خالد سیف اللہ موتیہاری
کائنات کی ہر خوبصورت چیز کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہے۔ پھول جب کھلتا ہے تو اس میں ماں کی لوری کی خوشبو ہوتی ہے۔ صبح کی اذان جب فضا میں گونجتی ہے تو اس کی گونج کسی بہن کی دعا میں ملتی ہے۔ اور شام کا وہ دھواں جو چولہے سے اٹھتا ہے اس میں کسی بیوی کی محنت اور پیار کی مہک ہوتی ہے۔ عورت محض ایک مخلوق نہیں، وہ ایک احساس ہے وہ احساس جو گھر کو گھر بناتا ہے، رشتوں کو رشتہ بناتا ہے اور زندگی کو زندگی بناتا ہے۔
لیکن یہ احساس جب تکلیف میں ہو تو پوری کائنات کو درد ہوتا ہے۔ اور یہی وہ بات ہے جس نے آج ہمیں یہ مضمون لکھنے پر مجبور کیا۔
وہ جو تاریخ نے بھلا دیا
تاریخ کا ورق پلٹیں تو ایک عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ جن تہذیبوں نے عورت کو دیوی کہا، انہی نے اسے انسانی حقوق سے محروم رکھا۔ جنہوں نے اسے "گھر کی ملکہ" کا خطاب دیا، انہی نے اسے محل کی قیدی بنا دیا۔ یہ تضاد انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہےکہ جس کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی، اسے سب سے زیادہ نظر انداز بھی کیا گیا۔
پھر چودہ سو سال پہلے ریگستان کی دھول میں ایک آواز اٹھی اور اس نے وہ کہا جو دنیا نے کبھی نہیں سنا تھا۔ اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیے جن کا مغرب نے تو ابھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا وراثت کا حق، تعلیم کا حق، اپنے نکاح میں رضامندی کا حق، اپنا مال رکھنے کا حق۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی کے آنے پر کھڑے ہو کر استقبال کیا اور اس ایک عمل میں عورت کی عزت کی پوری فلسفہ سمٹ آئی۔ لیکن ہم نے وہ فلسفہ کتابوں میں بند کر دیا اور اپنی روایتوں کو دین کا نام دے دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ہم غلط ہوئے اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے ہمیں واپس آنا ہے۔
حقوق جو دیے گئے، زنجیریں جو بنا دی گئیں
حق ایک ایسی شے ہے جو مانگنے سے نہیں ملتی وہ تسلیم کی جاتی ہے۔ اور جب تسلیم کرنے والے خود انکار کر دیں تو پھر ظلم شروع ہوتا ہے، خواہ وہ ظلم چیخ و پکار کے ساتھ ہو یا مسکراہٹ کے پردے میں لپٹا ہو۔
ہمارے معاشرے میں عورت کو سکھایا جاتا ہے کہ "صبر بڑی نعمت ہے" اور یہ سچ بھی ہے، لیکن اس جملے کو اکثر اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ عورت ظلم کو عبادت سمجھ لے۔ جائیداد میں حصہ مانگنا "بے حیائی" بن جاتی ہے، تعلیم حاصل کرنا "ضرورت سے زیادہ" ہو جاتا ہے، اور خلع لینا "خاندان کی ناک کاٹنا" ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ روایات نہیں ہیں یہ صدیوں کا جمع کیا ہوا ظلم ہے جسے روایت کا لباس پہنا دیا گیا ہے۔
لیکن دوسری طرف مغرب کا وہ تصور بھی درست نہیں جو عورت کو صرف مرد کی "برابری" کے پیمانے پر ناپتا ہے۔ جب آزادی کے نام پر عورت سے اس کی مامتا چھین لی جائے، گھر کی ملکہ ہونا "پسماندگی" کہلائے، اور ماں بننے کو "کمزوری" سمجھا جائےتو یہ آزادی نہیں، یہ ایک اور قسم کی غلامی ہے۔ عورت کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ مرد جیسی بن جائےعورت کی عظمت اس میں ہے کہ وہ خود جیسی رہے، اور اس "خود" کو پوری دنیا عزت سے دیکھے۔
حقیقی حق وہ ہے جو عورت کو وہ بنائے جو وہ بننا چاہتی ہے نہ کہ جو کسی اور نے اس کے لیے طے کر دیا ہو۔
ذمہ داری جو بوجھ نہیں، بادشاہت ہے
دنیا میں جسے سب سے بڑی ذمہ داری دی جاتی ہے، وہی سب سے بڑا انسان ہوتا ہے اور اس پیمانے پر عورت سے بڑا انسان کوئی نہیں۔ وہ ماں ہے تو نسل کی درسگاہ ہے۔ وہ بیوی ہے تو گھر کی بنیاد ہے۔ وہ بیٹی ہے تو باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ وہ استاد ہے تو قوم کی معمار ہے۔ اور وہ جب بھی کوئی کردار ادا کرتی ہے اسے پوری جان سے ادا کرتی ہے، کیونکہ ادھورا کام عورت کی فطرت میں نہیں۔
ماں کی گود کو اللہ تعالیٰ نے اتنا عظیم بنایا کہ وہاں جنت رکھ دی۔ سوچیں جنت کسی محل میں نہیں، کسی خزانے میں نہیں، کسی اونچی کرسی میں نہیں وہ ایک عورت کے قدموں تلے ہے۔ اس سے بڑی عزت تاریخ میں کبھی کسی کو نہیں ملی۔ لیکن ہم نے اس جنت کو بے قدری سے پامال کیا اور پھر حیران ہوتے رہے کہ گھر ویران کیوں ہوئے۔
بیوی کی ذمہ داریوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن شوہر کی ذمہ داریوں کے بارے میں بہت کم۔ قرآن نے صاف کہا: 'وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ' (اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو)۔ بھلائی کا مطلب صرف روٹی اور کپڑا نہیں، بلکہ بھلائی کا مطلب عزت ہے، توجہ ہے، اور وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو عورت کو اس کے گھر میں سکون کا احساس دلاتی ہیں۔
گھریلو زندگی جہاں دل کا سب سے بڑا امتحان ہے
گھر کی چار دیواری یہ وہ جگہ ہے جہاں عورت کی اصل زندگی گزرتی ہے اور جہاں اس کے سب سے بڑے امتحان ہوتے ہیں۔ کوئی سرٹیفکیٹ نہیں، کوئی تنخواہ نہیں، کوئی چھٹی نہیں لیکن محنت چوبیس گھنٹے، بارہ مہینے، پوری زندگی۔ اور اس محنت کا اعتراف؟ اکثر وہ بھی نہیں۔
جدید نفسیات نے ایک اصطلاح بنائی ہے "Mental Load" یعنی وہ پوشیدہ ذہنی بوجھ جو عورت ہر وقت اٹھاتی ہے۔ کل کیا پکانا ہے، بچے کا اسکول کا کام ہوا یا نہیں، مہمان آنے والے ہیں، سبزی ختم ہو رہی ہے، ساس کی دوا لانی ہے یہ سب ایک ساتھ ذہن میں چلتا رہتا ہے اور کوئی نہیں دیکھتا کیونکہ یہ بوجھ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ اسی لیے عورت تھکی ہوئی ہوتی ہے بغیر کسی کام کے نظر آتی ہے اور پھر یہ طعنہ بھی ملتا ہے کہ "کرتی کیا ہو سارا دن؟"
اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں اس سوال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اور سمجھنا ان لوگوں کا کام ہے جو گھر میں رہتے ہیں مگر گھر کی زندگی سے بے خبر ہیں۔
گھریلو تشدد اس سارے منظرنامے کا سب سے تاریک پہلو ہے۔ جب گھر جہنم بن جائے تو عورت کہاں جائے؟ ہمارے معاشرے کا جواب ہے "صبر کرو" لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے جہاں وہ کردار کی بزدلی میں بدل جاتا ہے۔ ظلم سہنا عبادت نہیں، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا بہادری ہے اور یہ بہادری اسلام نے بھی سکھائی ہے، ہمارے سماج نے اسے بھلا دیا ہے۔
مسائل جو حقیقی ہیں اور راستے جو ممکن ہیں
بات کرتے ہیں ان مسائل کی جو ہمارے گھروں میں زندہ ہیں نہ اخباروں کی سرخیوں میں، بلکہ ان کمروں میں جہاں روشنی کم ہے اور درد زیادہ۔
تعلیم کا مسئلہ آج بھی لاکھوں لڑکیوں کی زندگی کا سب سے بڑا درد ہے۔ جب کوئی باپ یہ سوچ کر بیٹی کو اسکول سے اٹھا لیتا ہے کہ "پڑھ کر کیا کرے گی" تو وہ دراصل ایک پوری نسل کو تاریکی کی طرف دھکیل رہا ہوتا ہے۔ ایک پڑھی لکھی ماں پانچ بچوں کی تقدیر بدل سکتی ہے یہ سادہ سا حساب ہے جسے سمجھنے کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں، صرف ایک کھلے دل کی ضرورت ہے۔
کم عمری کی شادی، صحت کی سہولیات تک رسائی کا نہ ہونا، معاشی انحصار اور ذہنی صحت کا مسئلہ یہ سب الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ جب عورت پڑھی لکھی ہوگی تو اپنی صحت سمجھے گی۔ جب معاشی طور پر خودکفیل ہوگی تو ظلم برداشت کرنے پر مجبور نہیں ہوگی۔ جب ذہنی طور پر مضبوط ہوگی تو اپنی بیٹی کو بھی وہی قوت دے سکے گی۔ حل پیچیدہ نہیں بس ایک قدم کا حق چاہیے، اور پھر عورت خود راستہ بنا لیتی ہے۔
ذہنی صحت کے بارے میں ہمارا معاشرہ آج بھی خاموش ہے۔ "عورت تھک نہیں سکتی" یا "عورت کو ہر حال میں صبر کرنا ہے" جیسے جملے اسے پتھر بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ لیکن پتھر بھی ایک دن ٹوٹ جاتا ہے۔ عورت کو ضرورت ہے کہ کوئی اسے سنے؛ بغیر کسی فیصلے کے، بغیر کسی طعنے کے، بس اسے سنے۔ اور اس (احساس) کا آغاز گھر سے ہونا چاہیے، کسی ادارے سے نہیں۔
وہ عورت جو ہم نے دیکھی نہیں
تاریخ کی کتابوں میں وہ عورتیں ہیں جنہیں ہم نے بھلا دیا لیکن جنہوں نے دنیا بدل دی۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا جو ایک کامیاب تاجرہ تھیں اور جنہوں نے اسلام کی پہلی سرپرستی کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جن سے چودہ سو مسائل منقول ہیں اور جن کے پاس علم کی پیاس بجھانے صحابہ کرام آتے تھے۔ فاطمہ الفہری جنہوں نے دنیا کی پہلی یونیورسٹی قائم کی اور وہ عورت تھیں۔ رابعہ بصری جن کی روحانیت کے سامنے بڑے بڑے علماء سر جھکاتے تھے۔
یہ کہانیاں اس لیے نہیں سنائی جاتیں کہ ہمیں شاید ڈر ہے اگر عورت کو معلوم ہو گیا کہ وہ کیا کر سکتی ہے، تو وہ کر کے دکھا دے گی۔
ایک نئی صبح کا وعدہ
خواتین کی دنیا اندھیروں میں نہیں ڈوبی رہے گی کیونکہ اندھیرا کبھی دائمی نہیں ہوتا۔ لیکن صبح خود نہیں آتی اسے لانا پڑتا ہے۔ اور یہ کام صرف عورت کا نہیں، یہ کام اس پورے معاشرے کا ہے جو عورت کی گود میں پلا ہے۔
باپ کا کام ہے کہ بیٹی کو بتائے تم کمتر نہیں ہو، تم مکمل ہو۔ بھائی کا کام ہے کہ بہن کے خواب کا مذاق نہ اڑائے بلکہ اسے پر دے۔ شوہر کا کام ہے کہ بیوی کو قید نہ کرے بلکہ اس کے ہاتھ تھامے اور ساتھ چلے۔ بیٹے کا کام ہے کہ ماں کی خدمت کو بوجھ نہ سمجھے بلکہ اعزاز سمجھے۔ اور معاشرے کا کام ہے کہ عورت کو اس کی مکمل شناخت دے نہ فرشتہ بنا کر آسمان پر چڑھائے اور نہ بوجھ سمجھ کر زمین پر رکھے۔ بس ایک مکمل، باعزت، باصلاحیت انسان،سمجھے۔
اور عورت سے بھی یہی کہنا ہے اپنی قدر جانو۔ اپنے حق کو حق سمجھو۔ اپنی تھکاوٹ کو کمزوری مت سمجھو جو سب کا بوجھ اٹھائے وہ کبھی کمزور نہیں ہوتا۔ تم وہ ہو جس کے قدموں تلے جنت ہے، جس کی گود میں نسلیں پلتی ہیں، جس کے بغیر گھر گھر نہیں لگتا۔ تمہاری دنیا خوبصورت ہے بس اسے وہ روشنی چاہیے جو تمہارا حق ہے۔
جس معاشرے میں عورت مسکراتی ہے، وہاں بچے ہنستے ہیں۔ جہاں بچے ہنستے ہیں، وہاں مستقبل روشن ہوتا ہے۔ اور جہاں مستقبل روشن ہو وہاں خدا کی رحمت سایہ کرتی ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں