تحریر: خالد سیف اللہ موتیہاری
ادب زندگی کا وہ آئینہ ہے جس میں معاشرہ اپنا عکس دیکھتا ہے۔ جب ایک حساس قلم کار اپنے گرد و پیش کی تلخیوں کو محسوس کرتا ہے، تو وہ صرف کہانیاں ہی نہیں لکھتا بلکہ اپنے عہد کے سلگتے ہوئے سوالات کو افسانوی قالب میں ڈھال دیتا ہے۔ اردو افسانے کی موجودہ روایت میں ایک ایسا ہی نمایاں نام عزیر انجم کا ہے، جن کا مجموعہ "انجام" انسانیت کے دکھوں، سماجی ناانصافیوں اور اخلاقی گراوٹ کے خلاف ایک توانا آواز بن کر ابھرا ہے ۔
عزیر انجم کا تعلق مشرقی چمپاران، بہار کی اس مردم خیز زمین سے ہے جہاں کی مٹی میں فکر و شعور کی خوشبو رچی بسی ہے۔ ایک کہنہ مشق صحافی ہونے کے ناطے ان کا مشاہدہ نہایت گہرا اور وسیع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقات میں خیالی تصورات کے بجائے زندگی کی تپش اور زمینی حقائق کا غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ 2016ء میں شائع ہونے والا یہ مجموعہ ان کے اسی صحافتی تجربے اور ادبی بصیرت کا حسین سنگم ہے۔
فاروق راہب نے کتاب کے مقدمے میں بالکل درست لکھا ہے کہ عزیر انجم وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر معاشرے کے ناسوروں کی نشاندہی کرنے کا فن جانتے ہیں۔ ان کے افسانے کسی بند کمرے کی تخلیق نہیں بلکہ ان بستیوں اور گلیوں کی کہانیاں ہیں جہاں زندگی سیلاب کی لہروں سے نبرد آزما ہے یا غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔ ان کی تحریروں میں بیانیہ کی سادگی اور روانی قاری کو شروع سے آخر تک اپنے ساتھ رکھتی ہے۔
کتاب میں شامل افسانے موضوعات کا ایک ایسا تنوع پیش کرتے ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ افسانہ "بھنور میں زندگی" 2008ء کے کوسی ندی کے سیلاب کی تباہ کاریوں کا وہ نقشہ کھینچتا ہے جو دلوں کو دہلا دیتا ہے۔ لیکن مصنف یہاں صرف قدرتی آفت پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ وہ ان راحت رسانی کے مراکز میں چھپی ہوئی اخلاقی پستی اور انسانیت سوز رویوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جہاں مصیبت زدہ عورتوں کی تذلیل کی جاتی ہے۔
اسی طرح افسانہ "آخر کب تک؟" ہمارے تعلیمی نظام اور سماجی منافقت کا پردہ چاک کرتا ہے۔ ایک طرف شہر کے پروقار آڈیٹوریم میں تعلیم کی اہمیت پر بڑے بڑے دانشوروں کی تقریریں ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف اسی ہال کے باہر بچے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے سڑک پر تماشا دکھا رہے ہیں ۔ یہ تضاد ہمارے سماج کے اس بدنما داغ کی عکاسی کرتا ہے جسے ہم اکثر دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔
عزیر انجم نے اپنے افسانوں کے ذریعے عورت کی بے بسی اور جہیز جیسی سماجی برائی پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔ "چوٹ" اور "بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے" جیسے افسانے یہ دکھاتے ہیں کہ کس طرح دولت کی ہوس رشتوں کے تقدس کو نگل جاتی ہے اور کس طرح ایک بیٹی کے خوابوں کو جہیز کی بھٹی میں جھونک دیا جاتا ہے۔ ان کہانیوں میں مصنف کا قلم ایک اصلاح کار کا روپ دھار لیتا ہے جو معاشرے کو آئینہ دکھانے کی تڑپ رکھتا ہے۔
مصنف نے صرف مایوسی اور تاریکی کا ہی ذکر نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اپنے کرداروں کے ذریعے انسانیت کی بقا کی امید بھی دلائی ہے۔"وطن پرستی" کا کردار ہادی میاں اپنی ذاتی زندگی کو خیرباد کہہ کر تعلیمی مشن کے لیے وقف ہو جاتا ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ خدمتِ خلق ہی اصل حب الوطنی ہے۔ اسی طرح "انسانیت زندہ ہے" میں پرکاش چاچا کا کردار فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک ایسی عظیم مثال پیش کرتا ہے جہاں مذہب سے اوپر اٹھ کر ایک یتیم بچی کی پرورش کرنا زندگی کا مقصد قرار پاتا ہے۔
کتاب کا عنوان "انجام" بذاتِ خود ایک انتباہ ہے کہ ہمارے سماجی اور انفرادی اعمال کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے۔ چاہے وہ "انوکھی مسکراہٹ" کے عیدو میاں کی زندگی ہو یا "تلاش" میں امن کی جستجو، ہر افسانہ انسانی ضمیر پر دستک دیتا ہے۔ مصنف نے اپنی تحریروں کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر ہم نے اپنے رویوں کی اصلاح نہ کی تو ہمارا انجام نہایت بھیانک ہو سکتا ہے۔
عزیر انجم کا مجموعہ "انجام" اردو افسانوی ادب میں حقیقت نگاری کا ایک روشن ستارہ ہے۔ یہ کتاب ان تمام لوگوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو ادب کو صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا ہتھیار مانتے ہیں۔ ان کے سادہ مگر پراثر اسلوب نے ان تمام موضوعات کو زندہ جاوید بنا دیا ہے جو ہمارے معاشرے کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ یقیناً یہ مجموعہ ہر اس فرد کے مطالعے میں آنا چاہیے جو ایک بہتر اور انسانیت پر مبنی معاشرے کی تشکیل کا خواہشمند ہے۔
کتاب کی تفصیلات:
نام: انجام (افسانوی مجموعہ)
مصنف: عزیر انجم
ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں