خالد سیف اللہ موتیہاری
نوجوانی انسانی زندگی کا سب سے اہم اور نازک مرحلہ ہے۔ یہ وہ عمر ہے جس میں انسان کی جسمانی، ذہنی، اور روحانی قوتیں اپنی انتہا کو پہنچتی ہیں۔ ایک نوجوان کی سوچ میں وسعت، ارادوں میں پختگی، اور عمل میں توانائی ہوتی ہے۔ وہ خواب دیکھتا ہے، ان خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت کرتا ہے، اور اگر درست راہ پر ہو تو نہ صرف اپنی زندگی سنوار لیتا ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک مثبت تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔ لیکن یہی نوجوانی، جو ایک بیش قیمت نعمت ہے، اگر بے راہ روی کا شکار ہو جائے تو انسان کے لیے سب سے بڑی آزمائش میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب نفس، جذبات، اور اردگرد کے حالات انسان کو یا تو بلندی کی طرف لے جاتے ہیں یا پستی میں گرا دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔ دنیا کی یہ مختصر زندگی دراصل ایک امتحان ہے جس میں ہر فرد کو آزمایا جا رہا ہے۔ جوانی کا دور اس امتحان کا سب سے اہم مرحلہ ہے، کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب انسان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو کس راہ میں استعمال کرے گا۔ ایک نیک اور باشعور نوجوان اپنی طاقت، علم، اور وقت کو تعمیری کاموں میں لگاتا ہے، جبکہ ناسمجھ نوجوان جذبات کے دھارے میں بہہ کر اپنی زندگی برباد کر لیتا ہے۔
قرآن و حدیث میں نوجوانوں کی اہمیت پر بارہا روشنی ڈالی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے نوجوانوں کو ہمیشہ ایک مثبت اور تعمیری زندگی گزارنے کی ترغیب دی۔ آپﷺ کی صحبت میں رہنے والے نوجوان جیسے حضرت علیؓ، حضرت اسامہؓ، حضرت معاذؓ، اور دیگر صحابہؓ نے اپنی جوانی کو اللہ کی راہ میں وقف کر دیا۔ انہوں نے علم حاصل کیا، دین کی خدمت کی، اور اپنے کردار سے دنیا کے لیے مثال قائم کی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نام کو قیامت تک کے لیے روشن کر دیا۔
لیکن اگر ہم آج کے نوجوانوں کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک افسوسناک منظر نظر آتا ہے۔ آج کا نوجوان بے مقصدیت، سوشل میڈیا کی لت، غیر ضروری تفریحات، اور نفس پرستی میں مبتلا ہو چکا ہے۔ اسے اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کا علم نہیں، اور وہ صرف وقتی خواہشات کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ یہی وہ آزمائش ہے جس میں آج کا نوجوان مبتلا ہے۔ وہ جو کچھ بھی دیکھتا ہے، اس کا اثر فوراً قبول کر لیتا ہے۔ اگر ماحول اچھا ہو، تو وہ ترقی کرتا ہے، لیکن اگر ماحول بگڑا ہوا ہو تو وہ بھی بگڑ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے نوجوانوں کو خاص ہدایات دی ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو کس طرح گزاریں۔ سب سے پہلے، ایک نوجوان کو اپنی شناخت کا شعور ہونا چاہیے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے، اور اسے اسی کے احکام کے مطابق زندگی گزارنی ہے۔ اگر یہ شعور مضبوط ہو جائے، تو کوئی بھی گمراہی اسے بہکا نہیں سکتی۔ دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ نوجوان کو اپنے وقت کی قدر کرنی چاہیے۔ وقت دنیا کی سب سے قیمتی متاع ہے، اور جو نوجوان اپنا وقت ضائع کر دیتا ہے، وہ حقیقت میں اپنی زندگی ضائع کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو نوجوان اپنے وقت کو علم، عبادت، اور تعمیری سرگرمیوں میں صرف کرتا ہے، وہی کامیاب ہوتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے ایک اور بڑی آزمائش ان کے جذبات ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب انسان کے اندر مختلف خواہشات اور کشش پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ ان جذبات پر قابو پا لے، تو وہ ایک مضبوط شخصیت کا مالک بن جاتا ہے، لیکن اگر وہ ان کے بہاؤ میں بہہ جائے، تو وہ برباد ہو جاتا ہے۔ اسی لیے دین ہمیں صبر، استقامت، اور ضبطِ نفس کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان اپنے نفس پر قابو پا لے اور حرام چیزوں سے بچے، تو وہ اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل کرتا ہے۔
اسی طرح، نوجوانوں کے لیے سب سے اہم چیز ایک اچھی صحبت کا انتخاب ہے۔ ایک نوجوان کا مستقبل اس کے دوستوں پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر اس کے دوست نیک، صالح، اور تعلیم یافتہ ہوں، تو وہ بھی ترقی کرے گا۔ لیکن اگر اس کے دوست غلط راستے پر ہوں، تو وہ بھی ان کے ساتھ بہک جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نوجوانی کی یہ طاقت، یہ توانائی ہمیشہ باقی نہیں رہے گی۔ ایک دن یہ ختم ہو جائے گی، اور انسان کو اپنی زندگی کا حساب دینا ہوگا۔ جو نوجوان اپنی جوانی کو اللہ کے راستے میں گزارتا ہے، وہ آخرت میں کامیاب ہوگا، جبکہ جو اس قیمتی وقت کو ضائع کر دیتا ہے، وہ بعد میں پچھتاتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر انسان سے اس کی جوانی کے بارے میں سوال کرے گا کہ اسے کہاں صرف کیا۔ اگر ہمارے پاس کوئی اچھا جواب نہ ہوا، تو ہم خسارے میں ہوں گے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں