خالد سیف اللہ موتیہاری
عقیدہ انسان کی زندگی کا بنیادی ستون ہے، جس پر اس کی پوری شخصیت، کردار اور آخرت کی کامیابی کا دار و مدار ہوتا ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو انسان کی سوچ، نظریات اور اعمال سب صحیح سمت میں ہوتے ہیں، اور اگر اس میں بگاڑ آ جائے تو انسان کا پورا نظام زندگی متاثر ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام نے سب سے پہلے لوگوں کے عقیدے کی اصلاح کی اور توحید کی دعوت دی، تاکہ وہ اللہ کے علاوہ کسی کو معبود نہ مانیں اور اپنے نظریات کو ہر طرح کے باطل خیالات سے پاک رکھیں۔
آج کے دور میں عقیدے اور نظریات میں بگاڑ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو مختلف ذرائع سے نوجوانوں کے ذہنوں میں سرایت کر رہا ہے۔ علم کی کمی، غلط صحبت، غیر اسلامی نظریات، میڈیا کے منفی اثرات اور بدعات کی آمیزش نے بہت سے لوگوں کے عقائد کو متزلزل کر دیا ہے۔ کچھ لوگ دین کے نام پر انتہا پسندی کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ کچھ الحاد اور مذہب بیزاری کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ ان کے عقیدے میں بگاڑ آ چکا ہے، کیونکہ وہ اپنے نظریات کو درست سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ یہی چیز سب سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ جب انسان کو اپنی گمراہی کا احساس ہی نہ ہو تو وہ اصلاح کی کوشش بھی نہیں کرتا۔
عقیدے میں بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ علم کی کمی ہے۔ بہت سے لوگ دینی مسائل کو تحقیق کے بغیر قبول کر لیتے ہیں اور سنی سنائی باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ قرآن و حدیث کا براہِ راست مطالعہ نہیں کرتے اور نہ ہی مستند علمائے کرام سے رہنمائی لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے عقیدے میں آہستہ آہستہ غلط نظریات شامل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح غلط صحبت بھی عقیدے میں بگاڑ پیدا کرنے کا ایک بڑا سبب ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کے درمیان رہے جو دین میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں، غلط تاویلات پیش کرتے ہیں اور اسلام کو صرف ایک روایتی مذہب سمجھتے ہیں، تو اس کے عقائد پر بھی ان کی صحبت کا اثر پڑتا ہے۔
مغربی نظریات اور فلسفے بھی نوجوانوں کے عقیدے پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ سیکولرازم، الحاد، مادہ پرستی، فری تھنکنگ اور انسانی آزادی کے نام پر دین سے بغاوت کے خیالات نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ انہیں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ دین کو ذاتی زندگی تک محدود رکھنا چاہیے اور دنیاوی ترقی کے لیے مذہبی نظریات سے آزاد ہونا ضروری ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے دور ہو رہے ہیں اور ایک ایسی فکری الجھن میں مبتلا ہو چکے ہیں جس میں انہیں سچ اور جھوٹ کی تمیز بھی نہیں رہی۔
میڈیا اور انٹرنیٹ نے عقائد کے بگاڑ میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر ایسے خیالات پھیلائے جا رہے ہیں جو اسلامی عقائد سے متصادم ہیں۔ کچھ لوگ دین کے احکام کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، جبکہ کچھ کھلے عام اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے ان نظریات کو پرکھنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ہر بات پر تحقیق نہیں کرتے اور بغیر کسی تصدیق کے ان خیالات کو قبول کر لیتے ہیں۔
بدعات اور خود ساختہ عقائد بھی امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ بہت سے لوگ دین میں نئی چیزیں شامل کر دیتے ہیں اور انہیں اسلام کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ بدعات اتنی عام ہو جاتی ہیں کہ لوگ ان پر عمل کو دین داری سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ دین میں اضافے کے مترادف ہوتے ہیں، جن سے نبی کریم ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ جب لوگ اصل دین سے ہٹ کر خود ساختہ نظریات اپنا لیتے ہیں تو ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ دین کی اصل روح سے محروم ہو جاتے ہیں۔
عقیدے کے بگاڑ کے اثرات انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا نقصان ایمان کی کمزوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب انسان کے نظریات میں بگاڑ آ جائے تو وہ دین کے بنیادی اصولوں کو بھی شک کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے اور اس کا یقین متزلزل ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ پر توکل اور ایمان کی قوت سے محروم ہو کر دنیاوی اسباب پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد اعمال میں خرابی پیدا ہوتی ہے، کیونکہ عقیدہ اگر صحیح نہ ہو تو اعمال بھی بے کار ہو جاتے ہیں، چاہے وہ بظاہر کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں۔ اسی لیے قرآن مجید میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص شرک کرے تو اس کے تمام اعمال ضائع ہو جائیں گے۔
عقیدے میں بگاڑ کا ایک اور بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے انسان کی دنیا اور آخرت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ دنیا میں وہ ذہنی سکون اور قلبی اطمینان سے محروم ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کا نظریہ واضح نہیں ہوتا اور وہ ہمیشہ شک و شبہات میں مبتلا رہتا ہے۔ آخرت میں اسے اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا، کیونکہ غلط عقیدے کے ساتھ کیے گئے اعمال اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ عقیدے کے بگاڑ سے بچنے کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے انسان کو چاہیے کہ وہ صحیح دینی علم حاصل کرے اور اپنے عقائد کو قرآن و حدیث کی روشنی میں پرکھے۔ جو شخص دین کو سمجھ کر پڑھے گا، وہ گمراہی سے محفوظ رہے گا اور کسی بھی باطل نظریے کے دھوکے میں نہیں آئے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ نیک اور صالح لوگوں کی صحبت اختیار کرنا بھی بہت ضروری ہے، کیونکہ اچھے دوست انسان کی سوچ اور نظریات کو مثبت سمت میں لے کر جاتے ہیں۔
میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلنے والے غلط نظریات سے بچنے کے لیے محتاط رہنا بھی بے حد ضروری ہے۔ ہر بات پر فوراً یقین کرنے کے بجائے اس کی تحقیق کرنی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر کسی مسئلے میں شبہ ہو تو مستند علمائے کرام سے رجوع کرنا چاہیے، تاکہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
سب سے بڑھ کر دعا اور اللہ سے مدد طلب کرنا چاہیے، کیونکہ ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نبی کریم ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ بھی اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور اللہ سے ہمیشہ صحیح راستے پر قائم رہنے کی توفیق مانگے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں