اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت ۱۵۳ میں فرمایا:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ یعنی "اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد مانگو۔" یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جب زندگی میں مشکل آئے تو گھبراہٹ کا نہیں، اللہ کی طرف لوٹنے کا وقت ہے۔ صبر کا مطلب خاموش بیٹھنا نہیں بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے ڈٹے رہنا ہے، اور نماز وہ ذریعہ ہے جو بندے کو اپنے رب سے جوڑے رکھتی ہے۔
جب مشکل میں صبر کریں تو اللہ نعمتیں بھی عطا کرتا ہے، اور نعمت ملنے پر شکر ادا کرنا لازم ہے۔ سورۃ ابراہیم کی آیت ۷ میں اللہ نے فرمایا: لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ یعنی "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔" یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ شکر صرف زبان سے "الحمدللہ" کہنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا اصل شکر ہے۔
اور جب انسان کو لگے کہ مشکلیں ختم ہی نہیں ہوں گی، اندھیرا بہت گہرا ہے، تو اللہ نے سورۃ الشرح میں دو بار فرمایا: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا یعنی "بے شک تکلیف کے ساتھ آسانی ہے۔" ایک بار نہیں، دو بار گویا اللہ اپنے بندے کو تسلی دے رہا ہو کہ یقین رکھو، آسانی آ کر رہے گی۔ ان تینوں آیات کو ملا کر دیکھیں تو زندگی گزارنے کا مکمل طریقہ سامنے آ جاتا ہے مشکل میں صبر، نعمت میں شکر، اور ہر حال میں اللہ پر یقین۔ یہی مومن کی پہچان ہے اور یہی کامیابی کا راز ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں