واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

بہار کا انتخابی منظرنامہ ایک فکری و سماجی تجزیہ

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...


خالد سیف اللہ موتیہاری 

بہار میں ایک بار پھر انتخابی موسم لوٹ آیا ہے۔ دیہاتوں کے چوراہوں سے لے کر شہروں کے چائے خانوں تک، ہر سمت سیاست کی گونج سنائی دیتی ہے۔ دیواروں پر رنگین پوسٹر چمک رہے ہیں، گلیوں میں جلوسوں کا شور ہے، اور فضا وعدوں، دعووں اور نعرہ بازی سے بوجھل ہے۔ یہ منظر جمہوری عمل کی علامت بھی ہے اور کسی حد تک ایک اجتماعی تماشا بھی، جس میں عوام کے خواب، محرومیاں اور امیدیں پھر سے سیاست کے بازار میں نیلام ہو رہی ہیں۔

بہار ہمیشہ سے سیاسی شعور کی سرزمین رہی ہے۔ یہی وہ دھرتی ہے جہاں سے لوک نائک جے پرکاش نارائن نے سمپورن کرانتی کا نعرہ بلند کیا تھا۔ مگر آج اسی خطے میں جمہوریت کا چہرہ صرف ریلیوں، وعدوں، اور ووٹ بینک کی سیاست تک محدود ہو چکا ہے۔ عوامی شعور کو بیدار کرنے کے بجائے اسے محض رائے دہی کے دن تک مقید کر دیا گیا ہے۔ آج کا منظرنامہ نہ صرف فکر انگیز بلکہ تشویش ناک بھی ہے۔ سیاسی جماعتیں گلی گلی ووٹ مانگتی ہیں مگر ان کے ہاتھوں میں منشور نہیں، نوٹوں کی گڈیاں ہیں۔ ووٹر کو شہری نہیں بلکہ خریدار سمجھ لیا گیا ہے۔ ووٹ ایک جنس بن گیا ہے جس کی قیمت طے کی جاتی ہے۔ یہ صورت حال جمہوریت کے تدریجی زوال کی علامت ہےایک ایسا زوال جس میں عوامی شعور کو دانستہ کمزور رکھا جا رہا ہے تاکہ سوال اٹھانے کی ہمت باقی نہ رہے۔

بہار کے انتخابات ہمیشہ ذات پات، مذہب اور علاقائی تعصبات کے سہارے لڑے گئے ہیں۔ نعرے بدلتے ہیں، لیڈر بدلتے ہیں، مگر سیاست کی بنیاد وہی رہتی ہے۔ کوئی "غریبوں کی حکومت" کا دعویٰ کرتا ہے، کوئی "ترقی کے ماڈل" کا، مگر زمین پر حقیقت کچھ اور ہے اسکولوں کی دیواریں اب بھی ٹوٹی ہوئی ہیں، اسپتالوں میں دوائیں نہیں، اور نوجوان روزگار کی تلاش میں پردیسوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ “ہم روزگار دیں گے” جیسے نعرے اب عوام کے لیے نئے نہیں رہے، کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ یہ وعدے ہر انتخاب کے بعد ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ برسوں میں ترقی کی بہت باتیں ہوئیں، مگر بہار کی سماجی و معاشی حالت اب بھی کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے۔ تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی شعبے سیاسی ترجیحات کی فہرست میں پیچھے ہیں۔ عوام کو معمولی مالی امداد دے کر وقتی راحت پہنچانے کو “ترقی” کا نام دیا جاتا ہے۔ دراصل یہ عوامی ذہن کی سیاست ہے لوگوں کو وقتی فائدوں کی لذت میں مبتلا رکھنا تاکہ وہ اصل سوالات، جیسے انصاف، شفافیت اور اصلاح، بھول جائیں۔

ایک سنجیدہ مبصر کے لیے بہار کا انتخابی منظر ایک آئینہ بھی ہے اور انتباہ بھی۔ آئینہ اس لیے کہ یہ بتاتا ہے کہ ہماری جمہوریت کی حالت کیا ہے، اور انتباہ اس لیے کہ اگر یہی روش جاری رہی تو ووٹ کی حرمت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جائے گی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بہار کے لوگ، بالخصوص نوجوان، سیاست کو محض پارٹی یا لیڈر کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ ایک اخلاقی اور فکری ذمہ داری کے طور پر سمجھیں۔ ووٹ صرف حق نہیں بلکہ امانت ہے ایک عہد کہ ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ شعور کے ساتھ کر رہے ہیں۔ اگر ہم ذات، مذہب یا دولت کے لالچ میں اپنی رائے بیچ دیتے ہیں، تو دراصل ہم اپنے کل کو گروی رکھ دیتے ہیں۔

جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ جواب دہی کا نظام ہے۔ جب تک عوام سوال نہیں کریں گے، حکمران سنجیدہ جواب نہیں دیں گے۔ بہار کو اپنے ماضی کی فکری عظمت یاد کرنی چاہیے وہی بہار جس نے گوتم بدھ کو جنم دیا، چانکیہ کو سیاسی بصیرت دی، اور جے پرکاش نارائن کو انقلاب کا خواب۔ یہ زمین سوچنے، بولنے اور بدلنے کی سرزمین ہے، نہ کہ محض ووٹ ڈالنے کی۔

اس انتخاب کا اصل امتحان سیاست دانوں کا نہیں بلکہ عوام کا ہے۔ کیا وہ شعور سے ووٹ دیں گے یا مجبوری سے؟ کیا وہ وقتی فائدے کے بجائے طویل المدت اصلاح کو ترجیح دیں گے؟ اور کیا وہ ایک ایسی سیاست کی بنیاد رکھیں گے جو انسان کو مرکز میں رکھتی ہو، نہ کہ برادری، مذہب یا دولت کو؟

اگر بہار کا ووٹر اپنے ووٹ کی قیمت پہچان لے تو یہ انتخاب صرف ایک حکومت نہیں بلکہ تاریخ بدل سکتا ہے۔ مگر اگر وہ پھر سے نعروں، نوٹوں اور ذات پات کے جال میں پھنس گیا تو یہ موقع بھی ضائع ہو جائے گا۔

بہار کے موجودہ انتخابات دراصل ہندوستانی جمہوریت کے اس نازک موڑ کی علامت ہیں جہاں سیاست خدمت سے زیادہ منافع کا کاروبار بن چکی ہے۔ مگر اگر عوام بیدار ہو جائیں، تو یہی انتخاب نئی فکری بیداری کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔

تبدیلی کبھی باہر سے نہیں آتی، وہ اندر سے جنم لیتی ہے۔ اگر بہار کے لوگ اپنے اندر اس تبدیلی کی خواہش پیدا کر لیں، تو یہی زمین ایک بار پھر فکری انقلاب کی جنم بھومی بن سکتی ہے وہی بہار جو کبھی ہندوستان کی فکری روشنی کا سرچشمہ تھی، دوبارہ امید کی شمع بن سکتی ہے۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے