واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

اردو ادب کا سفر ایک آئینہ جو جھوٹ نہیں بولتا

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

خالد سیف اللہ موتیہاری 

زبانیں محض بولنے کا ذریعہ نہیں ہوتیں۔ وہ کسی قوم کی روح کا پتہ دیتی ہیں۔ اردو کا معاملہ تو اور بھی انوکھا ہے یہ زبان کسی ایک خطے میں نہیں جنمی، کسی ایک مذہب نے نہیں پالی، کسی ایک طبقے نے نہیں سنواری۔ یہ تو سنگم ہے، وہ جگہ جہاں فارسی کی شائستگی، عربی کی گہرائی، سنسکرت کی مٹھاس اور ہندوستانی مٹی کی خوشبو سب ایک ساتھ آ ملے۔ یہ زبان فاتحوں کے خیموں میں پیدا ہوئی مگر فقیروں کے دلوں میں پلی، دربار میں سنائی دی مگر بازار میں زندہ رہی۔

جب زبان نے آنکھیں کھولیں


اردو کے نقوشِ اول کا سراغ دکن میں ملتا ہے، جہاں محمد قلی قطب شاہ نے سولہویں صدی میں اس زبان کو شاعری کا لباس پہنایا۔ اُن کی شاعری میں عشق ہے، رنگ ہے، زندگی کی دھڑکن ہے۔ لیکن اردو کا اصل عروج شمال میں ہوا دہلی اور لکھنؤ کے درمیان  جہاں دو مکتبِ فکر نے جنم لیا اور ان دونوں کی آویزش نے اردو ادب کو وہ تنوع دیا جس کی مثال کم ملتی ہے۔

دہلی کا مزاج ہمیشہ سنجیدہ رہا، فلسفیانہ رہا۔ میر تقی میر کی شاعری پڑھیں تو لگتا ہے کوئی زخمی شخص خاموشی سے بیٹھا اپنا درد گن رہا ہے ایک ایک لفظ تولا ہوا، ایک ایک شعر خون میں ڈوبا ہوا۔ میر نے لکھا تھا:

"میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب  اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں"

یہ صرف عشق کی شکایت نہیں، یہ اُس انسانی کمزوری کا اعتراف ہے جو ہر دور میں یکساں رہتی ہے  ہم جانتے ہیں کہ کوئی چیز ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے، پھر بھی اسی کے پاس جاتے ہیں۔
لکھنؤ نے زبان کو ایک اور طرح سنوارا۔ وہاں کا ادب نزاکت کا ادب ہے، آداب کا، طرزِ گفتگو کا۔ لیکن اس نزاکت کے پیچھے وہی دکھ چھپا تھا جو ہر زوال پذیر تہذیب کا مقدر ہوتا ہے۔ ناسخ اور آتش نے زبان کو اتنا صاف ستھرا کیا کہ وہ چمکنے لگی  مگر اس چمک میں کبھی کبھی زندگی کی خاک غائب ہو گئی۔

غالب  وہ جو ہر دور کا ہم عصر ہے

مرزا اسداللہ خان غالب کا ذکر کیے بغیر اردو ادب کی کوئی بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ غالب کو سمجھنا ایک لمبی عمر کا کام ہے۔ جوانی میں پڑھو تو لگتا ہے شاعرِ عشق ہے، ادھیڑ عمر میں پڑھو تو فلسفی نظر آتا ہے، بڑھاپے میں پڑھو تو محسوس ہوتا ہے وہ ہماری اپنی کہانی کہہ رہا تھا۔

غالب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنے عہد سے لڑتا رہا۔ کمپنی بہادر کا دور تھا، 1857ء کا بھیانک سانحہ آنکھوں سے دیکھا، دہلی لٹتے دیکھی، دوستوں کو پھانسی پر چڑھتے دیکھا۔ مگر اُس نے قلم نہیں چھوڑا۔ اُس کے خطوط اردو نثر کا ایک نیا باب ہیں  وہ خطوط جن میں تکلف نہیں، بناوٹ نہیں، صرف ایک انسان ہے جو ہنستے ہنستے رو رہا ہے اور روتے روتے ہنس رہا ہے۔

آج ہمارے معاشرے کو غالب کی سب سے بڑی تعلیم یہ ہے  سوال کرو۔ غالب نے ہر چیز پر سوال کیا، عشق پر، خدا پر، اپنی ذات پر۔ اور یہی سوال کرنے کی صلاحیت کسی بھی قوم کو زندہ رکھتی ہے۔

 سرسید اور علی گڑھ تحریک  جب ادب نے ہاتھ میں مشعل اٹھائی

1857ء کے بعد اردو ادب نے پہلی بار ایک بڑا موڑ لیا۔ سرسید احمد خان نے محسوس کیا کہ شاعری سے پیٹ نہیں بھرتا، غزل سے توپ کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے ادب کو ایک نئے مقصد سے جوڑا  تعلیم، اصلاح، ترقی۔

سرسید کی تحریک کے ساتھ اردو نثر نے بالغ ہونا شروع کیا۔ حالی نے "مدّ و جزرِ اسلام" لکھا جو بعد میں "مسدسِ حالی" کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ نظم صرف نوحہ نہیں تھی، یہ آئینہ تھا۔ حالی نے مسلمانوں کو ان کی اپنی تصویر دکھائی بے عملی، جہالت، فرقہ واریت اور کہا کہ زوال آسمان سے نہیں اترتا، خود اپنے ہاتھوں سے بنایا جاتا ہے۔

آج جب ہم اپنے حال پر نظر ڈالتے ہیں تو "مسدسِ حالی" اتنی ہی تازہ لگتی ہے جتنی اُس وقت تھی۔ صدی بدل گئی، الفاظ وہی ہیں۔

 ترقی پسند تحریک جب ادب نے گریبان پکڑا

بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اردو ادب میں ایک طوفان آیا۔ پریم چند نے ہندوستانی گاؤں کی تصویر کھینچی کسان، مزدور، عورت، بچہ  وہ لوگ جو ادب کے صفحات پر کبھی نظر نہیں آتے تھے، اچانک مرکز میں آ گئے۔ سعادت حسن منٹو نے انسانی فطرت کے وہ پہلو اجاگر کیے جن سے "شریف لوگ" آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ عصمت چغتائی نے عورت کی وہ دنیا دکھائی جو ہمیشہ دروازوں کے پیچھے چھپی رہتی تھی۔

منٹو کے بارے میں ایک بات کہنا ضروری ہے۔ اُس پر فحاشی کے مقدمے چلے، اُسے برا بھلا کہا گیا۔ لیکن وہ کہتا تھا میں معاشرے کو وہی دکھاتا ہوں جو وہ ہے، اگر یہ برہنہ ہے تو قصور معاشرے کا ہے، میرا نہیں۔ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" آج بھی پڑھیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں دو ملکوں کی تقسیم اور ایک پاگل خانے کی تقسیم میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

ترقی پسند تحریک کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ادب اگر صرف امیروں کے ڈرائنگ روم کی زینت بنے تو وہ مر جاتا ہے۔ اصلی ادب وہ ہے جو ان لوگوں کی آواز بنے جن کی آواز نہ ہو۔

 علامہ اقبال شاعرِ فردا

اقبال کا ذکر ترقی پسند تحریک سے پہلے بھی ہونا چاہیے تھا کیونکہ اقبال کسی ایک تحریک کا حصہ نہیں تھے وہ خود ایک تحریک تھے۔

اقبال کی شاعری بیک وقت فرد کی تشکیل کرتی ہے اور قوم کو جھنجھوڑتی ہے۔ "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" میں انہوں نے وہ کام کیا جو بڑے بڑے علماء نہ کر سکے مسلمان کے دل کی بات کہی، اُس کی شکایت کی، اور پھر جواب بھی دیا۔ لیکن اقبال کا سب سے بڑا پیغام "خودی" کا فلسفہ ہے کہ انسان اگر اپنے آپ کو پہچان لے، اپنی قدر و قیمت جان لے، تو کوئی طاقت اسے غلام نہیں رکھ سکتی۔

آج کا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی ہے ہم نے خودی کھو دی ہے۔ نہ اپنی تاریخ کا علم ہے، نہ اپنی زبان سے محبت، نہ اپنی اقدار پر یقین۔ اقبال کا کلام اس کا علاج ہے، اگر ہم پڑھنے کی زحمت کریں۔

تقسیم کے بعد  ادب ٹوٹ کر بھی جڑا رہا

1947ء نے صرف زمین تقسیم نہیں کی، ادیبوں کو بھی تقسیم کیا۔ فیض احمد فیض پاکستان میں رہے، کرشن چندر ہندوستان میں۔ مگر اردو ادب کی روح نہیں ٹوٹی کیونکہ اچھا ادب سرحدیں نہیں مانتا۔

فیض نے جیل میں بیٹھ کر لکھا۔ اُن کی نظمیں محبت کی بھی ہیں اور انقلاب کی بھی اور خوبصورتی یہ ہے کہ فیض کے یہاں دونوں میں فرق نہیں۔ وطن سے محبت، انسان سے محبت، انصاف سے محبت  سب ایک ہی جذبے کے نام ہیں۔

"ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے" یہ جملہ صرف ایک نظم کا مصرع نہیں، ایک اُمید ہے جو ہر مظلوم کا سینہ تھامے ہوئے ہے۔

 ماضی کا آئینہ، حال کی تصویر

اب وہ سوال جو اصل میں پوچھا جانا چاہیے ان سب کا آج سے کیا تعلق؟

پہلی بات یہ کہ ہمارا ادبی ورثہ ہمیں بتاتا ہے کہ بحران کوئی نئی چیز نہیں۔ حالی کے وقت بھی تھا، غالب کے وقت بھی تھا، اقبال کے وقت بھی۔ لیکن ہر بار اٹھنا ہوا، ہر بار سوچنا پڑا، ہر بار لکھنا پڑا۔ قوم اُس وقت مرتی ہے جب وہ سوچنا بند کر دے۔

دوسری بات یہ کہ ترقی پسند تحریک نے ہمیں سکھایا کہ ادب کا کام صرف تفریح نہیں  وہ ضمیر جگاتا ہے۔ آج جب ہمارے ارد گرد ناانصافی ہے، غربت ہے، طاقت کا ناجائز استعمال ہے تو ادب خاموش نہیں رہ سکتا۔ منٹو نے نہیں رہنے دیا، فیض نے نہیں رہنے دیا۔ آج کے لکھنے والوں کو بھی یہ سوچنا ہوگا۔

تیسری بات  سرسید کی تحریک کا اصل پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔ تعلیم کے بغیر کوئی راستہ نہیں۔ جدید علوم سے آنکھیں بند کر کے صرف ماضی کا رونا رونے سے کچھ نہیں ملتا۔ سرسید نے یہ کہا تھا  سیکھو، اپنے آپ کو بدلو، پھر دنیا بدلے گی۔

اور آخری بات  اقبال کی "خودی"۔ ہمیں اپنی زبان سے شرمندہ نہیں ہونا چاہیے، اپنے ادب کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اردو وہ زبان ہے جس میں میر نے روئے، غالب نے سوچا، اقبال نے جگایا، فیض نے لڑا۔ یہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں  یہ ایک پوری تہذیب کا خزانہ ہے۔

اردو ادب کی تاریخ پڑھنا ایک عجیب تجربہ ہے۔ آپ پانچ سو سال پیچھے جائیں اور محسوس کریں کہ وہی مسائل ہیں، وہی سوالات ہیں، وہی الجھنیں ہیں۔ گویا ادب ہمیں بتا رہا ہے ہم نے پہلے بھی یہ غلطیاں کی ہیں، کیا دوبارہ کریں گے؟

شاید یہی ادب کی سب سے بڑی خوبی ہے وہ ہمیں یاد دلاتا رہتا ہے۔ جب ہم بھول جاتے ہیں تو میر کا ایک شعر، اقبال کا ایک مصرع، فیض کی ایک نظم آ کر کہتی ہے ابھی وقت ہے، ابھی کچھ ہو سکتا ہے، ابھی مت تھکو۔
اور شاید اسی لیے اردو زندہ ہے کیونکہ جب تک انسان کو اُمید کی ضرورت ہے، اسے اس زبان کی ضرورت رہے گی۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے