مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج گیارہواں روزہ ہے اور مغفرت کے عشرے کی پہلی صبح۔ میں نے سنا ہے کہ یہ عشرہ آپ کی بخشش کا ہے، اور بخشش کا حقدار وہی ہے جو اپنی اصلاح کی تڑپ رکھتا ہو۔ اسی لیے آج میں آپ سے اپنے اس عضو کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، جو کہنے کو تو گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، لیکن اس کے وار تیر و نشتر سے زیادہ گہرے ہیں۔
میرے اللہ!
کتنا بڑا تضاد ہے کہ میں روزے کی حالت میں حلق کی پیاس بجھانے کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی نیچے نہیں اتارتا، کیونکہ مجھے آپ کا حکم یاد ہوتا ہے۔ لیکن افسوس! کہ اسی زبان سے میں غیبت کے زہریلے گھونٹ بھرتا ہوں، جھوٹ کی کڑواہٹ پھیلاتا ہوں اور اپنے جملوں سے لوگوں کے دلوں کو چھلنی کر دیتا ہوں۔ میں نے پیٹ کا روزہ تو رکھ لیا، لیکن کیا میری زبان بھی روزے سے ہے؟ میں نے حلال رزق سے تو کنارہ کر لیا، لیکن اپنے بھائی کا گوشت کھانے (غیبت کرنے) سے باز نہ آیا۔
میرے پیارے رب!
آج مجھے شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ میری عبادتوں کی حلاوت میری تلخ باتوں کی نذر ہو جاتی ہے۔ میں تسبیح پر آپ کا ذکر کرتا ہوں اور پھر اسی زبان سے کسی کی تضحیک کرتا ہوں۔ میرا ذکر اور میری گفتگو آپس میں میل نہیں کھاتے۔ مالک! میری زبان پر "حق" کا پہرہ لگا دے۔ مجھے وہ "خاموشی" عطا کر دے جو فضول گوئی اور فتنہ پروری سے ہزار درجہ بہتر ہو۔
اے میرے مہربان اللہ!
اس عشرہِ مغفرت میں میری زبان کی تمام لغزشوں کو معاف کر دے۔ مجھے ایسا بنا دے کہ میرے الفاظ کسی کے زخموں کا مرہم بنیں، نہ کہ نئے زخموں کا سبب۔ میری گفتگو میں وہ رقت، تاثیر اور نرمی پیدا کر دے جو آپ کے حبیب ﷺ کا شیوہ تھا۔ مجھے خاموش رہ کر اپنے عیوب دیکھنے کی توفیق دے، بجائے اس کے کہ میں اپنی چرب زبانی سے دوسروں کے عیب اچھالتا پھروں۔
میرے اللہ! آج سے میرا عہد ہے کہ میں بولنے سے پہلے یہ سوچوں گا کہ کیا میرے یہ الفاظ آپ کی بارگاہ میں پسندیدہ ہیں؟ اگر نہیں، تو مجھے "خاموشیِ جمال" کی توفیق عطا فرما۔
فقط
آپ کا وہ بندہ، جو اپنی زبان کی اصلاح کا طالب ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں