از خالد سیف اللہ موتیہاری ابن قاری احمد اللہ صاحب عرفانی
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے جانے سے صرف ان کے اہلِ خانہ یا متعلقین نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک ماحول، ایک روحانی فضا بھی رخصت ہو جاتی ہے۔ مولانا سراج الحق صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ انہی ہستیوں میں سے تھے۔ وہ علم و عمل کا مجسم پیکر، خلوص و للہیت کا آئینہ دار، اور تقویٰ و طہارت کا جیتا جاگتا نمونہ تھے۔
علم حدیث اور تفسیر سے ان کی گہری وابستگی صرف تدریسی حد تک نہ تھی، بلکہ ان کے دل کی دھڑکن اور ان کی روح کی غذا تھی۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے اُن میں عبادت گزاری، پرہیزگاری، اور للہیت کے آثار نمایاں تھے۔ دارالعلوم چھاپی پالن پور گجرات کے شیخ الحدیث کی حیثیت سے ان کی خدمات کا دائرہ محدود نہ تھا،بلکہ ان کی شخصیت ایک درخشاں چراغ کی مانند تھی جس کی روشنی دور دور تک پھیلتی رہی۔
میری نسبت مولانا مرحوم سے محض تعلیمی یا رسمی نہیں، بلکہ قلبی اور خاندانی بھی تھی۔ ہمارا گاؤں (سمرہیا) اُن کا آبائی وطن تھا، اور اُن کی نسبت میرے والد اور دادا دونوں سے شاگردی و تعلق کی صورت میں جڑی ہوئی تھی۔ یوں ہم گیارہ بھائی بہنوں کے نام بھی اُن کی محبت اور برکت سے وابستہ ہوئے۔
مولانا کی طبیعت میں انکسار، سادگی اور تواضع ایسی رچی بسی تھی کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ آپ ہمیشہ نماز کی تلقین کرتے، چہرے پر سکون اور زبان پر نرمی ہوتی۔ دعوتوں میں بہت کم شرکت کرتے کہ کہیں مشتبہ لقمہ نہ کھا لیں۔ دنیاوی باتوں سے دور، غیبت سے بیزار، اور صرف خیر و بھلائی کے طلبگار۔
جب بھی مولانا شعبان کی چھٹیوں میں گاؤں آتے، میرے والد کی تاکید پر میں اور میرے ساتھی ملاقات کے لیے ضرور حاضر ہوتے۔ وہ نہایت شفقت سے حال احوال پوچھتے، کبھی جماعت کے بارے میں، کبھی کتاب کی کوئی بات۔ نصیحتوں میں داڑھی کا اہتمام، نماز کی پابندی، اور سیرت کی پیروی جیسی باتیں شامل ہوتیں۔
ان سے میری آخری ملاقات موتیہاری میں ہوئی، جہاں وہ اپنے بیٹے قاری ارشد صاحب کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت وہ صاحبِ فراش ہو چکے تھے، بیماری نے جسم کو کمزور کیا تھا لیکن ذہن و دل کی روشنی باقی تھی۔ میں نے اُن سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا جو مجھے نہیں مل رہی تھی ، تو فرمایا کہ وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں دیکھیے، وہیں نظر سے گزری تھی۔ بیماری کی حالت میں بھی اتنا واضح اور دقیق حوالہ دینا، ان کے علمی حافظے اور تبحر علمی کی ایک مثال تھی۔
پھر مولانا نے مجھ سے سورہ یٰسین پڑھنے کو کہا۔ وقت کی قلت دامن گیر ہونے کی وجہ سے مولوی غفران نے اپنے موبائل سے سورہ یٰسین لگا دی۔ مولانا دھیان سے سنتے رہے۔ پھر یکایک بولے: "یہ خالد، مجھے نعت سنا دو۔" یہ وہ لمحہ تھا جس نے میری آنکھوں کو نم کر دیا، ایک بیمار بزرگ، جو زندگی کے آخری لمحے گزار رہے ہوں، اُن کے لبوں پر نعت کی طلب ہو، یہ ان کے عشقِ رسول ﷺ کی خاموش گواہی تھی۔
ان کے بڑے بیٹے کے مطابق مولانا ایک سال سے زائد عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے، مگر صبر، شکر اور عبادت کا ذوق بڑھتا ہی گیا۔ دو ماہ پہلے سے ایک بات بار بار زبان پر آتی: "اللہ تعالیٰ مجھے جمعہ کے دن اٹھائیں گے"۔ اور پھر وہی جمعہ آتا ہے، جس دن روح کی پرواز اپنے رب کے حضور ہوتی ہے۔
اس جمعہ کی صبح معمول کے مطابق ناشتہ فرمایا، غسل کا اہتمام کیا گیا، اور حیرت انگیز بات یہ کہ خود ہی بدن دھونے میں بھی شریک ہوئے۔ کپڑے بدلوائے، خوشبو لگوائی، اور قبلہ رخ ہو کر لیٹنے کی خواہش ظاہر کی۔ پھر بلند آواز میں کلمہ پڑھا اور ہم سب کو تلقین کی کہ ساتھ پڑھیں۔ سورہ یٰسین کی تلاوت شروع ہوئی اور جیسے ہی مکمل ہوئی مولانا کی روح قفصِ عنصری سے پرواز کر گئی۔
إنا لله وإنا إليه راجعون
وقتِ وفات: تقریباً 10:25 صبح
جب یہ خبر والد صاحب نے مجھے فون پر دی تو دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔ میں اسکول سے آیا ہی تھا، کھانے کا پہلا لقمہ بھی نہ لیا تھا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مولانا کے گھر روانہ ہوا۔
چونکہ وہ میرے ہی کرایہ کے کمرے سے چند قدم کے فاصلے پر رہتے تھے، فوراً پہنچا۔ کچھ دیر ان کے پہلو میں بیٹھا، پھر ایمبولینس بلائی گئی۔ ہم چند ساتھیوں نے مل کر اُن کے جسدِ خاکی کو تیسری منزل سے نیچے اتارا۔ اور پھر ہم سب نے اس چراغ کو، جو برسوں تک روشن رہا، گاؤں کیلئے روانہ کیا جہاں وہ اب خاک کی چادر اوڑھ کر آرام فرما رہے ہیں۔
ایسی زندگی، ایسی وفات، اور ایسا شان دار روحانی سفر کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مولانا سراج الحق صاحب قاسمی کی یادیں، ان کی باتیں، ان کی دعائیں اور ان کا علم، ان شاء اللہ، ہماری زندگیوں میں چراغ بن کر روشن رہے گا۔
اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے، اور ہمیں بھی دین و تقویٰ، علم و حلم، اور اخلاص و محبت کی ایسی زندگی نصیب فرمائے۔
آمین، ثم آمین۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں