خالد سیف اللہ موتیہاری
بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے والدین اور بزرگ اس دور میں آنکھ کھولتے جہاں زندگی کا زیادہ حصہ ایک اسکرین کے آگے گزرتا ہے، تو شاید وہ حیرت سے زیادہ تشویش کا شکار ہوتے۔ ان کے زمانے میں گفتگو میں وقار تھا، اختلاف میں شائستگی تھی اور رشتوں میں برداشت۔ آج سوشل میڈیا نے ہر اس قدر کو دھیرے دھیرے کھا لیا ہے جو معاشرے کی بنیاد ہوا کرتی تھی۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ رابطے آسان کرے گا، فاصلے ختم کرے گا، مگر ہوا اس کے برعکس یہ ہمیں جوڑنے نہیں، بانٹنے لگا ہے۔
سوشل میڈیا کا المیہ یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنی پسند کے خول میں قید کر دیتا ہے۔ وہی خبریں، وہی رائے، وہی نظریات ایک ایسا دائرہ جس کے اندر سب کچھ ہمارے مزاج کے مطابق ہے، اور باہر ہر شخص غلط، مخالف یا کم عقل دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ دھوکہ ہے جو آج معاشرتی تقسیم کو سب سے زیادہ ہوا دے رہا ہے۔ بات رائے کے اختلاف سے شروع ہوتی ہے اور دشمنی کی شدت تک جا پہنچتی ہے۔ اسکرین پر ہونے والی تلخی دل میں اتر جاتی ہے اور انسان دوسروں کو انسان سمجھنے کے بجائے "اپوزیشن" کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔
صحافت کے زمانۂ آغاز میں ہمیں سکھایا جاتا تھا کہ سچ وقت لیتا ہے اور جھوٹ لمحوں میں دوڑتا ہے۔ سوشل میڈیا نے یہ سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ ایک غلط تصویر، نیم سچ پر مبنی ویڈیو، یا کسی جذباتی جملے کا اس قدر اثر ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ لمحوں میں دو حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ سچ بعد میں تھکا ہوا آتا ہے، لیکن تب تک لوگوں کے دلوں میں شکوک اپنی جڑیں مضبوط کر چکے ہوتے ہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہنے لگے ہیں جہاں خبر وہ ہے جو نظر آئے، اور نظر وہی آتا ہے جو ہمیں دکھایا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ نقصان نوجوان نسل نے اٹھایا ہے۔ وہ نسل جس کی تربیت کتابوں اور تجربوں سے ہونی چاہیے تھی، وہ اب اسکرین اور الگورتھم کے حوالے ہے۔ انہیں معلوم ہی نہیں کہ رائے دینا اور رائے تھوپ دینا دو الگ باتیں ہیں۔ وہ بے تابی میں ہر سنجیدہ معاملے کو ہلکے پھلکے مذاق یا غصے کے ساتھ نمٹاتے ہیں، جو معاشرتی رویّوں کو بے توازن کرتا جا رہا ہے۔ ان کے ہاتھ میں طاقت تو بے پناہ ہے، مگر رہنمائی نہ ہونے کے برابر۔
رشتوں کا ٹوٹنا سب سے اذیت ناک پہلو ہے۔ پہلے غلط فہمی سامنے بیٹھ کر دور کی جاتی تھی، اب “آن ریڈ چھوڑ دینا” بدلے کا نیا طریقہ ہے۔ پہلے دل دکھنے پر مل بیٹھ کر گفتگو ہوتی تھی، اب ایک پوسٹ، ایک تبصرہ یا ایک شیئر سالوں کی محبت میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔ سوشل میڈیا نے تعلقات کو نازک بنا دیا ہے، جیسے ہلکی سی ہوا بھی انہیں جھنجھوڑ دیتی ہے۔ انسان اب انسان کو کم اور اس کی آن لائن سرگرمی کو زیادہ پرکھنے لگا ہے۔
ذمہ داری کا بحران ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ہم بغیر سوچے سمجھے ہر بات آگے بڑھا دیتے ہیں، بغیر تحقیق کے ہر بات پر یقین کر لیتے ہیں، اور بغیر ضرورت کے ہر اختلاف پر ردعمل دے ڈالتے ہیں۔ مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، ہمارا رویہ ہے۔ پلیٹ فارم تو محض ایک ذریعہ ہے، مگر اس ذریعے کو ہم نے غصے، انا، جلد بازی اور بے حوصلگی سے آلودہ کر دیا ہے۔
حل کسی پیچیدہ نظام میں نہیں، انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں اپنی رفتار ذرا کم کرنی ہوگی، جملہ لکھنے سے پہلے دل سے پوچھنا ہوگا کہ کیا یہ کسی کے لئے تکلیف دہ تو نہیں؟ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ اسکرین کے پیچھے بھی ایک انسان بیٹھا ہوتا ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں