خالد سیف اللہ موتیہاری
دنیا میں بے شمار نظریات پائے جاتے ہیں، اور ہر دور میں انسانوں نے مختلف عقائد، فلسفے اور خیالات کو قبول کیا یا رد کیا ہے۔ لیکن یہ سوال ہمیشہ اہم رہا ہے کہ صحیح اور غلط نظریات میں فرق کیسے کیا جائے؟ کیا کوئی ایسا معیار موجود ہے جو ہمیں یہ بتا سکے کہ کون سا نظریہ حق پر ہے اور کون سا گمراہی کا سبب بن سکتا ہے؟ آج کے زمانے میں، جب ہر طرف معلومات کا طوفان ہے، میڈیا، سوشل نیٹ ورکس، اور سائنسی ترقی نے سوچنے کے نئے زاویے متعارف کرائے ہیں، یہ سوال مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم کسی بھی نظریے کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کریں۔
سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ کسی بھی نظریے کو قبول کرنے سے پہلے اس کا ماخذ جاننا ضروری ہے۔ اگر کوئی نظریہ کسی وقتی جذبات، کسی مخصوص قوم کی روایات، یا کسی انسان کے خیالات پر مبنی ہو، تو اس میں غلطی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی نظریہ وحی، آسمانی تعلیمات، اور عقلِ سلیم پر مبنی ہو، تو وہ زیادہ قابلِ اعتماد ہوتا ہے۔ اسلام میں ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ کوئی بھی نظریہ قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھو کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر کوئی خیال یا عقیدہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے متصادم ہے، تو وہ لازمی طور پر غلط ہوگا، چاہے دنیا اسے کتنا ہی قابلِ قبول کیوں نہ سمجھے۔
دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ صحیح نظریہ ہمیشہ فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ انسان کی فطرت اللہ نے ایسی بنائی ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق محسوس کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کا دل اور دماغ تعصب سے پاک ہو۔ جو نظریات انسان کی فطری اخلاقیات کو بگاڑیں، اس کی سچائی اور ایمانداری کو نقصان پہنچائیں، یا معاشرے میں بگاڑ اور فساد پیدا کریں، وہ غلط ہوتے ہیں۔ اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ سچائی، عدل، رحم دلی، اور انصاف پر مبنی نظریات کو اپنایا جائے اور ظلم، ناانصافی، اور بے راہ روی پر مبنی خیالات کو رد کیا جائے۔
تیسرا اصول یہ ہے کہ کسی بھی نظریے کو قبول کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔ اگر کوئی نظریہ وقتی طور پر اچھا لگتا ہے، لیکن اس کے دور رس اثرات نقصان دہ ہیں، تو وہ نظریہ گمراہی پر مبنی ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، لبرل ازم، الحاد، یا دیگر جدید نظریات بعض اوقات آزادی اور ترقی کا نعرہ بلند کرتے ہیں، لیکن اگر ان کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ نظریات فرد کو مذہب، اخلاقیات، اور سماجی اقدار سے دور کر کے ایک بے مقصد زندگی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اسی طرح، بعض شدت پسند نظریات وقتی طور پر پرکشش لگ سکتے ہیں، لیکن اگر ان کا نتیجہ فساد، خونریزی، اور معاشرتی تباہی ہو، تو وہ غلط ہوں گے۔
چوتھا اصول یہ ہے کہ کسی بھی نظریے کو پرکھنے کے لیے علمی تحقیق اور مستند ماخذات کا مطالعہ ضروری ہے۔ آج کل بہت سے نظریات بغیر کسی تحقیق کے قبول کر لیے جاتے ہیں، محض اس لیے کہ وہ میڈیا یا سوشل نیٹ ورکس پر زیادہ مشہور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو چیز زیادہ مقبول ہو، ضروری نہیں کہ وہ درست بھی ہو۔ حق ہمیشہ تعداد کی بنیاد پر نہیں جانچا جاتا، بلکہ دلیل اور سچائی کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی نظریہ محض پروپیگنڈا کی بنیاد پر پھیلایا جا رہا ہو، اور اس کے پیچھے کوئی مضبوط علمی یا منطقی بنیاد نہ ہو، تو اس پر شک کرنا چاہیے۔
پانچواں اصول یہ ہے کہ صحیح نظریہ ہمیشہ استقامت، امن، اور اصلاح کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ غلط نظریہ بے یقینی، انتشار، اور تباہی پیدا کرتا ہے۔ اگر کوئی نظریہ انسان کو صبر، حوصلہ، اور اچھے اخلاق کی طرف مائل کرے، تو وہ حقیقت کے قریب تر ہوگا۔ لیکن اگر کوئی نظریہ انسان کو جلد بازی، نفرت، بداعتمادی، اور بے راہ روی کی طرف لے جائے، تو وہ گمراہی پر مبنی ہوگا۔
چھٹا اصول یہ ہے کہ صحیح نظریہ ہمیشہ عقل اور نقل (وحی) دونوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی نظریہ صرف جذبات پر مبنی ہو اور عقل اسے قبول نہ کرے، تو وہ مشکوک ہوگا۔ اسی طرح، اگر کوئی نظریہ محض انسانی منطق پر منحصر ہو لیکن اللہ کی وحی سے متصادم ہو، تو وہ بھی قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ اسلام میں ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ دین اور عقل میں کوئی تضاد نہیں، اور جو چیز اللہ کی طرف سے حق ہے، وہ انسانی فطرت اور سچی عقل سے بھی ہم آہنگ ہوتی ہے۔
آج کے دور میں، جب ہر طرف سے مختلف خیالات اور نظریات کا سامنا ہے، سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ انسان اپنے عقیدے اور نظریات کو صحیح بنیادوں پر استوار کرے۔ کسی بھی بات کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کرے، ہر نظریے کا تجزیہ کرے، اس کے ماخذ، اثرات، اور منطقی دلائل پر غور کرے، اور سب سے بڑھ کر، قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلہ کرے۔ اگر ہم اس اصول کو اپنا لیں، تو نہ صرف ہم خود گمراہی سے بچ سکتے ہیں، بلکہ دوسروں کو بھی صحیح راستہ دکھا سکتے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں