میری اوقات بتا دی کہ میں جو کائنات فتح کرنے کے خواب دیکھتا ہوں، ایک گھونٹ پانی کا محتاج ہوں۔ یہ روزہ دراصل تیرے نام ایک "درخواستِ واپسی" ہے۔ میں تھک گیا ہوں مالک! اس دنیا کی دوڑ سے، لوگوں کے بدلتے رویوں سے، اپنی ہی خواہشات کی غلامی سے اور اس اسمارٹ فون کی مصنوعی دنیا سے۔
آج اس خط کے ذریعے میں تجھ سے یہ عہد کرنا چاہتا ہوں کہ اس بار کا رمضان صرف رسم نہیں ہوگا۔ میں صرف پیٹ کا روزہ نہیں رکھوں گا، میں اپنی اس سوچ کا بھی روزہ رکھوں گا جو مجھے دوسروں سے برتر دکھاتی ہے۔ میں اپنی ان آنکھوں کا بھی روزہ رکھوں گا جو صرف دوسروں کے عیب دیکھتی ہیں۔
میرے پیارے رب!
مجھے تھام لے۔ میں لڑکھڑانے والا بندہ ہوں، تو ہی سنبھالنے والا سہارا ہے۔ اس پہلے خط کے ساتھ میں اپنی پچھلی تمام نافرمانیاں تیرے رحم کی نذر کرتا ہوں۔ مجھے ویسا بنا دے جیسا تو مجھے دیکھنا چاہتا ہے۔ آج کی افطار میں جب میں پانی کا پہلا گھونٹ لوں، تو میرے دل کی بنجر زمین بھی تیری محبت سے سیراب ہو جائے۔
فقط،
آپ کا وہ بندہ جو پھر سے آپ کا بننا چاہتا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں