مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج چوتھا روزہ ہے۔ ابھی افطار میں کچھ وقت باقی ہے اور میں دسترخوان پر سجی نعمتوں کو دیکھ رہا ہوں۔ رنگ برنگے پھل، طرح طرح کے مشروبات اور خوشبودار کھانے، یہ سب دیکھ کر اچانک میرا دل بھر آیا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ تو کتنا کریم ہے، میں نے کل بھی تیری نافرمانی کی تھی، میں نے کل بھی تیرا حق ادا نہیں کیا تھا، لیکن آج پھر میرا دسترخوان پہلے سے زیادہ بھرا ہوا ہے۔
میرے اللہ!
ہم رزق کو صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ اصل رزق تو وہ اطمینان ہے جو تو دلوں کو عطا کرتا ہے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ شاہی دسترخوانوں پر بیٹھنے والے بے سکون ہیں اور فٹ پاتھ پر سوکھی روٹی پانی میں ڈبو کر کھانے والے تیرا شکر ادا کرتے نہیں تھکتے۔ مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں میری یہ آسائشیں میرے لیے امتحان نہ بن جائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں ان نعمتوں میں اتنا کھو جاؤں کہ 'نعمت دینے والے' کو ہی بھول جاؤں۔
میرے پیارے رب!
آج افطار کے وقت مجھے ان لوگوں کی یاد دلا دے جن کے بچے آج رات بھی خالی پیٹ سوئیں گے۔ مجھے ان ماؤں کا دکھ محسوس کرنے کی توفیق دے جو سحری میں اپنے بچوں کو لوریاں سنا کر بھوک مٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔ میرے رزق میں ان کا جو حصہ ہے، اسے میں نے اپنی انا کی تجوریوں میں بند کر رکھا ہے۔ مجھے وہ ظرف دے کہ میں بانٹنا سیکھ جاؤں۔
اے میرے رازدار!
مجھے صرف دسترخوان کا رزق نہیں چاہیے، مجھے حیا کا رزق دے، مجھے سجدوں کی لذت کا رزق دے، مجھے نیک خیالات کا رزق دے۔ میرے لقمے سے حرام کا ہر اثر نکال دے اور میری کمائی میں وہ برکت ڈال دے کہ میں لینے والے ہاتھ کے بجائے دینے والا ہاتھ بن سکوں۔
آج جب میں کھجور سے روزہ افطار کروں، تو میرے دل سے یہ گواہی نکلے کہ تو ہی پالنے والا ہے، اور میں صرف تیرا ایک عاجز مہمان ہوں۔
فقط
تیرا وہ گناہ گار بندہ، جو تیرے دسترخوان کا نمک خوار ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں