خالد سیف اللہ موتیہاری
الحاد اور دہریت وہ نظریاتی فتنے ہیں جو انسان کو مذہب اور خدا کے تصور سے دور کر دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں الحاد اور دہریت نے انسانی فکر پر گہرے اثرات ڈالے، لیکن جدید دور میں یہ فتنے پہلے سے زیادہ منظم، پُرکشش اور عام ہو چکے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کا فروغ ہے، جہاں مختلف پلیٹ فارمز پر ایسے خیالات کو پیش کیا جا رہا ہے جو نوجوانوں کے عقائد کو متزلزل کر سکتے ہیں۔
الحاد بنیادی طور پر خدا کے وجود سے انکار کا نام ہے، جبکہ دہریت ایک وسیع تر تصور ہے جو کسی بھی الہامی دین یا روحانی سچائی کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ الحاد کا فلسفہ یہ باور کراتا ہے کہ کائنات خودبخود وجود میں آئی اور اس کے پیچھے کسی اعلیٰ ہستی کی کوئی حکمت یا منصوبہ بندی نہیں ہے۔ یہ نظریہ خالص مادی سوچ پر مبنی ہوتا ہے، جس میں ہر چیز کو سائنسی یا عقلی پیمانوں پر پرکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دہریت کا معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ کر مذہب کو ایک انسانی اختراع کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسے غیر ضروری قرار دیتا ہے۔
سوشل میڈیا نے الحاد اور دہریت کے فروغ میں ایک مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ پہلے یہ خیالات مخصوص فلسفیانہ کتابوں اور علمی حلقوں تک محدود تھے، لیکن اب ہر عام شخص سوشل میڈیا پر ایسے خیالات سے متاثر ہو سکتا ہے۔ الحادی نظریات کو جدید سائنسی اصطلاحات، مزاح، گرافکس اور مختلف سوالات کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں میں اس انداز سے داخل کیا جا رہا ہے کہ وہ انہیں زیادہ قابلِ قبول سمجھنے لگتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر الحاد اور دہریت کے فروغ کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ یہاں ہر طرح کی معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل ہو جاتی ہے، چاہے وہ درست ہوں یا غلط۔ نوجوان عام طور پر تحقیق کے بغیر مختلف ویڈیوز، پوسٹس اور مباحثوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ الحادی اور دہریہ فکر کے حامل افراد اپنے نظریات کو اتنے پرکشش انداز میں پیش کرتے ہیں کہ سادہ ذہنوں کے لیے ان میں اور حقیقت میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے افراد موجود ہیں جو اسلام اور دیگر مذاہب پر تنقیدی سوالات اٹھاتے ہیں، لیکن ان کے جوابات دینے والے افراد کی تعداد کم ہوتی ہے۔ جب نوجوان ان سوالات کو سنتے ہیں اور انہیں ان کے جوابات نہیں ملتے، تو وہ شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ان شکوک کو مزید بڑھاوا دینے کے لیے سائنسی نظریات کو دین کے خلاف پیش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور سچائی پر مبنی سائنس میں کوئی تضاد نہیں۔
تیسری وجہ سوشل میڈیا پر موجود تفریحی اور غیر سنجیدہ مواد ہے۔ نوجوان زیادہ تر وقت مزاحیہ ویڈیوز، میمز اور تفریحی مواد دیکھنے میں گزارتے ہیں، اور اسی دوران ایسے خیالات ان کے ذہن میں ڈال دیے جاتے ہیں جو مذہب سے بیزاری پیدا کرتے ہیں۔ بعض ملحدین اور دہریے مذاہب کو دقیانوسی، جبر پر مبنی اور غیر سائنسی ظاہر کرنے کے لیے طنز و مزاح کا سہارا لیتے ہیں، تاکہ نوجوان اسے ایک سنجیدہ مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک تفریحی معاملہ سمجھیں اور آہستہ آہستہ دین سے دور ہوتے جائیں۔
الحاد اور دہریت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر فری تھنکنگ اور عقلی آزادی کو حد سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ نوجوانوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی چیز پر تنقید کرنے، کسی بھی عقیدے کو مسترد کرنے اور کسی بھی روایتی نظریے سے آزاد ہونے کے لیے مکمل طور پر خودمختار ہیں۔ یہ سوچ بظاہر پرکشش لگتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں نوجوان ایک فکری بحران میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جہاں انہیں نہ کوئی مقصد نظر آتا ہے، نہ کوئی حتمی سچائی، اور نہ ہی زندگی کے کسی اصول پر یقین رہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود ملحدانہ نظریات کے اثرات صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی بھی ہیں۔ جب کوئی نوجوان خدا کے وجود سے انکار کر دیتا ہے، تو اس کے لیے اچھائی اور برائی کی کوئی واضح بنیاد باقی نہیں رہتی۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگر دنیا میں کسی کے اعمال کا کوئی حساب نہیں اور مرنے کے بعد کچھ نہیں ہونا، تو پھر ہر انسان کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے، چاہے وہ کسی بھی اخلاقی حد کو عبور کر لے۔ یہی سوچ بدعنوانی، اخلاقی گراوٹ، مادہ پرستی اور بے مقصدیت کو فروغ دیتی ہے، جو آخرکار معاشرے کے زوال کا باعث بنتی ہے۔
اس فکری زوال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو دین کی بنیادوں سے اچھی طرح روشناس کرایا جائے۔ صرف جذباتی انداز میں دین کی تبلیغ کافی نہیں، بلکہ انہیں عقلی، سائنسی اور منطقی بنیادوں پر اسلام کی سچائی کو سمجھانا ضروری ہے۔ علماء، اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر موجود الحادی نظریات پر نظر رکھیں اور نوجوانوں کو ایسے سوالات کے مدلل جوابات فراہم کریں جو انہیں شکوک میں مبتلا کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو دین کا گہرا مطالعہ کرنے، مستند ذرائع سے علم حاصل کرنے اور اسلامی فلسفہ اور سائنس کے درمیان ہم آہنگی کو سمجھنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ اگر ایک نوجوان اپنے دین کو صرف روایتی طور پر نہیں بلکہ تحقیق کے ساتھ سمجھے، تو وہ کسی بھی قسم کے الحادی یا دہریہ نظریات سے متاثر نہیں ہوگا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں