حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ یعنی "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔" یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے اور علماء نے اسے اسلام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ اس ایک جملے میں پوری زندگی کا فلسفہ بند ہے۔ ہم جو بھی کام کریں، اللہ اس کام کو نہیں بلکہ اس کام کے پیچھے چھپی نیت کو دیکھتا ہے۔ بڑے سے بڑا عمل بھی غلط نیت سے بے کار ہو جاتا ہے اور چھوٹے سے چھوٹا کام بھی اچھی نیت سے عبادت بن جاتا ہے۔
اسی سے جڑی ہوئی ایک اور حدیث ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ یعنی "اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔" یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں انسان کی قدر اس کے چہرے، دولت یا رتبے سے ہوتی ہے، مگر اللہ کے ہاں صرف دل کی سچائی اور عمل کی پاکیزگی کی قدر ہے۔
تیسری حدیث حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ یعنی "خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہے اور اگر وہ خراب ہو تو پورا جسم خراب ہے اور وہ دل ہے۔" یہ حدیث بھی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔ ان تینوں احادیث کو ملا کر دیکھیں تو ایک واضح پیغام سامنے آتا ہے نیت، دل اور اخلاص یہ تینوں ایک ہی حقیقت کے تین نام ہیں۔ جس نے اپنا دل درست کر لیا، اس نے اپنی پوری زندگی درست کر لی، اور جس کی نیت خالص ہو گئی، اس کا ہر عمل اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو گیا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں