تجزیہ نگار: خالد سیف اللہ موتیہاری
تاریخ کبھی کبھی ایسے لمحات کو محفوظ کر لیتی ہے جو نسلوں تک سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ بابری مسجد کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ایک ایسا باب جو ہندوستان کی تاریخ میں ایک گہرے زخم کی طرح موجود ہے۔ یہ محض ایک عمارت کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ عقیدے، شناخت اور قومی یکجہتی کےتصور کا امتحان تھا۔ آج جب ہم اس واقعے کو ماضی کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا ہم نے اس تلخ تجربے سے کوئی سبق سیکھا؟
بابری مسجد کی کہانی 1528 سے شروع ہوتی ہے جب مغل فرمانروا بابر کے دور میں اودھ میں یہ مسجد تعمیر کی گئی۔ صدیوں تک یہ عبادت گاہ مسلمانوں کی روحانی زندگی کا حصہ رہی۔ لیکن برطانوی دور میں جب فرقہ وارانہ تقسیم کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، اس مقام کو لے کر تنازع نے جنم لیا۔ 1949 میں مسجد کے اندر مورتیاں رکھ دی گئیں اور اسے تالے لگا دیے گئے یہ وہ نقطہ آغاز تھا جہاں سے ایک طویل قانونی اور سیاسی جنگ کا آغاز ہوا۔
عدالتی کارروائیاں دہائیوں تک جاری رہیں۔ مختلف فریقین نے اپنے دعوے پیش کیے، تاریخی شواہد اور مذہبی عقائد کو بنیاد بنایا۔ 1992 میں جب مسجد کو منہدم کیا گیا تو پورا ملک جل اٹھا۔ فسادات کی لہر نے ہزاروں بے گناہوں کی جانیں لے لیں اور معاشرے میں ایک ایسی دراڑ پیدا ہو گئی جو برسوں تک مندمل نہ ہو سکی۔ 2019 میں سپریم کورٹ نے اپنا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر کی اجازت دی اور مسلمانوں کو متبادل زمین فراہم کرنے کا حکم دیا۔
یہ فیصلہ قانونی طور پر تو ایک اختتام تھا، لیکن معاشرتی اور جذباتی سطح پر سوالات آج بھی موجود ہیں۔ مسلم برادری کے لیے یہ ایک تلخ حقیقت تھی کہ صدیوں پرانی عبادت گاہ کی جگہ پر اب ایک مندر کھڑا ہو رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس فیصلے کو قبول کیا، امن کی خاطر، لیکن دل کے کسی کونے میں یہ احساس ضرور رہا کہ انصاف کی تعریف میں کہیں نہ کہیں ایک خلا رہ گیا۔
سیاسی جماعتوں نے اس مسئلے کو انتخابی سیاست کا حصہ بنایا۔ بعض نے اسے ہندو قوم پرستی کی علامت قرار دیا تو بعض نے سیکولر اقدار کا راگ الاپا۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کے جذبات کو بھڑکایا گیا، نفرت کی آگ کو ہوا دی گئی، اور سیاسی مفادات کے لیے فرقہ واریت کا استعمال کیا گیا۔ یہ صرف بابری مسجد کا مسئلہ نہیں تھا یہ ایک پورے دور کی سیاست کا عکس تھا جہاں مذہب کو ہتھیار بنایا گیا۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر اس واقعے کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 1992 کے فسادات نے برادریوں کے درمیان اعتماد کی دیوار کو منہدم کر دیا۔ خوف اور بدگمانی نے جگہ بنائی۔ آج بھی بہت سے خاندانوں میں وہ داغ موجود ہیں جو اس آگ نے چھوڑے تھے۔ معاشرے کی تقسیم صرف جغرافیائی نہیں تھی، بلکہ نفسیاتی بھی تھی لوگ دوسرے کو "اپنا" نہیں، بلکہ "دوسرا" سمجھنے لگے۔
لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ زخم بھرتے ہیں، اگر انہیں کریدا نہ جائے۔ آج ہندوستان کو ضرورت ہے کہ وہ آگے بڑھے، ماضی کے بوجھ تلے دبے بغیر۔ مختلف مذاہب اور عقائد کا احترام کرنا ہی اس ملک کی اصل طاقت ہے۔ بابری مسجد کا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نفرت کتنی بڑی قیمت وصول کرتی ہےجانوں کی، عزت کی، اور اجتماعی ضمیر کی۔
مستقبل کی راہ صرف قانون کے احترام میں نہیں، بلکہ انسانیت کے احترام میں ہے۔ ہر فریق کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس ملک میں رہنے والے تمام لوگ برابر کے شہری ہیں۔ کسی کی عبادت گاہ کی بے حرمتی، کسی کے عقیدے کی توہین یہ صرف ایک برادری کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی شکست ہے۔ قومی یکجہتی کا مطلب یہ نہیں کہ سب ایک ہی رنگ میں رنگ جائیں، بلکہ یہ کہ مختلف رنگوں کو قبول کیا جائے اور ان کی حفاظت کی جائے۔
تاریخ سے سبق لینا آسان نہیں، خاص طور پر جب وہ تلخ ہو۔ لیکن اگر بابری مسجد کا سانحہ ہمیں کچھ سکھاتا ہے تو یہ کہ مذہب کو سیاست سے الگ رکھنا کتنا ضروری ہے، اور یہ کہ فرقہ واریت کی آگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا سب جلتے ہیں۔ آج کی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ نفرت کی میراث کو آگے نہ بڑھائے، بلکہ محبت اور باہمی احترام کی نئی روایات قائم کرے۔
یہ وقت ماضی کو دفن کرنے کا نہیں، بلکہ اس سے سیکھتے ہوئے ایک بہتر مستقبل تعمیر کرنے کا ہے ایک ایسا ہندوستان جہاں ہر شخص محفوظ محسوس کرے، جہاں عبادت گاہیں عزت کی علامت ہوں، اور جہاں قانون کے ساتھ ساتھ انصاف بھی نظر آئے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں