خالد سیف اللہ موتیہاری
وقت کے بارے میں سوچتا ہوں تو عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ نہ دکھتا ہے، نہ چھوا جا سکتا ہے، نہ روکا جا سکتا ہے مگر اس کے گزرنے کا احساس ہر لمحہ ہوتا ہے۔ جیسے کوئی خاموش مہمان آئے، بیٹھے، اور بغیر اجازت چلا جائے اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں۔
بچپن میں وقت ایک سست گھوڑا تھا۔ اسکول کی چھٹی ہونے میں گھنٹوں لگتے، گرمی کی تعطیلات ختم ہونے میں زمانے۔ ہر دن ایک چھوٹی سی عمر لگتا تھا۔ مگر جوں جوں عقل بڑھی، وقت بھی تیز ہو گیا جیسے اسے پتہ چل گیا کہ اب انسان اس کی قدر جاننے لگا ہے، تو وہ مزید بے نیاز ہو گیا۔
فلاسفروں نے وقت کو بہت سمجھانے کی کوشش کی۔ ارسطو نے کہا یہ حرکت کی پیمائش ہے، آئن سٹائن نے کہا یہ رشتہ دار ہےمگر وہ بوڑھا جو شام کو چائے پیتے ہوئے کہتا ہے "پتہ نہیں کہاں گئی زندگی"، اس نے وقت کو سب سے گہرا سمجھا ہے۔
ہم سب وقت کے ساتھ ایک عجیب رشتہ رکھتے ہیں۔ جب خوشی ہو تو کہتے ہیں "یہ لمحہ رک جائے"، جب تکلیف ہو تو کہتے ہیں "یہ وقت گزر جائے"۔ گویا ہم چاہتے ہیں کہ وقت ہمارا نوکر بن جائے اور وقت ہے کہ کسی کا بھی نوکر نہیں بنا۔ وہ بادشاہوں کے محل بھی ڈھا دیتا ہے اور فقیروں کی جھونپڑیاں بھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وقت کا ضیاع کرنے والے اکثر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ "وقت نہیں ملتا"۔ جیسے وقت کوئی چیز ہو جو ملتی ہے حالانکہ وقت تو سب کو برابر ملتا ہے، چوبیس گھنٹے، نہ امیر کو زیادہ نہ غریب کو کم۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی اسے سونے میں ڈھال لیتا ہے اور کوئی راکھ میں۔
وقت کی سب سے بڑی خوبی اور سب سے بڑا ظلم ایک ہی ہےکہ وہ لوٹتا نہیں۔ یہی اس کی عظمت ہے کہ ہر لمحہ انوکھا ہے، یہی اس کا ستم ہے کہ ہر گزرا لمحہ ابدی ہے۔
آخر میں بس یہی سوچتا ہوں کہ وقت کو قابو کرنا ممکن نہیں، مگر اس کے ساتھ چلنا ضرور ممکن ہے۔ جو اس راز کو سمجھ لے، وہ وقت کا غلام نہیں، ہمسفر بن جاتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں