خالد سیف اللہ موتیہاری
جب قلم اٹھتا ہے اور سیرتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس عنوان پر رقص کرنے لگتا ہے، تو گویا کائنات کی ساری روشنیاں ایک نقطے پر جمع ہو جاتی ہیں۔ وہ نقطہ جو رحمتِ عالم، سرورِ کونین، اور ہادیِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ یہ ایک ایسی داستان ہے جو نہ صرف تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے، بلکہ دلوں کے نہاں خانوں میں بھی سانس لیتی ہے۔ یہ وہ نورانی سیرت ہے جس کی ہر ادا، ہر لمحہ، اور ہر بات انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔تصور کیجیے اس صبح کا، جب مکہ کی وادی میں ایک ایسی ذات نے آنکھ کھولی جس کی آمد سے قبل ہی بشارتوں کے نغمے گونج رہے تھے۔ عبداللہ کے گھر آمینہ کے آنگن میں وہ نورِ مجسم آیا کہ جس نے تاریکیوں کو چیر کر عالم کو روشن کر دیا۔ وہ بچپن جو یتیمی کے سائے میں گزرا، مگر اس سائے میں بھی ایک عظیم مقصد کی چمک تھی۔ وہ جوانی جو صداقت و امانت کا پیکر بنی، کہ مکہ کے سنگلاخ رستوں پر چلنے والا وہ نوجوان "صادق" اور "امین" کہلایا۔ کیا خوب منظر تھا جب حرا کی تنہائی میں غار کے سناٹوں نے وحی کے پیغام کو سنا، اور "اقرأ" کی صدا نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے ہر ورق پر رحمت کے رنگ بکھرے ہیں۔ وہ رحمت جو دشمنوں کے لیے دعا بن کر نازل ہوئی، وہ شفقت جو یتیموں کے سروں پر ہاتھ رکھ کر انہیں عزت دیتی رہی، اور وہ محبت جو غلاموں کے پاؤں سے زنجیریں کھول کر انہیں انسانیت کا درس دیتی رہی۔ طائف کے سنگریزوں نے جسمِ مبارک کو زخمی کیا، مگر وہ دل نہ زخمی ہوا جو "اے رب! انہیں ہدایت دے" کی دعا مانگتا رہا۔ بدر کے میدان میں تلوار اٹھی، مگر وہ تلوار نہیں، بلکہ عدل و انصاف کا پرچم تھا جو بلند ہوا۔ فتحِ مکہ کا دن آیا تو انتقام کی بجائے معافی کا اعلان گونجا، اور کعبہ کے سائے میں کفر کے بت گرتے چلے گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنتے ہی دل میں سرور کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ وہ الفاظ جو سادگی میں ڈوبے ہوئے، مگر حکمت سے لبریز تھے۔ "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے بہتر ہو"، یا پھر "جو شخص کسی مومن کی دنیاوی پریشانی دور کرے، اللہ اس کی آخرت کی پریشانی دور کرے گا"۔ یہ کلمات ، زندگی کے وہ اصول ہیں جو انسان کو انسانیت کے عروج تک لے جاتے ہیں۔ آپ کی مسکراہٹ، جو صحابہ کے لیے بہار کا پیام تھی، آپ کی نگاہ، جو گنہگاروں کے لیے مغفرت کا آسرا تھی، اور آپ کا کردار، جو کائنات کے لیے ایک آئینہ تھا کہ دیکھ لو، کامل انسانیت کیا ہوتی ہے۔جب مدینہ کی گلیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پڑتے، تو گویا زمین اپنے خالق کی حمد میں جھوم اٹھتی۔ وہاں کے کھجور کے درخت، وہاں کی ہوائیں، اور وہاں کے باسی سب آپ کے عشق میں ڈوبے تھے۔ وہ آخری خطبہ جو حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد ہوا، گویا انسانیت کے لیے ایک ابدی وصیت نامہ تھا۔ "اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے، نہ کوئی عربی کو عجمی پر فضیلت ہے، نہ عجمی کو عربی پر، سوائے تقویٰ کے"۔ یہ آواز آج بھی گونجتی ہے، اور دلوں کو جگاتی ہے کہ رنگ و نسل کی زنجیریں توڑ کر محبت و اخوت کے رشتے جوڑو۔اور پھر وہ لمحہ آیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دارِ فانی سے رخصت لیا۔ آسمان رو پڑا، زمین ساکت ہو گئی، اور صحابہ کے دل یتیمی کے درد سے بھر گئے۔ مگر آپ کی تعلیمات، آپ کی سیرت، اور آپ کا نور آج بھی زندہ ہے۔ ہر ذکر میں، ہر درود میں، اور ہر سانس میں آپ کی یاد دل کو سکون دیتی ہے۔ یہ سیرت ایک ایسی خوشبو ہے جو کبھی ماند نہیں پڑتی، ایک ایسی روشنی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، اور ایک ایسی محبت ہے جو کبھی کم نہیں ہوتی۔اے رحمتِ دو عالم! آپ کی سیرت پر لکھنا گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش ہے۔ مگر یہ کوشش دل کو قرار دیتی ہے، روح کو تازگی عطا کرتی ہے، اور زندگی کو معنی دیتی ہے۔ آپ کا نام لیتے ہی لبوں پر مسکان آ جاتی ہے، اور دل کہتا ہے کہ ہاں، واقعی یہ وہ ذات ہے جس کے صدقے میں ہماری بخشش ہے، ہماری فلاح ہے، اور ہماری نجات ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں