واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

دھواں

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

میں نے جب بھی خود کو ڈھونڈا

راکھ ملی، چنگاری ملی،

کوئی لو تھی جو بجھ چکی تھی

بس اس کی تپش باقی ملی۔


وقت نے جو زخم دیے ہیں

وہ نہ بھرے، نہ رِستے ہیں،

جیسے پتھر پر لکیریں ہوں

جو نہ مٹتی، نہ دِکھتی ہیں۔


محبت کیا تھی؟ ایک سایہ

جو میرے ساتھ چلتا رہا،

دھوپ جب بھی غائب ہوئی

وہ بھی کہیں نکلتا رہا۔


اب نہ کوئی آس ہے مجھ کو

نہ کوئی یاس ستاتی ہے،

ایک عجب سکوت ہے اندر

جیسے قبر سو جاتی ہے۔


میں نے خود کو بہت پکارا

صدا لوٹ کے آتی رہی،

زندگی کے اس صحرا میں

میری اپنی پرچھائی بھی

مجھ سے آنکھ چراتی رہی۔

🌹سیفی موتیہاری 🌹

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے