خالد سیف اللہ موتیہاری
سوشل میڈیا، موبائل اور انٹرنیٹ آج کی دنیا میں انسانی زندگی کا ایک لازمی جز بن چکے ہیں۔ جہاں یہ جدید ٹیکنالوجیز معلومات تک رسائی، تعلیم، کاروبار، اور باہمی روابط کے لیے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہیں، وہیں ان کا غلط استعمال کئی سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی مسائل کو بھی جنم دیتا ہے۔ درست اور متوازن طریقے سے ان سہولیات سے استفادہ کرنا ہی دانشمندی ہے، کیونکہ ان کا بے جا اور غیر ذمہ دارانہ استعمال وقت کے ضیاع، ذہنی انتشار، اور فکری زوال کا سبب بن سکتا ہے۔
انٹرنیٹ نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ معلومات تک رسائی آج پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے، اور دنیا بھر کے علمی ذخائر محض چند کلکس کے فاصلے پر ہیں۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا ہے، اور موبائل ٹیکنالوجی نے زندگی کو سہل بنا دیا ہے۔ لیکن یہ تمام سہولتیں اسی وقت مفید ثابت ہو سکتی ہیں جب ان کا استعمال شعوری، محتاط اور با مقصد ہو۔ جو شخص ان ذرائع کو بغیر کسی واضح مقصد کے استعمال کرتا ہے، وہ رفتہ رفتہ ایک ایسی دلدل میں پھنس جاتا ہے جہاں وقت، صلاحیت اور فکری توانائی ضائع ہو جاتی ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر متوازن استعمال فرد کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ نیویارک یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق، مسلسل سوشل میڈیا کے استعمال سے نوجوانوں میں خود اعتمادی کی کمی، ذہنی دباؤ، اور منفی احساسات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر غیر ضروری مصروفیت، خاص طور پر رات کے اوقات میں، نیند کے مسائل پیدا کرتی ہے اور روزمرہ زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرے اور اسے صرف مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرے، جیسے علم حاصل کرنا، تعمیری مکالمہ کرنا، یا مفید معلومات دوسروں تک پہنچانا۔
موبائل فون کا استعمال بلاشبہ آج کے دور میں ناگزیر ہے، لیکن اس کا بے جا استعمال فرد کی پیداواری صلاحیت (Productivity) کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ موبائل فون اگر صرف رابطے، کاروبار، اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر اسے محض وقت گزارنے کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ بگاڑ پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مسلسل موبائل فون کا استعمال انسان کی توجہ کی صلاحیت (Attention Span) کو کم کر دیتا ہے، اور اس کے نتیجے میں فرد کی یکسوئی متاثر ہوتی ہے۔ لہٰذا، موبائل فون کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے، اور اس کے لیے دن بھر مخصوص اوقات مقرر کیے جا سکتے ہیں، تاکہ دیگر اہم سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
انٹرنیٹ معلومات کا ایک سمندر ہے، لیکن اس میں حق اور باطل، سچ اور جھوٹ، اور مفید اور مضر مواد ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ ایک باشعور شخص وہی ہوتا ہے جو انٹرنیٹ کا استعمال ایک فلٹر کی طرح کرے اور صرف وہی معلومات حاصل کرے جو اس کے لیے فائدہ مند ہوں۔ آج کے دور میں غلط معلومات (Misinformation) اور جھوٹی خبروں (Fake News) کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، اور کئی لوگ بغیر تحقیق کے ان خبروں کو آگے بڑھا دیتے ہیں، جس سے کئی سماجی اور سیاسی مسائل جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا، کسی بھی خبر یا معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی صداقت کو جانچنا ضروری ہے، تاکہ غلط فہمیوں اور افواہوں سے بچا جا سکے۔
دینی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے بھی ان ذرائع کا درست استعمال ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اگر موبائل، سوشل میڈیا، اور انٹرنیٹ کو ایسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے جو ایمان اور اخلاقیات کو نقصان پہنچانے والے ہوں، تو یہ دنیا و آخرت میں خسارے کا سبب بن سکتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: "اور جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو، اس کے پیچھے نہ چلو۔ بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں باز پرس ہوگی۔" (الاسراء: 36) یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہمیں اپنی معلومات اور رویوں کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے اور بغیر تحقیق کسی چیز کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔
بہت سے نوجوانوں کو سوشل میڈیا اور موبائل کے نشے سے بچانے کے لیے ٹائم مینجمنٹ (Time Management) کی عادت اپنانا ضروری ہے۔ دن بھر کے اوقات میں انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے ایک واضح منصوبہ بندی ہونی چاہیے، تاکہ تعلیمی، دینی اور سماجی ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں۔ بعض تعلیمی ادارے اور ماہرین نفسیات یہ تجویز دیتے ہیں کہ موبائل فون کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مخصوص ڈیجیٹل ڈیٹاکس (Digital Detox) یعنی کچھ وقت کے لیے موبائل اور سوشل میڈیا سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے، تاکہ ذہنی یکسوئی بحال ہو سکے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان ذرائع کو خیر اور نیکی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ اگر سوشل میڈیا پر تعمیری اور مثبت پیغام عام کیا جائے، تو یہ ایک بہترین دعوتی اور اصلاحی ذریعہ بن سکتا ہے۔ بہت سے اسکالرز، علماء، اور تعلیمی ماہرین سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے لاکھوں لوگوں تک مفید معلومات پہنچا رہے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے انٹرنیٹ کے وقت کو ایسے مواد کے حصول میں صرف کریں جو ان کی علمی، دینی، اور اخلاقی ترقی کا ذریعہ بنے۔
ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا، موبائل، اور انٹرنیٹ کا درست اور متوازن استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر اسے بغیر کسی حد بندی کے استعمال کیا جائے تو یہ کئی ذہنی، سماجی، اور دینی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، لیکن اگر اسے ذمہ داری اور شعور کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ ایک بہترین علمی اور تعمیری وسیلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم ان ذرائع سے فائدہ اٹھائیں، نہ کہ ان کے غلام بن جائیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں