میں نے جب بھی خود کو ڈھونڈا
راکھ ملی، چنگاری ملی،
کوئی لو تھی جو بجھ چکی تھی
بس اس کی تپش باقی ملی۔
وقت نے جو زخم دیے ہیں
وہ نہ بھرے، نہ رِستے ہیں،
جیسے پتھر پر لکیریں ہوں
جو نہ مٹتی، نہ دِکھتی ہیں۔
محبت کیا تھی؟ ایک سایہ
جو میرے ساتھ چلتا رہا،
دھوپ جب بھی غائب ہوئی
وہ بھی کہیں نکلتا رہا۔
اب نہ کوئی آس ہے مجھ کو
نہ کوئی یاس ستاتی ہے،
ایک عجب سکوت ہے اندر
جیسے قبر سو جاتی ہے۔
میں نے خود کو بہت پکارا
صدا لوٹ کے آتی رہی،
زندگی کے اس صحرا میں
میری اپنی پرچھائی بھی
مجھ سے آنکھ چراتی رہی۔
🌹سیفی موتیہاری 🌹

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں