مقالہ نگار: خالد سیف اللہ موتیہاری
کوئی بھی زبان صرف الفاظ اور قواعد کی ترتیب نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اندر ایک پوری قوم کی سوچ، اس کی تہذیب، اس کا رہن سہن اور اس کے احساسات سانس لیتے ہیں۔ اردو زبان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہ زبان کسی ایک دن میں وجود میں نہیں آئی، بلکہ مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے میل جول سے آہستہ آہستہ بنی اور برصغیر کی گنگا جمنی روایت کی خوبصورت علامت بن گئی۔ اس مقالے میں ہم اردو زبان کے اسی سفر پر نظر ڈالیں گے، یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ اس نے کن زبانوں سے اثر قبول کیا، ان سے اس کا رشتہ کیا رہا، اور ہماری سماجی و ثقافتی زندگی میں اس کی اہمیت کیوں اور کیسے قائم ہوئی۔
اردو کی تشکیل اور ارتقائی مراحل
اردو زبان کی ابتدا اور نشوونما کا عمل تقریباً آٹھ سو سال پر محیط ہے۔ بارہویں صدی عیسوی میں جب مسلمان فاتحین ہندوستان میں داخل ہوئے تو ان کی زبانیں عربی، فارسی اور ترکی تھیں۔ یہاں کی مقامی زبانیں جن میں سنسکرت، پراکرت اور مختلف علاقائی بولیاں شامل تھیں، ان سے رابطے کے نتیجے میں ایک نئی لسانی صورتحال پیدا ہوئی۔
ابتدائی دور میں دہلی اور اس کے گردونواح میں جو زبان بولی جاتی تھی اسے دہلوی، ہندوی یا ریختہ کہا جاتا تھا۔ اس دور کی زبان میں کھڑی بولی کی بنیاد واضح تھی جس پر فارسی اور عربی کے الفاظ اور محاورات کی تہیں چڑھتی گئیں۔ تیرہویں اور چودہویں صدی میں امیر خسرو جیسے شعرا نے اس ابھرتی ہوئی زبان کو ادبی اظہار کا ذریعہ بنایا۔ امیر خسرو کی تخلیقات میں ہندوی اور فارسی کا حسین امتزاج ملتا ہے جو اردو کی ابتدائی شکل کی عکاسی کرتا ہے۔
دکن میں پندرہویں صدی سے اردو کو باقاعدہ سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی۔ بہمنی سلطنت اور بعد میں قطب شاہی اور عادل شاہی حکومتوں نے دکنی اردو کو فروغ دیا۔ محمد قلی قطب شاہ، ملا وجہی اور دیگر شعرا نے دکنی اردو میں شاندار ادب تخلیق کیا۔ اس دور کی زبان میں مقامی رنگ زیادہ گہرا تھا اور تلگو، مراٹھی اور کنڑی کے اثرات نمایاں تھے۔
اٹھارہویں صدی میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے ساتھ شمالی ہند میں اردو کا مرکز دہلی سے لکھنؤ منتقل ہوا۔ لکھنؤ کی نوابی دربار میں اردو زبان وادب کو عروج حاصل ہوا۔ میر تقی میر، سودا، مصحفی، انشا اور آتش جیسے عظیم شعرا نے اس دور میں اردو شاعری کو بام عروج تک پہنچایا۔
انیسویں صدی میں سرسید احمد خان کی تحریک نے اردو نثر کو نیا رخ دیا۔ سائنسی اور عصری موضوعات کو اردو میں بیان کرنے کی کوشش نے اردو کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ اس کے بعد حالی، شبلی، اقبال، پریم چند، کرشن چندر، منٹو اور فیض جیسے ادبا اور شعرا نے اردو ادب کو عالمی سطح پر پہچان دلائی۔
اردو اور عربی فارسی کا رشتہ
اردو پر سب سے گہرا اثر فارسی زبان کا ہے۔ تقریباً چھ سو سال تک فارسی برصغیر کی سرکاری زبان رہی اور اس نے یہاں کی تہذیبی زندگی پر گہرے نقوش ثبت کیے۔ اردو کی تشکیل میں فارسی کا کردار محض لغوی نہیں بلکہ نحوی، صرفی اور اسلوبیاتی بھی ہے۔
اردو میں موجود ہزاروں الفاظ براہ راست فارسی سے لیے گئے ہیں۔ روزمرہ کی گفتگو سے لے کر ادبی اظہار تک فارسی الفاظ کی موجودگی نمایاں ہے۔ خوبصورت، باغ، گل، بہار، دیوار، دریا، سرکار، دفتر، جیسے بے شمار الفاظ فارسی کی دین ہیں۔ فارسی سے صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ تشبیہات، استعارے، محاورے اور ضرب الامثال بھی اردو میں آئے۔
اردو کا رسم الخط فارسی نستعلیق ہے جو عربی رسم الخط کی ایک خوبصورت شکل ہے۔ اس رسم الخط نے اردو کو بصری شناخت عطا کی۔ شاعری کی بیشتر اصناف غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی اور مرثیہ فارسی سے اخذ کی گئی ہیں۔ اردو شاعری کے موضوعات، علامتیں اور تخیلاتی دنیا پر فارسی شاعری کا گہرا اثر ہے۔
عربی زبان کا تعلق اردو سے مذہبی اور علمی دونوں حوالوں سے ہے۔ اسلامی تعلیمات کی زبان ہونے کی وجہ سے عربی الفاظ اردو میں مذہبی، اخلاقی اور روحانی تصورات کے اظہار کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ زکوٰۃ، حج، قرآن، حدیث، ایمان، اسلام جیسے الفاظ براہ راست عربی سے آئے ہیں۔ علمی اصطلاحات میں بھی عربی الفاظ کی کثرت ہے جیسے علم، ادب، تاریخ، منطق، ریاضی وغیرہ۔
اردو اور ہندی: مشترکات اور امتیازات
اردو اور ہندی کا تعلق برصغیر کی لسانی تاریخ کا ایک پیچیدہ اور اہم باب ہے۔ دونوں زبانوں کی بنیاد کھڑی بولی پر ہے اور بول چال کی سطح پر ان میں بڑی حد تک مماثلت ہے۔ گرائمر کا ڈھانچہ، فعل کی تشکیل، جملوں کی ترتیب اور بنیادی الفاظ میں یکسانیت نمایاں ہے۔
تاریخی طور پر انیسویں صدی کے وسط تک ہندی اور اردو میں واضح تفریق نہیں تھی۔ ہندوستانی یا ہندوی کے نام سے جانی جانے والی یہ زبان ہندو اور مسلمان دونوں برادریاں استعمال کرتی تھیں۔ فورٹ ولیم کالج میں جان گلکرائسٹ کی کوششوں سے دونوں زبانوں کو الگ الگ شناخت دینے کا عمل شروع ہوا۔
انیسویں صدی کے آخر میں جب ہندوؤں میں قومی شعور بیدار ہوا تو انہوں نے سنسکرت کی طرف رجوع کیا اور ہندی میں سنسکرت الفاظ کی آمیزش بڑھانے کی تحریک شروع کی۔ دوسری طرف مسلمانوں نے فارسی عربی الفاظ کو زیادہ اپنایا۔ یوں دونوں زبانیں جو ایک ہی تنے سے نکلی تھیں، مختلف سمتوں میں بڑھنے لگیں۔
بیسویں صدی میں سیاسی وسماجی عوامل نے اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جانے لگی جبکہ اردو نستعلیق میں۔ آزادی کے بعد بھارت نے ہندی کو اور پاکستان نے اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا۔
باوجود ان تمام تفریقات کے دونوں زبانوں میں بنیادی اشتراک آج بھی موجود ہے۔ بالی ووڈ فلموں میں جو زبان استعمال ہوتی ہے وہ دراصل ہندی اردو کا امتزاج ہے جسے ہندوستانی کہا جا سکتا ہے۔ عام لوگوں کے درمیان بول چال میں یہ تفریق اتنی حاد نہیں جتنی ادبی یا رسمی سطح پر ہے۔
اردو اور دیگر ہندوستانی زبانیں
اردو کا تعلق برصغیر کی دیگر علاقائی زبانوں سے بھی گہرا رہا ہے۔ پنجابی زبان کے ساتھ اردو کا رشتہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ پنجاب میں اردو صدیوں سے تعلیمی اور سرکاری زبان رہی ہے۔ بہت سے پنجابی شعرا نے اردو میں شاعری کی اور اردو شاعری پر پنجابی زبان کے محاورات اور الفاظ کے اثرات بھی ملتے ہیں۔
بنگالی زبان برصغیر کی قدیم ترین ادبی زبانوں میں سے ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں بنگال میں اردو کا رواج کافی تھا۔ میر تقی میر اور نظیر اکبر آبادی کے بعد بنگال سے تعلق رکھنے والے بہت سے شعرا نے اردو ادب کو نمایاں خدمات انجام دیں۔ بنگالی اور اردو ادب کے درمیان خیالات اور اسالیب کا تبادلہ ہوتا رہا۔
سندھی زبان کا تعلق بھی اردو سے تاریخی رہا ہے۔ سندھ میں اردو تعلیمی اور انتظامی زبان کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ سندھی ادیبوں اور شاعروں نے اردو میں بھی لکھا اور دونوں زبانوں کے درمیان ادبی تبادلے کا سلسلہ جاری رہا۔
دکن کی زبانوں تلگو، کنڑی اور مراٹھی کا اردو پر خاص اثر رہا۔ دکنی اردو میں ان زبانوں کے الفاظ، محاورات اور لہجے کی جھلک ملتی ہے۔ حیدرآباد دکن میں اردو نے ایک منفرد شکل اختیار کی جو آج بھی محفوظ ہے۔
گجراتی زبان کے ساتھ بھی اردو کے تعلقات دوستانہ رہے ہیں۔ گجرات میں اردو بولنے والوں کی معتدبہ تعداد ہے اور دونوں زبانوں میں لفظیات کا تبادلہ ہوا ہے۔
اردو کا عالمی تناظر
اردو صرف برصغیر تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ قومی زبان ہے اور بھارت میں تقریباً سات کروڑ لوگ اسے مادری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ بھارت کی آئین میں اردو کو سرکاری زبانوں میں شامل کیا گیا ہے۔
خلیجی ممالک خاص طور پر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور عمان میں پاکستانی اور ہندوستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد کی وجہ سے اردو کافی عام ہے۔ برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں بھی جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں اردو وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اردو کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ متعدد یونیورسٹیوں میں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے اور اقوام متحدہ کے ترجمان کارکنوں میں اردو دان افراد بھی شامل ہیں۔ اردو ادب کی کلاسیک تخلیقات دنیا کی بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔
اردو کا ادبی ورثہ
اردو زبان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا شعری ادب ہے۔ غزل جو اردو شاعری کی مقبول ترین صنف ہے، عالمی ادب میں اپنی منفرد جگہ رکھتی ہے۔ میر، غالب، مومن، ذوق، داغ، جگر، فانی، فراق، فیض، احمد فراز اور پروین شاکر جیسے شعرا نے غزل کو عروج عطا کیا۔
نظم، مرثیہ، قصیدہ، مثنوی اور دیگر اصناف میں بھی اردو کا ادب بہت وسیع ہے۔ انیس اور دبیر کے مرثیے، حالی کی مسدس، اقبال کا فلسفیانہ کلام اردو ادب کے شاہکار ہیں۔
نثری ادب میں داستان، ناول، افسانہ، ڈرامہ اور تنقید سب میں اردو نے قابل قدر کام کیا ہے۔ پریم چند کے افسانے، قرۃ العین حیدر کے ناول، منٹو کے سکیچ، کرشن چندر کی کہانیاں اردو نثر کے شاہکار ہیں۔
اردو زبان کے مسائل اور چیلنجز
جدید دور میں اردو کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ تعلیمی نظام میں اردو کو مناسب جگہ نہیں مل سکی۔ بھارت میں اردو میڈیم اسکولوں کی کمی اور معیار کے مسائل ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ اردو قومی زبان ہے لیکن اعلیٰ تعلیم اور سرکاری کام کاج میں انگریزی کا غلبہ ہے۔
ڈیجیٹل دور میں اردو کمپیوٹنگ اور انٹرنیٹ پر دیگر زبانوں کے مقابلے میں پیچھے ہے۔ اردو کی بورڈز، فونٹس اور سافٹویئر کی ترقی میں بہتری ہوئی ہے لیکن ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر اردو رومن رسم الخط میں لکھی جاتی ہے جو زبان کی اصل شکل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
میڈیا میں اردو کی صورتحال مخلوط ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز میں اردو کا استعمال ہوتا ہے لیکن معیار میں کمی آ رہی ہے۔ صحافت میں انگریزی اور ہندی الفاظ کی بےجا آمیزش اردو کی شناخت کو دھندلا رہی ہے۔
بعض حلقوں میں اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا ہے جو ایک غلط تصور ہے۔ اردو کی نشوونما اور ارتقا میں ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کا برابر کا حصہ رہا ہے۔ منشی پریم چند، فراق گورکھپوری، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی جیسے غیر مسلم ادیبوں نے اردو کو بیش بہا خدمات انجام دیں۔
اردو کا مستقبل اور امکانات
اردو زبان کے مستقبل کے بارے میں دو طرح کے نقطہ نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقہ مایوسی کا اظہار کرتا ہے اور دوسرا امید کی کرن دیکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زبانیں معاشرتی ضرورتوں کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں اور اردو بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں۔
اردو کی بقا اور ترقی کے لیے چند اقدامات ضروری ہیں۔ تعلیمی نظام میں اردو کو مناسب مقام دینا، جدید علوم کی اردو میں تدریس کا اہتمام، معیاری اردو اساتذہ کی تربیت، نصابی کتب کا معیار بہتر بنانا اور اردو میڈیم اداروں کی مالی مدد ضروری ہے۔
ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بہتر سافٹ ویئر، ایپلی کیشنز، ویب سائٹس اور ڈیجیٹل مواد کی فراہمی سے اردو نوجوان نسل تک پہنچ سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور مشینی ترجمہ کے شعبوں میں اردو پر کام کرنا بھی ضروری ہے۔
اردو کی ادبی روایت کو زندہ رکھنا اور نئے ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی اہم ہے۔ ادبی انعامات، مقابلے، سیمینار اور ورکشاپس کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے۔
اردو کو مذہبی تشخص سے نکال کر ایک علاقائی اور ثقافتی زبان کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے۔ تمام برادریوں کو اردو سے جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اردو کی جامع اور روادار تاریخ کو اجاگر کرنا اس میں مددگار ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اردو کی نمائندگی اور فروغ کے لیے اقدامات کرنا بھی ضروری ہے۔ غیر ملکی یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبے قائم کرنا، اردو ادب کا دوسری زبانوں میں ترجمہ، ثقافتی تبادلے کے پروگرام اور عالمی ادبی میلوں میں شرکت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
خلاصہ کلام
اردو زبان برصغیر کی کثیر الثقافتی روایت کی ایک خوبصورت یادگار ہے۔ اس کی تشکیل میں مختلف زبانوں اور تہذیبوں کا حصہ ہے اور یہی اس کی طاقت ہے۔ عربی فارسی سے لے کر ہندی اور دیگر ہندوستانی زبانوں تک، سب نے اردو کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔
اردو کی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ زبانیں دیواریں نہیں بلکہ پل ہیں۔ اردو نے مختلف مذاہب، علاقوں اور برادریوں کے درمیان رابطے کا کام کیا۔ اس کا ادب انسانی جذبات، احساسات اور تجربات کا ایک وسیع خزانہ ہے۔
آج کے دور میں اردو کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ سنگین ضرور ہیں لیکن ناقابل حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں، تعلیمی ادارے، ادبی تنظیمیں اور عام لوگ مل کر اردو کی بقا اور ترقی کے لیے کام کریں۔ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک ثقافت اور لاکھوں لوگوں کی شناخت ہے۔ اسے محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اردو کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس طرح جدید دور کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ روایت اور جدت کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے، اردو کو ٹیکنالوجی، سائنس، تجارت اور تمام شعبہ ہائے زندگی کی زبان بنانا ممکن ہے۔ اردو کی لچک، وسعت اور اظہار کی قوت اسے ہر دور میں زندہ رہنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس زبان سے محبت کریں، اس پر فخر کریں اور اسے اگلی نسلوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں