خالد سیف اللہ موتیہاری
انسان کی شخصیت اور اس کے اعمال پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے عوامل میں سے ایک اس کے دوست اور اس کی صحبت ہیں۔ زندگی میں کامیابی اور ناکامی، نیکی اور بدی، فلاح اور تباہی کا دارومدار بڑی حد تک اس بات پر ہوتا ہے کہ انسان کن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، ان سے کیا سیکھتا ہے اور ان کی صحبت اس کی سوچ اور کردار پر کیا اثر ڈالتی ہے۔ تاریخ، نفسیات، اور دین—ہر زاویے سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ دوستوں کا انتخاب انسانی زندگی کی سب سے اہم ترجیحات میں سے ایک ہے۔
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بار بار یہ تاکید ملتی ہے کہ انسان اپنی صحبت پر خاص توجہ دے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور صادقین کے ساتھ رہو۔" (التوبہ: 119) اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے: "اور اس شخص کی پیروی نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا، اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہا ہے، اور جس کا معاملہ حد سے بڑھ چکا ہے۔" (الکہف: 28) ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کو نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے اور برے لوگوں سے دور رہنا چاہیے، کیونکہ صحبت ہی انسان کی سوچ اور اس کے طرزِ زندگی کا رخ متعین کرتی ہے۔
حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوست کے اثر کو ایک خوبصورت مثال کے ذریعے بیان فرمایا: "اچھے اور برے دوست کی مثال مشک بیچنے والے اور لوہار کی بھٹی جیسی ہے۔ مشک بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو دے گا، یا تم اس سے خوشبو خرید سکو گے، یا کم از کم تمہیں اچھی خوشبو محسوس ہوگی۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے کپڑے جلا دے گی یا تمہیں بدبو محسوس ہوگی۔" (بخاری و مسلم) یہ حدیث انسانی زندگی کی ایک بنیادی حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ صحبت کا اثر نہ صرف ظاہر ہوتا ہے بلکہ یہ بتدریج انسان کے مزاج، کردار، اور اس کے اعمال پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
جدید نفسیاتی تحقیق بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ انسان کا طرزِ فکر اور اس کے فیصلے زیادہ تر اس کے قریبی دوستوں اور حلقۂ احباب سے متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق، اگر کوئی شخص اپنے ارد گرد مثبت، محنتی، اور باکردار افراد کو رکھے، تو اس کے اندر بھی یہی صفات پروان چڑھتی ہیں۔ برعکس اس کے، اگر اس کی صحبت منفی سوچ رکھنے والے، وقت ضائع کرنے والے، اور برے اعمال میں ملوث افراد پر مشتمل ہو، تو اس کے اندر بھی ویسی ہی خصوصیات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اس لیے، زندگی میں صحیح راستہ اپنانے کے لیے ضروری ہے کہ دوستوں کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط برتی جائے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے بڑے مصلحین، اہل علم، اور کامیاب افراد نے اپنی کامیابی میں صحبت کے اثر کو بنیادی حیثیت دی ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں: "اگر تم نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھو گے، تو تمہیں بھی نیکی کی توفیق ملے گی، اور اگر تم برے لوگوں کے ساتھ بیٹھو گے، تو برائی تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔" یہی حقیقت ہم صحابہ کرامؓ کی زندگی میں دیکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنے والے صحابہؓ نہ صرف عظیم شخصیات بنے، بلکہ وہ دنیا کے بہترین رہنما ثابت ہوئے۔ ان کا ایمان، ان کی اخلاقی قوت، اور ان کے کردار کی مضبوطی اس صحبت کا نتیجہ تھی جس میں وہ پروان چڑھے۔
صحبت کے اثرات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ بعض اوقات انسان شعوری طور پر محسوس بھی نہیں کر پاتا کہ وہ کس راستے پر جا رہا ہے۔ بسا اوقات، ایک چھوٹا سا غلط فیصلہ—مثلاً کسی برے دوست کے ساتھ وقت گزارنا—زندگی کو ایسے موڑ پر لے آتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ برے دوست شیطان کے جال کی طرح ہوتے ہیں، جو بظاہر دلچسپ اور خوشگوار نظر آتے ہیں، لیکن اندر سے تباہ کن ہوتے ہیں۔
نوجوانی میں دوستوں کا انتخاب سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جب انسان کا ذہن اثر قبول کرنے کے لیے سب سے زیادہ تیار ہوتا ہے۔ اگر اس مرحلے میں انسان اپنے دوستوں کے انتخاب میں لاپرواہی برتے، تو یہ اس کے مستقبل کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اکثر لوگ جو غلط راستے پر چلے جاتے ہیں، وہ ابتدا میں صرف غلط صحبت کی وجہ سے ہی اس راہ پر آتے ہیں۔
اچھی صحبت نہ صرف انسان کی شخصیت کو سنوارتی ہے بلکہ یہ اسے مشکلات کے وقت میں بھی سہارا دیتی ہے۔ نیک دوست وہی ہوتا ہے جو برے وقت میں انسان کا حوصلہ بڑھائے، اسے گناہوں سے روکے، اور اسے حق کی راہ پر ثابت قدم رکھے۔ برعکس اس کے، برے دوست مشکلات میں مزید مشکلات کا باعث بنتے ہیں اور بعض اوقات انسان کو ایسے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں جہاں سے نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں