واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

والدین اور اساتذہ کا احترام

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

 خالد سیف اللہ موتیہاری 

انسانی معاشرے میں والدین اور اساتذہ کا احترام ایک بنیادی قدر ہے جو اخلاقی، دینی اور سماجی اصولوں کی بنیاد پر قائم ہے۔ ان دونوں شخصیات کا کردار فرد کی نشوونما میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ والدین اس کی پیدائش، پرورش اور ابتدائی تربیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں، جبکہ اساتذہ اسے علم، اخلاق اور شعور سے آراستہ کرتے ہیں۔ ان دونوں کے بغیر ایک متوازن، باشعور اور مہذب انسان کا تصور ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام آسمانی ادیان، سماجی علوم اور انسانی تجربات والدین اور اساتذہ کے احترام پر زور دیتے ہیں، کیونکہ ان کی عزت نہ صرف فرد کی اپنی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ پورے معاشرے کی فلاح و بہبود سے بھی جڑی ہوتی ہے۔

والدین کی عظمت کا تصور اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات قربان کرتے ہیں۔ ان کی محبت بے لوث ہوتی ہے، ان کی قربانیاں بے حساب ہوتی ہیں اور ان کی دعائیں زندگی کے ہر موڑ پر انسان کے لیے رحمت کا باعث بنتی ہیں۔ والدین کا احترام نہ صرف ایک اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ یہ دینی نقطۂ نظر سے بھی انتہائی اہم ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد والدین کی فرمانبرداری کو لازم قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی والدین کی عزت اور ان کے حقوق کی پاسداری پر زور دیا اور فرمایا کہ جو شخص اپنے والدین کی خدمت کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔

اساتذہ کا احترام بھی اسی قدر ضروری ہے، کیونکہ وہ معاشرے کے معمار اور نسلوں کے رہنما ہوتے ہیں۔ ایک استاد نہ صرف علم سکھاتا ہے بلکہ وہ شاگرد کی شخصیت میں استحکام، فکری وسعت اور عملی شعور پیدا کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے اساتذہ کی عزت کی، وہ ترقی یافتہ بنیں، اور جنہوں نے اساتذہ کی بے قدری کی، وہ زوال کا شکار ہو گئیں۔ اسلامی تاریخ میں بھی استاد کا مقام انتہائی بلند ہے۔ امام شافعیؒ، امام ابو حنیفہؒ اور دیگر بڑے علماء نے اپنے اساتذہ کے احترام کو ہمیشہ مقدم رکھا اور یہی احترام ان کے علمی اور عملی کمال کا ذریعہ بنا۔

احترام والدین اور اساتذہ صرف زبانی دعوے یا رسمی رویوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عملی طرزِ زندگی ہے۔ یہ احترام ان کی خدمت، ان کے مشوروں پر عمل، ان کی تکلیف کا خیال رکھنے اور ان کے حقوق کی پاسداری میں مضمر ہے۔ آج کے جدید دور میں جب خاندانی نظام پر مختلف چیلنجز درپیش ہیں اور تعلیمی میدان میں مادی مفادات کا رجحان بڑھ چکا ہے، والدین اور اساتذہ کا احترام پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

سماجی اور نفسیاتی تحقیقات یہ ثابت کرتی ہیں کہ جو بچے اپنے والدین اور اساتذہ کا احترام کرتے ہیں، وہ زیادہ کامیاب، خوشحال اور متوازن شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کے اندر خوداعتمادی، بردباری اور مثبت طرزِ فکر پیدا ہوتی ہے، جبکہ جو لوگ والدین اور اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں، وہ نہ صرف معاشرتی سطح پر تنہا ہو جاتے ہیں بلکہ ان کی زندگی میں بے سکونی اور ذہنی اضطراب بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ والدین اور اساتذہ وہ ستون ہیں جن پر ایک مہذب، ترقی یافتہ اور باوقار معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ ان کا احترام فرد کی اخلاقی ترقی اور معاشرتی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ جو قومیں اپنے والدین اور اساتذہ کی عزت کرتی ہیں، وہ علم، تہذیب اور کردار کی بلندیوں کو چھوتی ہیں، جبکہ جو اس بنیادی اصول کو نظر انداز کرتی ہیں، وہ انتشار، بدامنی اور زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس لیے والدین اور اساتذہ کا احترام نہ صرف ایک دینی اور اخلاقی فریضہ ہے بلکہ یہ ہر ذی شعور اور باشعور انسان کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے