قسط اول: روانگی اور دہلی کی دہلیز
خالد سیف اللہ موتیہاری
سفر ہمیشہ اپنے ساتھ ایک انجانی سی بے چینی اور ایک عجیب سی مسرت لے کر آتا ہے۔ جب میں موتیہاری سے دہلی جانے کی تیاری کر رہا تھا تو دل میں ایک ہلکی سی گھبراہٹ اور ساتھ ہی خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ یہ سفر عام سفر نہ تھا، بلکہ ایک ایسے پروگرام کی طرف تھا جہاں ملک کے کونے کونے سے نوجوان قلم کار جمع ہونے والے تھے۔ دل ہی دل میں یہ احساس جاگا کہ آنے والے دنوں میں کچھ نئے چراغ روشن ہونے ہیں، کچھ ایسی باتیں سننے کو ملیں گی جو شاید زندگی بھر کا سرمایہ ہوں گی۔
سہراب میرے ساتھ تھا، جو نہ صرف میرا دوست ہے بلکہ ایک بہترین ہمسفر بھی۔ سفر کے لمحوں میں دوست کا ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے صحرا میں سایہ دار درخت۔ اسٹیشن پر پہنچنے کے بعد جب ہم نے پلیٹ فارم پر قدم رکھا تو ریل کی سیٹی، لوگوں کی آوازیں، سامان کھینچتے ہوئے مسافروں کی بھاگ دوڑ، سب کچھ مل کر ایک شور سا پیدا کر رہے تھے۔ مگر اس شور کے بیچ ہمیں اپنے اندر کی خاموشی سنائی دے رہی تھی وہ خاموشی جو کسی بڑی توقع اور خواب کے آغاز پر طاری ہو جاتی ہے۔
ریل نے جیسے ہی پلیٹ فارم کو پیچھے چھوڑا، کھڑکی کے باہر تیزی سے بھاگتے مناظر نے دل میں سفر کی سچائی بٹھا دی۔ کھیت، جھونپڑیاں، کبھی کوئی درختوں کا جھنڈ، کبھی کسی چھوٹے اسٹیشن پر رکے ہوئے لوگ، یہ سب کچھ دیکھ کر یوں لگا کہ ہم اپنی زمین سے الگ ہو کر کسی اور دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سہراب کھڑکی کے پاس بیٹھا خاموشی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ کبھی کبھار ہم دونوں کوئی بات چھیڑتے، پھر ہنسی آتی اور پھر ایک طویل سکوت۔ دوستوں کے بیچ یہ سکوت بھی کسی گفتگو سے کم نہیں ہوتا۔
سفر کی رات خاص طور پر عجیب ہوتی ہے۔ ڈبے کی ہلکی روشنی، کھڑکی کے باہر اندھیرا اور دور کہیں کسی گاؤں کے چراغ ٹمٹماتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں دل پر کئی خیال دستک دیتے ہیں۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ کل جب ہم دہلی کے اس بڑے کانفرنس ہال میں قدم رکھیں گے تو کیسا منظر ہوگا؟ ملک کے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے نوجوان قلم کار، اپنے اپنے لہجوں کے ساتھ، اپنی اپنی سوچیں اور خواب لیے ایک جگہ جمع ہوں گے۔ شاید یہ محفل محض ایک تربیتی ورکشاپ نہ ہوگی، بلکہ یہ ایک نیا سنگ میل ہوگا۔
صبح جب ٹرین نے دہلی کی حدود میں قدم رکھا تو کھڑکی سے باہر کا منظر بدل چکا تھا۔ بڑی بڑی عمارتوں کی جھلک، شور کرتی ہوئی سڑکیں، اور ایک نہ ختم ہونے والی ہلچل۔یہ سب دہلی کی پہچان ہیں۔ دہلی، جس نے صدیوں تک تاریخ کو اپنے آنچل میں سمیٹا، اب بھی ایک ایسی گہما گہمی سے بھرا ہوا ہے کہ لگتا ہے جیسے ہر اینٹ بول رہی ہو۔
ہم دونوں جب اسٹیشن سے باہر نکلے تو ایک ہلکی سی ہوا کے جھونکے نے استقبال کیا۔ ٹریفک کا شور، بسوں کی قطاریں، رکشوں کی آوازیں۔یہ سب مل کر دہلی کے خاص ساز میں بج رہے تھے۔ دل ہی دل میں یہ خیال آیا کہ یہ وہی شہر ہے جہاں کبھی غالب نے شعر کہے، اقبال نے خواب دیکھے، اور فیض نے انقلابی مصرعے باندھے۔
مرکز جماعت اسلامی ہند کا کانفرنس ہال ہمارا اصل پڑاؤ تھا۔ جیسے ہی ہم وہاں پہنچے تو دروازے پر لگی تختی پر نگاہ پڑی۔ ایک لمحے کو دل نے کہا: "یہی وہ جگہ ہے جہاں آنے والے دنوں میں ہمارے قلم کے چراغوں کو مزید جلا بخشی جائے گی۔" اندر داخل ہوئے تو ماحول الگ ہی تھا۔ بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے نوجوان، مختلف صوبوں سے آئے ہوئے، کوئی اردو کے مخصوص لب و لہجے کے ساتھ، کوئی اپنے صوبائی رنگ کے ساتھ۔ سب کے چہروں پر ایک ہی سا نور تھا سیکھنے اور آگے بڑھنے کا۔
یہ پہلی جھلک ہی دل کے لیے ایک تحفہ تھی۔ ایسا لگا کہ ہم کسی عام پروگرام میں نہیں، بلکہ ایک ایسی بزم میں داخل ہو گئے ہیں جہاں لفظوں کے ہنر سے نئی دنیا آباد کی جا سکتی ہے۔
یوں دہلی کی دہلیز پر ہمارا پہلا دن مکمل ہوا۔ اصل سفر تو ابھی آغاز لینے والا تھا۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں