واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

حلال روزی اور رزق کی برکت

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

خالد سیف اللہ موتیہاری 

انسان کی زندگی میں رزق ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن و حدیث میں حلال روزی کمانے اور اس میں برکت کی اہمیت پر خاص زور دیا گیا ہے، کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کی دنیا و آخرت کو سنوارتا ہے۔ حلال رزق کا مفہوم محض کھانے پینے کے ذرائع تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع تصور ہے جو کسی بھی جائز، پاکیزہ اور دیانت داری سے کمائے گئے مال پر مشتمل ہوتا ہے۔ جو شخص حلال کمائی اختیار کرتا ہے، اس کی زندگی میں سکون، طمانیت اور روحانی بالیدگی پیدا ہوتی ہے، جب کہ حرام مال نہ صرف دنیاوی مصیبتوں کو دعوت دیتا ہے بلکہ آخرت کی ہلاکت کا بھی سبب بنتا ہے۔

رزق کے حوالے سے ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ یہ صرف محنت کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ محنت کا ایک اہم کردار ہے، لیکن اسلامی نقطہ نظر سے رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا: "اور زمین میں کوئی چلنے والا نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔" (سورۃ ہود: 6) اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جاندار کی روزی کا کفیل ہے، اور یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے جائز طریقے سے حاصل کرے یا ناجائز طریقے سے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص سخت محنت کرتا ہے، مگر اس کا رزق محدود ہوتا ہے، جبکہ کوئی دوسرا کم محنت کے باوجود کشادگی میں ہوتا ہے۔ یہ سب اللہ کی حکمت اور آزمائش کا حصہ ہوتا ہے۔

حلال کمائی میں ایک خاص روحانی تاثیر پائی جاتی ہے جو انسان کی شخصیت، کردار اور رویے کو مثبت بناتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام سے پلا ہو۔" (ترمذی) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان کا رزق پاکیزہ نہ ہو تو اس کے اعمال، عبادات اور دعائیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ حلال مال سے نہ صرف عبادات میں لذت پیدا ہوتی ہے بلکہ دعاؤں کی قبولیت کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ برعکس اس کے، حرام کمائی انسان کے دل میں سختی، بے برکتی، اور روحانی تاریکی پیدا کر دیتی ہے، جس کے اثرات اس کی زندگی کے ہر پہلو میں نمایاں ہوتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں برکت کا تصور صرف مال کی زیادتی سے وابستہ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ نفع، اطمینان اور خیر ہے جو کسی چیز میں شامل ہوتی ہے۔ بسا اوقات ایک شخص کی کم آمدنی بھی اسے خوشحال بنا دیتی ہے، جب کہ دوسرا شخص لاکھوں کمانے کے باوجود بے سکونی میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پہلے شخص کی کمائی حلال اور پاکیزہ ہے، جب کہ دوسرے کی کمائی میں ناجائز ذرائع شامل ہیں۔ اس حوالے سے کئی تجربات اور مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ حلال کمائی کرنے والے افراد زندگی میں زیادہ خوشحال، مطمئن اور پُرسکون ہوتے ہیں۔

حلال روزی کی برکت صرف انفرادی زندگی تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے اثرات خاندان، معاشرے اور پوری قوم پر پڑتے ہیں۔ جب ایک معاشرہ حلال کمائی کو اپنا شعار بناتا ہے تو اس میں عدل، ایمانداری، اور باہمی اعتماد پیدا ہوتا ہے، جبکہ حرام کمائی عام ہونے سے دھوکہ، خیانت، اور بددیانتی فروغ پاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی شریعت نے سود، رشوت، دھوکہ دہی، اور ناجائز تجارت جیسے ذرائع کو سختی سے منع کیا ہے۔ ان ذرائع سے حاصل شدہ دولت بظاہر انسان کو وقتی فائدہ دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ فرد اور معاشرے دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

بعض اوقات لوگ یہ سوچ کر حرام کمائی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں کہ وہ بعد میں صدقہ و خیرات کر کے اپنی غلطیوں کا ازالہ کر لیں گے۔ لیکن شریعت کے اصولوں کے مطابق، جو مال ناجائز طریقے سے حاصل کیا جائے، وہ صدقہ کرنے سے بھی پاک نہیں ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاک چیز کو قبول کرتا ہے۔" (مسلم) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو دولت ناجائز طریقے سے کمائی گئی ہو، وہ خیرات کے قابل بھی نہیں ہوتی۔

رزق میں برکت حاصل کرنے کے لیے اسلام نے چند اصول بیان کیے ہیں جن پر عمل کرنے سے زندگی میں خوشحالی آ سکتی ہے۔ ان میں سب سے اہم صدقہ و خیرات ہے، جو مال کو کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کرتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: "اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔" (البقرہ: 276) اسی طرح سچائی اور دیانت داری سے کاروبار کرنے کو نفع اور برکت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سچا اور دیانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔" (ترمذی)

شکر گزاری بھی رزق میں اضافے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا: "اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔" (ابراہیم: 7) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر قناعت کرتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں مزید برکت عطا فرماتا ہے۔

آخر میں، یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان کے طور پر آتی ہیں۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ انسان ہر حال میں حلال روزی پر قائم رہے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔ وہ لوگ جو وقتی لالچ میں آ کر حرام ذرائع اختیار کرتے ہیں، وہ دنیا میں بھی پریشان رہتے ہیں اور آخرت میں بھی سخت خسارے کا سامنا کرتے ہیں۔ جب کہ حلال کمائی کرنے والے افراد حقیقی خوشی، سکون اور برکت کے حامل ہوتے ہیں، اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک مسلمان کے لیے حقیقی کامیابی کا ضامن ہے۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے