مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج دوسرے روزے کا سورج ڈھلنے کو ہے اور حلق میں کانٹے سے چبھ رہے ہیں۔ پیاس کی اس شدت نے سوچ کے زاویے بدل دیے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے نا مالک؟ کالی گھٹاؤں سے زمین کی پیاس بجھانے والا اور سمندروں کی موجوں پر حکمرانی کرنے والا تو ہے، لیکن تیرے ایک اشارے کی لاج رکھنے کے لیے آج میں نے لبالب بھرے پانی کے پیالے سے بھی منہ موڑ لیا ہے۔
آج شدتِ پیاس میں یہ احساس بیدار ہوا کہ یہ ظاہری تشنگی تو محض ایک بہانہ ہے، اصل پیاس تو اس روح کی ہے جو برسوں سے سسک رہی تھی۔ ہم بھی کتنے نادان ہیں نا! جسم کی پیاس بجھانے کے لیے تو ٹھنڈے شربتوں اور میٹھے پانیوں کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن یہ روح جو تیرے ذکر، تیرے کلام اور تیرے قرب کی پیاسی ہے، اسے ہم نے غفلت کے تپتے ریگستان میں لاوارث چھوڑ رکھا ہے۔
میرے پیارے اللہ!
آج جب پیاس سے لب خشک ہو رہے ہیں، تو مجھے ان لوگوں کا خیال آیا جن کی پوری زندگی ایک طویل "روزے" کی مانند ہے، جنہیں افطار کے وقت بھی دو گھونٹ میسر نہیں۔ میری پیاس تو چند گھنٹوں کی مہمان ہے، لیکن ان کا کیا جن کی محرومی کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں؟ مجھے اس پیاس کے صدقے وہ دل عطا کر دے جو اپنوں سے پہلے دوسروں کا درد محسوس کر سکے۔
میرے مولا!
مجھے وہ پیاس دے دے جو مجھے تیرے آستانے تک لے آئے۔ وہ تڑپ عطا کر جو سجدوں میں طویل قیام کو لذیذ بنا دے۔ جس طرح ایک پیاسا ہر آہٹ پر پانی کی امید رکھتا ہے، مجھے بھی اپنی ہر سانس میں صرف تیری رحمت کی آس رکھنے والا بنا دے۔
آج افطار تک میرا یہ خشک حلق میری بندگی کی گواہی دے دے۔ الٰہی! مجھے ان بدنصیبوں میں شامل نہ کرنا جو پیاس تو کاٹتے ہیں مگر تیری رضا کی ٹھنڈک حاصل نہیں کر پاتے۔
فقط
آپ کا ایک پیاسا بندہ، جو اب صرف آپ کے قرب کا طلبگار ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں