خالد سیف اللہ موتیہاری
زندگی اللہ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ لیکن جب انسان زندگی کے مقصد سے بے خبر ہوتا ہے اور اسے بغیر کسی سمت کے گزارنے لگتا ہے، تو اس کا نتیجہ اکثر ذہنی بے چینی، مایوسی، اور ڈیپریشن کی صورت میں نکلتا ہے۔ آج کے دور میں، جہاں سہولتیں اور تفریح کے ذرائع بے شمار ہیں، وہیں بے مقصدیت اور ذہنی اضطراب بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نوجوان نسل اس مسئلے کا سب سے زیادہ شکار نظر آتی ہے، کیونکہ وہ زندگی کے اصل مقصد کو جانے بغیر ایک ایسے راستے پر چل پڑتی ہے جہاں نہ کوئی منزل ہوتی ہے اور نہ ہی سکون۔
بے مقصد زندگی گزارنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ بچپن سے ہی کسی واضح ہدف یا مقصد کے بغیر پروان چڑھتے ہیں۔ وہ زندگی کو محض کھانے، پینے، سونے، اور تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ دنیا میں ان کا ایک خاص مقصد ہے، اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کرنا چاہیے۔ یہی بے خبری آگے چل کر انہیں ایک ایسی زندگی کی طرف دھکیل دیتی ہے جہاں وقت تو گزر رہا ہوتا ہے، لیکن اس کا کوئی مفید استعمال نہیں ہو رہا ہوتا۔
دوسری اہم وجہ مادہ پرستی اور ظاہری دنیا کی چمک دمک ہے۔ آج کے معاشرے میں کامیابی کو صرف مال و دولت، شہرت، اور عیش و آرام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو یہی سکھایا جاتا ہے کہ اگر ان کے پاس مہنگی گاڑیاں، برانڈڈ لباس، اور سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز نہیں ہیں، تو وہ ناکام ہیں۔ یہ سوچ انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، اور جب وہ ان مصنوعی معیاروں پر پورا نہیں اترتے، تو مایوسی اور ڈیپریشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
بے مقصدیت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ جب انسان کے پاس کوئی تعمیری مشغلہ یا بامقصد سرگرمی نہیں ہوتی، تو اس کا ذہن خود بخود فضول خیالات اور بے جا پریشانیوں میں الجھنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مطلب نہیں، اور یہی احساس رفتہ رفتہ ذہنی دباؤ اور افسردگی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ دوسروں کی کامیابیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی سے موازنہ کرتا ہے، تو احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔
ڈیپریشن دراصل بے مقصد زندگی کا ایک فطری نتیجہ ہے۔ جب انسان کے پاس کوئی واضح مقصد نہیں ہوتا، تو وہ خود کو بیکار محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ احساس تنہائی اور ذہنی الجھن کو جنم دیتا ہے، جو آہستہ آہستہ شدید ذہنی بیماری میں بدل سکتا ہے۔ ڈیپریشن صرف ایک جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ نیند کے مسائل، بھوک کی کمی یا زیادتی، توانائی کی کمی، اور مستقل تھکن جیسے مسائل اس کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ سب سے پہلا اور بنیادی قدم یہ ہے کہ زندگی کے مقصد کو سمجھا جائے۔ ہر انسان کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں بے مقصد نہیں آیا بلکہ اللہ نے اسے ایک خاص مشن کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس کی تخلیق کا مقصد محض دنیاوی عیش و عشرت نہیں بلکہ کچھ ایسا کرنا ہے جس سے وہ اپنی آخرت سنوار سکے اور دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکے۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے اور ان کا صحیح استعمال کرے۔ ہر فرد میں کچھ نہ کچھ خاص مہارتیں ہوتی ہیں، جنہیں بروئے کار لا کر وہ اپنی زندگی کو بامقصد بنا سکتا ہے۔ اگر کوئی اچھا لکھ سکتا ہے، تو وہ لکھ کر دوسروں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اگر کوئی اچھا بول سکتا ہے، تو وہ اصلاحی گفتگو کے ذریعے دوسروں کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان اپنی دلچسپی اور مہارت کے مطابق کسی نہ کسی مثبت سرگرمی میں مشغول ہو سکتا ہے۔
دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ وقت کی قدر کی جائے۔ بے مقصد زندگی گزارنے والوں کی ایک بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ وقت کو ضائع کرتے ہیں اور پھر بعد میں اس پر افسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنی زندگی کو بامقصد بنانا چاہتا ہے، تو اسے وقت کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ روزانہ کا ایک شیڈول بنانا، اہم کاموں کو پہلے کرنا، اور غیر ضروری سرگرمیوں سے بچنا اس کے لیے ضروری ہے۔
تیسرا حل مثبت سوچ اپنانا ہے۔ مایوسی اور ڈیپریشن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی سوچ کو مثبت رکھے۔ جو کچھ اس کے پاس ہے، اس پر شکر ادا کرے اور جو کچھ نہیں ہے، اس کے لیے مایوس ہونے کے بجائے محنت کرے۔ ہمیشہ دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے اپنی بہتری پر توجہ دے۔ اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھے اور یہ یقین رکھے کہ اگر وہ محنت اور نیک نیتی سے کام کرے گا، تو کامیابی ضرور حاصل کرے گا۔
اور ہاں، سب سے اہم چیز دین کی طرف رجوع کرنا ہے۔ قرآن و حدیث میں زندگی کے مقصد کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور میں نے جن اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔" (الذاریات: 56)۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ جو شخص اس مقصد کو سمجھ لیتا ہے، وہ کبھی بے مقصدیت اور ڈیپریشن کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ دنیاوی کامیابیاں وقتی ہیں، جبکہ اصل کامیابی آخرت کی ہے۔ یہی سوچ اس کی زندگی کو ایک مثبت سمت میں لے جاتی ہے اور اسے ذہنی سکون عطا کرتی ہے۔
لہٰذا، بے مقصد زندگی گزارنا اور ڈیپریشن میں مبتلا ہونا کوئی حل نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو بامقصد بنائے، اپنی صلاحیتوں کو مثبت کاموں میں لگائے، وقت کی قدر کرے، اور اللہ کی رضا کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا ہدف بنائے۔ جب یہ سب چیزیں ایک ساتھ آ جاتی ہیں، تو زندگی خوشحال اور کامیاب ہو جاتی ہے، اور ڈیپریشن خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں