خالد سیف اللہ موتی ہاری
ادب برائے زندگی کا نظریہ رکھنے والے اہل دانش اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایک سچا فنکار اپنے عہد کا نبض شناس ہوتا ہے۔ وہ معاشرے کے ناسوروں پر مرہم نہیں رکھتا بلکہ ایک ماہر جراح کی طرح نشتر لگا کر اس زہر کو باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے جو اجتماعی شعور کو مفلوج کر رہا ہوتا ہے۔ عزیر انجم کی تصنیف "آدمی کی بستی میں" کا مطالعہ کرنے کے بعد قاری پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ یہ چند کہانیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہمارے دور کی اخلاقی گراوٹ، معاشی ناہمواری اور سماجی منافقت کی ایک ایسی دستاویز ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ یہ تخلیق دراصل ایک ایسا آئینہ ہے جو ہمارے چہرے پر لگے ہوئے مصنوعی رنگ و روغن کو دھو کر اصل صورت دکھا دیتا ہے، اور یہ صورت اتنی خوفناک ہے کہ خود اپنے آپ کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔
عزیر انجم موتی ہاری،مشرقی چمپارن (بہار) کےمشہور و معروف صحافی اور ادیب ہیں وہ کسی رومانی یا خیالی دنیا کے اسیر نہیں بلکہ وہ تلخ حقائق کی زمین پر کھڑے ہو کر انسان کی بے بسی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کی آنکھیں ان چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھتی ہیں جہاں عام انسان کی نظر نہیں پہنچ پاتی، اور ان کا قلم ان زخموں کو چھوتا ہے جن پر معاشرہ پٹی باندھ کر بھول جانے کی کوشش کرتا ہے۔ دراصل یہی وہ خوبی ہے جو ایک عام لکھاری کو ایک بصیرت سے بہرہ ور مفکر میں تبدیل کر دیتی ہے۔
کتاب کا کلیدی افسانہ "آدمی کی بستی میں" دراصل انسانی وقار کے جنازے کی داستان ہے اور اس سے زیادہ تکلیف دہ کوئی منظر نہیں ہو سکتا۔ سلطان نامی کردار کے ذریعے مصنف نے یہ گہرا نکتہ اٹھایا ہے کہ اس مادی دور میں انسان کی عزت اور وقار کا پیمانہ صرف اور صرف دولت ہے، اور کچھ نہیں۔ جب تک سلطان کے پاس دولت تھی، وہ معزز تھا، لوگ اس کا احترام کرتے تھے، اس کی بات سنتے تھے، اور جب حالات نے پلٹا کھایا تو وہ سماج کی نظروں میں گر گیا اور لوگوں نے اسے ٹھکرا دیا۔ یہ افسانہ قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے جب غربت کا مارا باپ بیٹی کی شادی کے لیے دولت کی ہوس میں ٹرین سے ایک لاوارث بکس اٹھا لاتا ہے، لیکن اس میں سے دولت کے بجائے ایک جواں سال لڑکی کی لاش برآمد ہوتی ہے۔ یہاں علامت نگاری کا کمال دیکھیے کہ ہم جس مادہ پرستی کو زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں، جس کے پیچھے اندھا دھند بھاگتے ہیں، وہ درحقیقت ایک لاش کے سوا کچھ نہیں، جو آخرکار ہمیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ یہ صرف جسمانی قید نہیں بلکہ ذہنی، روحانی اور اخلاقی قید ہے جس سے نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
ایک گہری نظر سے دیکھیں تو عزیر انجم نے طبقاتی کشمکش کے موضوع کو اپنی کہانیوں میں بہت دردمندی اور ہنر مندی سے سمویا ہے۔ افسانہ "انجام خدا جانے" میں وہ معاشی تفاوت کی ایسی تصویر دکھاتے ہیں جو دل دہلا دیتی ہے اور انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے معصوم بچوں کا زہریلے سانپوں سے کھیلنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اس سفاک نظام پر ایک زوردار طمانچہ ہے جہاں روٹی کی قیمت جان ہتھیلی پر رکھ کر ادا کرنی پڑتی ہے۔ جب وہ بچہ کہتا ہے کہ "ہم خانہ بدوش لوگ بھیڑ میں مداری اور جمورا کا کھیل دکھاتے ہیں صاحب! ہم لوگ پیٹ کی خاطر یہ سب کرتے ہیں"، تو یہ مکالمہ دراصل پورے معاشی نظام کے خلاف ایک استغاثہ بن جاتا ہے، ایک چیخ بن جاتا ہے جو کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہی وہ ترقی ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں؟ کیا یہی وہ تہذیب ہے جس کے ہم علمبردار ہیں؟ جہاں بچپن کی معصومیت کو موت کے منہ میں ڈال کر روزی کمائی جائے؟
اسی سلسلے میں افسانہ "بے گناہ قاتل" انسانی تاریخ کا ایک انوکھا المیہ پیش کرتا ہے جو شاید کسی اور تخلیق میں اس طرح نہیں ملتا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں "آزاد فضا" میں بھوک اور عدم تحفظ ہو، وہاں جیل کی کال کوٹھری ایک نعمت معلوم ہوتی ہے، ایک پناہ گاہ نظر آتی ہے۔ سلطان کا یہ اعتراف کہ اس نے قتل نہیں کیا لیکن وہ جیل جانا چاہتا ہے تاکہ اسے دو وقت کی روٹی مل سکے اور اس کے گھر والوں کو سرکاری امداد ملے، یہ ثابت کرتا ہے کہ ریاستی نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور اس کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ جب آزادی بھوک کا استعارہ بن جائے اور غلامی یعنی قید نجات دہندہ نظر آنے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرہ کتنی گہری تاریکی میں جا چکا ہے۔ یہ وہ ستم ظریفی ہے جس پر صرف آنسو بہائے جا سکتے ہیں، الفاظ بھی کم پڑ جاتے ہیں۔
عزیر انجم نے اپنے مشاہدے کی تیز نگاہ سے ان نام نہاد سماجی اور سیاسی ستونوں کا بھی جائزہ لیا ہے جو معاشرے کو سہارا دینے کے دعویدار ہیں لیکن حقیقت میں کھوکھلے اور بے اثر ہیں۔ افسانہ "پگلی" اس منافقت کا شاہکار ہے اور اس میں سماج کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ ایک طرف خواتین کے حقوق کے لیے بڑے بڑے ہوٹلوں میں سیمینار ہو رہے
ہیں، مائیک پر شعلہ بیان تقریریں ہو رہی ہیں، بینرز لگائے جا رہے ہیں، میڈیا کوریج ہو رہی ہے، اور دوسری طرف اسی شہر کی سڑک پر ایک بے زبان، پاگل لڑکی درندگی کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ مصنف نے یہاں یہ تلخ حقیقت اجاگر کی ہے کہ ہماری "تحریکیں" اور "تنظیمیں" صرف نمائشی ہیں، ان کا نچلے طبقے کے حقیقی کرب سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب دکھاوا ہے، نام و نمود کا کھیل ہے، اور اصل مسائل زمین پر پڑے سڑ رہے ہیں۔
اسی تناظر میں افسانہ "لاش" فرقہ وارانہ سیاست کی بے حسی کو بے نقاب کرتا ہے اور یہ دکھاتا ہے کہ ہمارے سیاست دان کس طرح انسانوں کو نہیں بلکہ لاشوں کو استعمال کرتے ہیں۔ لاش کی شناخت تک تو سب اسے اپنا سمجھ کر سیاست چمکاتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی پتا چلتا ہے کہ لاش کا تعلق کسی خاص ووٹ بینک سے نہیں، مجمع چھٹ جاتا ہے، سب اپنے اپنے راستے چل دیتے ہیں۔ یہ افسانہ بتاتا ہے کہ ہمارے لیڈر انسانوں کے نہیں بلکہ لاشوں کے سوداگر ہیں، اور انہیں انسانی درد سے کوئی سروکار نہیں، بس ووٹ کی سیاست سے مطلب ہے۔ یہ کتنا بھیانک سچ ہے کہ زندہ انسان کی کوئی قیمت نہیں لیکن مرنے کے بعد اگر لاش کسی کام آ سکے تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
افسانہ "مجرم کون ہے" موجودہ تعلیمی اور انتظامی ڈھانچے پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے اور یہ نوجوانوں کی مایوسی کی ایک دردناک داستان ہے۔ ایک ہونہار نوجوان، جو بی اے میں فرسٹ کلاس ہے، محنت سے پڑھا ہے، خواب دیکھے ہیں، لیکن رشوت نہ ہونے کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے اور اسے کہیں جگہ نہیں ملتی۔ یہ کہانی اس نفسیاتی عمل کی عکاسی کرتی ہے کہ کیسے ایک شریف اور پڑھا لکھا انسان مجرم بننے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس کا ذہن بدلے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ جب میرٹ کا گلا گھونٹ دیا جائے اور رشوت ہی اہلیت کا معیار بن جائے، تو پھر ردعمل میں تشدد جنم لیتا ہے، غصہ پھوٹتا ہے، اور نوجوان غلط راستے کی طرف چل پڑتا ہے۔ مصنف نے یہ ثابت کیا ہے کہ اصل مجرم وہ نوجوان نہیں جس نے گولی چلائی، بلکہ وہ نظام ہے جس نے اس کے ہاتھ سے قلم چھین کر پستول تھما دیا، جس نے اس کی صلاحیتوں کو روندا، جس نے اس کے خوابوں کو پامال کیا۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب صلاحیت کی کوئی قدر نہیں اور نااہلی کو خرید لیا جاتا ہے، تو ہم کیسے معاشرے کی توقع کر رہے ہیں؟
عزیر انجم کا اسلوب بہت ہی شستہ، سادہ اور موثر ہے، اور یہی ان کی طاقت ہے۔ وہ گہرے موضوعات کو انتہائی سادہ اور رواں زبان میں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں اور یہ کوئی آسان کام نہیں۔ کوئی بھی پیچیدہ بات کہنا مشکل نہیں، لیکن پیچیدہ بات کو سادگی سے کہنا، یہ فن ہے۔ فاروق راہب نے بجا فرمایا ہے کہ "عزیر انجم کی شخصیت گونا گوں خوبیوں کا مرقع ہے، بے غرض اور صاف گو انسان ہیں"، اور یہی صاف گوئی ان کی تحریروں میں جھلکتی ہے، ہر لفظ سے محسوس ہوتی ہے۔ ان کے ہاں مکالمے فطری ہیں، بناوٹ سے پاک ہیں، اور منظر نگاری اتنی جاندار ہے کہ قاری خود کو اسی بستی کا مکین محسوس کرتا ہے، وہ کرداروں کے ساتھ روتا ہے، ہنستا ہے، تکلیف محسوس کرتا ہے۔ افسانہ "بازارِ حسن" میں انہوں نے جس طرح طوائفوں کی مجبوری اور سماج کے سفید پوشوں کے دوہرے معیار کو دکھایا ہے، وہ ان کی فنی پختگی اور بصیرت کی واضح دلیل ہے۔ یہاں بھی انہوں نے یہ بتایا ہے کہ جو لوگ دن کو اخلاق کے پرچارک بنتے ہیں، رات کو وہی لوگ اس کاروبار کے سب سے بڑے سرپرست ہوتے ہیں۔
مختصر یہ کہ "آدمی کی بستی میں" افسانوں کی کتاب نہیں بلکہ ہمارے عہد کا ایک مکمل معاشرتی اور نفسیاتی جائزہ ہے، ایک دستاویز ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہے گی۔ عزیر انجم نے جس جرات، بیباکی اور درد مندی کے ساتھ "احساس کی لکیروں" سے انسانی جذبات کی تصویر کشی کی ہے، وہ انہیں صف اول کے سماجی حقیقت نگاروں کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے اور انہیں ایک ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔ یہ کتاب ہر اس ذی شعور انسان کو پڑھنی چاہیے جو سماج کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے چھپی ہوئی تاریکیوں کو سمجھنا چاہتا ہے، جو سطح سے نیچے جا کر اصل حقیقت کو دیکھنا چاہتا ہے۔ بلاشبہ، یہ اردو افسانوی ادب میں ایک گراں قدر اور انمول اضافہ ہے جو مدتوں اہل فکر کو دعوتِ غور و فکر دیتا رہے گا اور نئی نسلوں کو راہنمائی فراہم کرتا رہے گا۔ اس تخلیق کی اہمیت صرف ادبی نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی بھی ہے، اور یہی چیز اسے لافانی بناتی ہے۔ـ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں