مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج چھٹا روزہ ہے اور میں آئینے کے سامنے کھڑا خود کو دیکھ رہا تھا۔ میرا لباس کتنا اجلا ہے، میری گفتگو کتنی سلجھی ہوئی ہے اور لوگ مجھے کتنا نیک اور پارسا سمجھتے ہیں۔ لیکن مالک! میں آج آپ کے سامنے اس "ماسک" کو اتار کر رکھنا چاہتا ہوں جو میں نے دنیا کو دکھانے کے لیے پہن رکھا ہے۔
میرے اللہ!
لوگ تو صرف میرا ظاہر دیکھتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ میں روزہ رکھ رہا ہوں، میں نماز کے لیے مسجد جا رہا ہوں، میں نیکی کی باتیں کر رہا ہوں۔ وہ میری اس (ظاہری) تصویر پر "سبحان اللہ" کہتے ہیں، لیکن آپ تو وہ سب جانتے ہیں جو اس تصویر کے پسِ پردہ چھپا ہے۔ آپ میرے ان پراگندہ خیالات سے واقف ہیں جو تسبیح پڑھتے ہوئے بھی میرے ذہن میں آتے ہیں۔ آپ میری اس انا کو جانتے ہیں جو دوسروں کی مدد کرتے وقت میرے اندر سر اٹھاتی ہے۔ آپ میرے ان گناہوں کے گواہ ہیں جن پر آپ نے اپنے "ستار العیوب" ہونے کی وجہ سے پردہ ڈال رکھا ہے۔
میرے پیارے رب!
کتنا بڑا بوجھ ہے اس مصنوعی شخصیت کو برقرار رکھنے کا۔ میں تھک گیا ہوں دوسروں کی نظروں میں "اچھا" بنتے بنتے۔ کاش میں ویسا ہی بن سکوں جیسا میں نظر آتا ہوں۔ کاش میری تنہائی اتنی ہی پاکیزہ ہو جائے جتنا میرا مجمع میں ہونا ہے۔ میں لوگوں سے تو داد وصول کر لیتا ہوں، لیکن کیا آپ کے پاس میرے لیے کوئی انعام ہے؟ کیا میرا یہ ظاہر آپ کو دھوکہ دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!
اے میرے رازدار!
اس رمضان میں میرا یہ ماسک چاک کر دے۔ مجھے اندر سے صاف کر دے۔ مجھے دکھاوے کی نیکی سے بچا اور گمنامی کے اخلاص کی لذت عطا کر۔ مجھے ایسا بنا دے کہ جب کل قیامت کے دن سب پردے اٹھ جائیں، تو مجھے آپ کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
میرے اللہ! میں دنیا کا نہیں، صرف آپ کا بننا چاہتا ہوں۔ مجھے میرے اصل سے ملا دے۔
فقط۔
آپ کا وہ بندہ، جس کے عیبوں پر آپ کے پردے کا احسان ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں