مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج تیسرا دن ہے۔ بھوک اور پیاس سے جسم تو اب مانوس ہو چلا ہے، لیکن میرا یہ دل اب بھی تیری یاد سے زیادہ دنیا کے شور میں الجھا ہوا ہے۔ میں آج ایک اعتراف کرنے آیا ہوں کہ میں نے اپنے ہاتھوں میں جو یہ چھوٹی سی اسکرین (موبائل) تھام رکھی ہے، اس نے مجھے تجھ سے بہت دور کر دیا ہے۔
میرے اللہ!
عجیب تماشہ ہے کہ میں روزے کی حالت میں ہوتا ہوں، پیٹ خالی ہوتا ہے، لیکن میرا ذہن دنیا بھر کی فضول خبروں، بے مقصد ویڈیوز اور لوگوں کی مصنوعی زندگیوں کی "اسکرولنگ" (Scrolling) میں مگن رہتا ہے۔ میں دوسروں کی زندگیوں کے رنگ دیکھنے میں اتنا مصروف ہو گیا ہوں کہ اپنی روح کا اجاڑ پن دیکھنا ہی بھول گیا۔
میرے پیارے رب!
میری غفلت کی انتہا تو دیکھ کہ مسجد میں تیرے سامنے کھڑا ہوتا ہوں تو ذہن میں دنیا کے منصوبے چل رہے ہوتے ہیں، اور جب ہاتھ میں فون ہوتا ہے تو گھنٹوں گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ میں نے تیری تسبیح کے لیے وقت مانگا تھا، لیکن وہ وقت میں نے سوشل میڈیا کی نذر کر دیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں نے اپنے گرد ایک ایسا حصار باندھ لیا ہے جہاں تیری آواز (اذان) تو کانوں تک پہنچتی ہے، مگر دل تک نہیں اترتی۔
اے میرے رازدار!
آج اس تیسرے خط کے ذریعے میں اس غفلت سے پناہ مانگتا ہوں۔ مجھے وہ نظر عطا کر جو سجدے میں تیرا جلوہ ڈھونڈ سکے۔ مجھے وہ سکون دے جو نوٹیفکیشنز کے شور میں نہیں، بلکہ تیرے ذکر کی خاموشی میں ملتا ہے۔ میرے اس ڈیجیٹل دور کے بکھرے ہوئے ذہن کو اپنے عشق کی ایک لڑی میں پرو دے۔
میرے مولا!
روزہ تو خاموشی کا سبق دیتا ہے، مگر میرے اندر کا شور تھمتا ہی نہیں۔ آج کی رات جب میں مصلّے پر آؤں، تو میرے اور تیرے درمیان کوئی تیسرا نہ ہو۔ مجھے اس غفلت کی نیند سے بیدار کر دے، اس سے پہلے کہ موت کی ہولناکی مجھے جھنجھوڑ کر جگائے۔
فقط
تیرا وہ بندہ، جو دنیا کے شور میں خود کو کھو چکا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں