خالد سیف اللہ موتیہاری
زیر انجم اردو ادب اور صحافت کی دنیا میں ایک ایسا نام ہے جسے پڑھ کر ذہن میں خلوص، فکری گہرائی اور علمی وسعت کا عکس ابھرتا ہے۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف ادب کی تازگی اور تخلیق کی خوشبو موجود ہے بلکہ انسانی زندگی کے وہ پہلو بھی اجاگر ہوتے ہیں جو عام طور پر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔ عزیر انجم کے قلم کی کاٹ، مشاہدے کی گہرائی اور الفاظ کے چناؤ میں جو تاثیر ہے، وہ کسی تجربہ کار اور منجھے ہوئے ادیب کی پہچان ہے۔
ان کی پہلی کتاب "آدمی کی بستی میں" ایک افسانوی مجموعہ ہے، جو اردو ادب کے افق پر ایک روشن ستارے کی مانند نمودار ہوا۔ اس مجموعے میں سماجی مسائل، انسانی رشتوں کی نزاکت اور جذبات کی پیچیدگیوں کو اس طرح بیان کیا گیا کہ قاری ہر افسانے کے ساتھ خود کو اس کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک ادبی شاہکار ہے بلکہ اردو ادب کے لیے ایک انمول سرمایہ بھی ہے۔ ان کی دوسری کتاب "انجام"، جو 2016 میں شائع ہوئی، قارئین کی توجہ کا مرکز بنی اور بہت جلد اردو دنیا میں مقبولیت حاصل کر گئی۔ ان کے قلم کی روانی اور خیالات کی بلندی نے ان کی دونوں کتابوں کو قارئین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ دی۔
عزیر انجم کا تخلیقی سفر صرف ادب تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور 1990 سے اس شعبے میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مضامین اور خبریں ہندوستان کے مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوئیں، جنہوں نے صحافت میں معیار اور جدت کی نئی مثالیں قائم کیں۔ ان کی صحافتی خدمات کا دائرہ آل انڈیا ریڈیو پٹنہ تک بھی پھیلا ہوا ہے، جہاں ان کے 83 افسانے نشر ہوئے۔ ان کے افسانوں کی کہانی اور بیان کی مہارت سامعین کو مسحور کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، دور درشن پر ان کے معلوماتی پروگراموں نے ناظرین کی توجہ حاصل کی اور انہیں علم و آگہی کے نئے دریچے فراہم کیے۔
عزیر انجم کی تعلیمی زندگی بھی ان کی علمی شخصیت کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، پٹنہ سے فاضل اردو کی سند حاصل کی، ادارہ تحقیقات عربی و فارسی سے فاضل فارسی کی تعلیم مکمل کی، اور پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو میں فرسٹ کلاس حاصل کی۔ یہ تعلیمی پس منظر ان کی تحریروں میں موجود علمی گہرائی اور فکری وسعت کو بخوبی بیان کرتا ہے۔ ان کا ادبی اور صحافتی سفر ان کے گہرے مطالعے، علمی بصیرت اور مشاہدے کی وسعت کا مظہر ہے۔
16 مئی 1965ء کو بہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں سسونیا، مشرقی چمپارن، موتیہاری میں پیدا ہونے والے عزیر انجم کی پرورش ایک سادہ مگر علم دوست ماحول میں ہوئی۔ ان کے والد شیخ محمد سجاد حسین مرحوم اور والدہ رقیبہ خاتون مرحومہ نے ان کی تربیت میں اخلاقی اقدار اور علمی رجحانات کو نمایاں رکھا۔ گاؤں کی مٹی سے ان کی محبت اور اپنی جڑوں سے وابستگی ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔
عزیر انجم کی ادبی اور صحافتی خدمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ایک انسان اپنے قلم کی طاقت اور اپنے خلوص سے نہ صرف اپنی مٹی کی خوشبو کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا سکتا ہے بلکہ معاشرے کے لیے ایک مثال بھی بن سکتا ہے۔ ان کا کام نہ صرف اردو ادب کے قارئین کے لیے ایک سرمایہ ہے بلکہ صحافت کے میدان میں بھی ان کی خدمات ایک روشن نظیر ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ان کی تحریروں کو پڑھا جائے، سراہا جائے اور ان کی کاوشوں کو عام کیا جائے، تاکہ یہ روشنی ہمیشہ برقرار رہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں