خالد سیف اللہ موتیہاری
نوجوانوں کی زندگی میں راہنمائی اور نمونہ عمل کا ہونا ازحد ضروری ہے، کیونکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب انسان کی شخصیت اور افکار کی بنیاد پڑتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر ایک نوجوان کے سامنے اعلیٰ اور پاکیزہ نمونے موجود ہوں، تو وہ اپنی زندگی کو بہترین اصولوں پر استوار کر سکتا ہے۔ تاریخ انسانی میں ایسے بے شمار شخصیات گزر چکی ہیں، لیکن انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیاں نوجوانوں کے لیے بہترین اور مستند نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں، کیونکہ ان کی زندگیوں کو نہ صرف الہامی ہدایت حاصل تھی بلکہ انہوں نے عملی میدان میں بھی حق و صداقت، صبر و استقامت، دیانت و اخلاص اور شجاعت و قربانی کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔
انبیاء کرام کی زندگیاں تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ مستند اور مثالی ہیں، کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے چنے ہوئے افراد تھے، جنہیں خاص طور پر لوگوں کی اصلاح اور ہدایت کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان میں حضرت یوسف علیہ السلام کی جوانی بطور خاص قابل غور ہے۔ قرآن مجید میں ان کا واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے، جس میں ہمیں نوجوانوں کے لیے کئی اہم اسباق ملتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو کم عمری میں آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کے مضبوط ایمان، صبر اور ثابت قدمی نے انہیں کامیابی کی منزل تک پہنچایا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ اگر ایک نوجوان اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہے اور حرام سے بچے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے آسان فرما دیتا ہے۔
اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نوجوانی ایک شاندار مثال ہے۔ وہ ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے جو بت پرستی میں مبتلا تھی، لیکن انہوں نے حق کی تلاش میں اپنی عقل کو استعمال کیا اور بالآخر اللہ کی وحدانیت کو پایا۔ قرآن مجید میں ان کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا:
"میں ان بتوں کی عبادت نہیں کر سکتا جو نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں، اور نہ ہی کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔" (مریم: 42)
یہ واقعہ نوجوانوں کے لیے انتہائی اہم سبق رکھتا ہے کہ انہیں اپنی زندگی کے نظریات کسی تقلیدی سوچ پر نہیں بلکہ تحقیق اور سچائی پر مبنی رکھنے چاہئیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی بھی ایک غیرمعمولی مثال ہے۔ آپ نے اپنی نوجوانی میں ہی ایسی راست بازی، صداقت اور امانتداری کا مظاہرہ کیا کہ قریش کے سب سے بڑے سردار بھی آپ کو "الصادق" اور "الامین" کے لقب سے پکارنے لگے۔ جب پوری عرب سوسائٹی جاہلیت میں مبتلا تھی، آپ نے اپنی سیرت و کردار سے ایک ایسا معیار قائم کیا جو آج کے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرام نے نوجوانی میں جو خدمات انجام دیں، وہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ ان میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مثال انتہائی شاندار ہے۔ کم عمری میں ہی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وابستہ ہو گئے، اور علم، بہادری، تقویٰ اور عدل میں اپنی مثال آپ تھے۔ جب مکہ میں کفار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی، تو حضرت علیؓ نے بغیر کسی خوف کے آپ کے بستر پر رات گزاری۔ ان کی جرات اور ایثار آج کے نوجوانوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ حق کے راستے میں قربانی اور استقامت بنیادی اوصاف ہیں۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی ایک اور بہترین مثال ہیں، جو نوجوانی ہی میں قرآن کے کاتب مقرر کیے گئے۔ ان کی قابلیت اور شوق علم نے انہیں اسلامی تاریخ میں ایک منفرد مقام دلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے انہیں عبرانی زبان سیکھنے کا حکم دیا، اور وہ چند دنوں میں اسے سیکھ کر سرکاری ترجمان بن گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے لیے علم کا حصول نہایت اہم ہے، کیونکہ علم ہی ترقی کی بنیاد ہے۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی زندگی بھی حیران کن ہے۔ 17 سال کی عمر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلامی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا، حالانکہ ان کے لشکر میں کئی سینئر اور تجربہ کار صحابہ موجود تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں قیادت کے لیے عمر نہیں بلکہ صلاحیت اور قابلیت کو معیار بنایا گیا ہے۔
آج کے دور میں نوجوانوں کے سامنے بے شمار چیلنجز موجود ہیں۔ مغربی تہذیب کا غلبہ، سوشل میڈیا کا پھیلاؤ، اخلاقی انحطاط، اور فکری گمراہی جیسے مسائل ان کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ وہ اپنی راہنمائی کے لیے مستند اور پاکیزہ نمونے تلاش کریں، جو ان کے کردار کو مضبوطی فراہم کریں اور انہیں مقصدیت عطا کریں۔ انبیاء اور صحابہ کی زندگیاں اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہیں، کیونکہ ان کی زندگیاں الہامی ہدایت اور عملی تجربات کا حسین امتزاج ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ایک نوجوان جس ماحول میں پروان چڑھتا ہے، وہی اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر اس کے سامنے انبیاء و صحابہ کے نمونے موجود ہوں، تو وہ اپنی زندگی کے فیصلے شعور و بصیرت کے ساتھ کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انبیاء اور صالحین کی سیرتوں کو بیان کرتا ہے تاکہ انسان ان سے سبق لے کر اپنی زندگی کو بہتر بنا سکے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں