واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

نواں روزہ: سکون

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج نواں روزہ ہے۔ میں اس فانی دنیا کی بے ہنگم دوڑ اور اس کی مصنوعی رنگینیوں سے تھک کر آپ کی پناہ میں آیا ہوں۔ میرے رب! آج ہر شخص "سکون" کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ کوئی اسے مال و دولت کے انبار میں ڈھونڈ رہا ہے، کوئی آسائشوں میں، اور کوئی شہرت کی بیساکھیوں میں۔ میں بھی کتنا نادان تھا مالک! میں نے بھی سکون کو ان عارضی چیزوں میں تلاش کیا جن کا اپنا کوئی وجود، آپ کی عطا کے بغیر ممکن نہیں۔
میرے اللہ!
آج سحر کے اس پرکیف اور خاموش لمحے میں، جب کائنات کی ہر شے خوابیدہ تھی اور فضاؤں میں صرف تیری ہیبت کا پہرا تھا، میں نے اس سکون کو محسوس کیا ہے جو لفظوں کی قید میں نہیں آ سکتا۔ وہ سکون جو کسی مادی لذت میں نہیں، بلکہ سجدے کی اس تڑپ میں تھا جو بندے کو آپ کے قریب کر دیتی ہے۔ وہ اطمینان جو بینک بیلنس میں نہیں، بلکہ آپ کے سامنے فقیر بن کر ہاتھ پھیلانے میں ملا۔
میرے پیارے رب!
دنیا کا بخشا ہوا سکون تو عارضی ہے، جو حالات کی ایک ہی دستک پر رخصت ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ کا عطا کردہ سکون وہ ہے جو تلاطم خیز طوفانوں میں بھی دل کی کشتی کو ڈوبنے نہیں دیتا۔ میں کتنا نا سمجھ تھا کہ سکون کو باہر کی دنیا میں ڈھونڈتا رہا، حالانکہ آپ نے تو اسے اپنے ذکر کی مٹھاس میں چھپا رکھا تھا۔ "الَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب" (بے شک اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے)۔ یہ آیت میں نے تلاوت تو بارہا کی، لیکن اس کی حقیقی لذت سے پہلی بار اس رمضان میں آشنا ہو رہا ہوں۔
اے میرے مولا!
مجھے وہ دائمی سکون عطا کر دے جو گردشِ ایام کا محتاج نہ ہو۔ میرے دل کی بستی کو ایسا کر دے کہ باہر چاہے کتنا ہی تلاطم کیوں نہ ہو، میرے باطن میں آپ کی یاد کی شمع روشن رہے۔ مجھے اس فانی دنیا کی لایعنی بے چینیوں سے نکال کر اپنی رضا کے حصار میں پناہ دے دے۔
میرے اللہ! آج کی رات جب میں آنکھیں بند کروں، تو میرا روح اس یقین سے سرشار ہو کہ میرا رب مجھ سے راضی ہے، اور میرے لیے کائنات کا سب سے بڑا سکون بس یہی ہے۔
فقط
آپ کا وہ عاجز بندہ، جو سکون کی تلاش میں آپ کی چوکھٹ پر آن گرا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے