خالد سیف اللہ موتیہاری
نوجوانی زندگی کا سب سے نازک اور قیمتی مرحلہ ہے، کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کے خیالات، عادات اور مستقبل کی سمت متعین ہوتی ہے۔ اس دور میں جو راستہ چنا جاتا ہے، وہی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان صحیح راستے کا انتخاب کر لے تو وہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے، لیکن اگر وہ غلط راہ پر چل پڑے تو اس کی زندگی مشکلات، ندامت اور ناکامی کا شکار ہو سکتی ہے۔ اسی لیے نوجوانی میں صحیح راستے کا انتخاب سب سے زیادہ ضروری ہے۔
انسان کی زندگی میں نوجوانی کا دور ایک ایسی کھلی زمین کی مانند ہوتا ہے جس میں جو کچھ بویا جائے، وہی بڑھ کر ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان علم، نیکی، دیانت داری اور مثبت سرگرمیوں کی بنیاد پر اپنی شخصیت تعمیر کرے تو وہ معاشرے میں ایک کامیاب اور باوقار انسان بن سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس قیمتی وقت کو غفلت، گناہ اور بری عادات میں ضائع کر دے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو برباد کر بیٹھتا ہے۔
قرآن و حدیث میں نوجوانی کے صحیح استعمال کی بار بار تاکید کی گئی ہے، کیونکہ قیامت کے دن سب سے پہلے نوجوانی کے بارے میں سوال ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"قیامت کے دن انسان کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کا سوال نہ کر لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ کہاں گزاری؟ اس کے علم کے بارے میں کہ کتنا عمل کیا؟ اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور اس کی جوانی کے بارے میں کہ کن کاموں میں گزاری؟" (ترمذی)
یہ حدیث ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ نوجوانی کا حساب سب سے پہلے ہوگا، اور یہی وہ وقت ہے جو انسان کے لیے عزت یا ذلت کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان اس وقت کو علم، دین کی خدمت، نیکی اور خود کی اصلاح میں لگائے تو وہ کامیاب ہوگا، ورنہ ندامت اس کا مقدر بن جائے گی۔
نوجوانی میں صحیح راستے کے انتخاب کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے مقصد کو پہچانے، اپنی ترجیحات کو درست کرے اور اس بات کا تعین کرے کہ اسے اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے۔ بہت سے نوجوان وقتی لذتوں، فضول مشاغل اور دنیاوی خواہشات میں کھو کر اپنا اصل مقصد بھول جاتے ہیں۔ نتیجتاً، جب وہ بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ ضائع کر دیا۔
صحیح راستے کا انتخاب کرنے کے لیے سب سے پہلے اچھے اور برے کی پہچان ضروری ہے۔ نوجوانی میں جذبات اور خواہشات شدت پر ہوتی ہیں، اور اسی وجہ سے انسان غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے۔ اگر اس وقت میں وہ علمائے کرام، اچھے دوستوں اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے، قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی راہ متعین کرے، اور عقل و فہم سے کام لے تو وہ گمراہی سے بچ سکتا ہے۔
ایک نوجوان کی زندگی میں سب سے بڑا خطرہ بری صحبت اور غلط ترجیحات ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔" (ابو داؤد، ترمذی)
اگر کوئی نوجوان نیک اور صالح دوستوں کا انتخاب کرے گا تو وہ بھی نیک راہ پر چلے گا، لیکن اگر وہ غلط صحبت میں پڑ گیا تو وہ بھی برائیوں میں گرفتار ہو جائے گا۔
نوجوانی میں صحیح راستہ وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ اس راستے پر چلنے والا نوجوان نہ صرف خود کامیاب ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی باعثِ فخر بنتا ہے۔ اس کے برعکس، جو نوجوان بے راہ روی، غفلت اور برے کاموں میں مبتلا ہو جاتا ہے، وہ اپنی زندگی کو برباد کر لیتا ہے۔
صحیح راستے کے انتخاب کے لیے ایک اور ضروری چیز یہ ہے کہ نوجوان اپنے وقت کی قدر کرے۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو اگر ضائع ہو جائے تو واپس نہیں آتی۔ جو نوجوان اپنا وقت علم، عبادت، مثبت سرگرمیوں اور مفید کاموں میں لگاتے ہیں، وہی دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ لیکن جو وقت کو کھیل کود، سوشل میڈیا، فضول گفتگو اور بے مقصد کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں، وہ بعد میں پچھتاتے ہیں۔
اسی لیے نوجوانی میں صحیح راستے کا انتخاب نہایت ضروری ہے۔ اگر اس مرحلے پر ایک نوجوان اپنی ترجیحات درست کر لے، نیک صحبت اختیار کرے، وقت کی قدر کرے اور اپنے مقصد کو پہچان لے، تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام نوجوانوں کو صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں