واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

امامِ تراویح کی لغزش فہمِ دین کا امتحان

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

خالد سیف اللہ موتیہاری 

رمضان المبارک کا مہینہ نزولِ قرآن کا مہینہ ہے، جس میں ایمان والوں کی روحانی ترقی کے بے شمار مواقع ہوتے ہیں۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نازل فرمایا، اور اسی نسبت سے اس مہینے میں قیامِ لیل یعنی نمازِ تراویح کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ہر سال کروڑوں مسلمان اس مبارک مہینے میں راتوں کو کھڑے ہو کر اپنے رب کے کلام کی تلاوت سنتے اور عبادت کرتے ہیں۔ حفاظِ کرام پورے اخلاص کے ساتھ اس عظیم سعادت کو حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں، مگر جب وہ دورانِ تلاوت کہیں بھول جاتے ہیں یا کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں تو بعض لوگ ان پر نکتہ چینی کرنے لگتے ہیں، انہیں عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں اور بعض دفعہ سخت کلمات کہہ دیتے ہیں۔ یہ رویہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور دینِ اسلام کے بنیادی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً غلطی کرنے والا ہے۔ اس حقیقت کو خود رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا ہے: "کل ابن آدم خطاء وخیر الخطائین التوابون" (ابن ماجہ: 4251) یعنی انسان خطا کا پتلا ہے اور بہترین انسان وہ ہے جو خطا کرنے کے بعد توبہ کر لے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے انسان کی فطرت ہی کو ایسا قرار دیا ہے کہ وہ بھول سکتا ہے تو کسی بھی انسان کی بھول کو اس کے لیے عیب بنانا زیادتی اور دین کی تعلیمات سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔

مزید برآں، قرآنِ کریم میں بھی بھول چوک کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا: "سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ إِلَّا مَا شَآءَ اللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ" (الاعلیٰ: 6-7) یعنی ہم تمہیں (قرآن) پڑھائیں گے اور تم نہیں بھولو گے، سوائے اس کے جو اللہ چاہے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ بھول چوک اللہ کی طرف سے ہے، اور جب نبی کریم ﷺ کو بھی اللہ کی مشیّت سے بعض اوقات کوئی آیت عارضی طور پر بھول جایا کرتی تھی تو ایک عام حافظ کے بھولنے پر حیران یا ناراض ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ یہی بات ہم حدیث میں بھی دیکھتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک صحابی رات کو بلند آواز سے تلاوت کر رہے تھے، نبی کریم ﷺ نے سن کر فرمایا: "رحمہ الله، لقد ذكرني كذا وكذا آية كنت أنسيتها من سورة كذا وكذا" (الحدیث 5038) یعنی اللہ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی جو میں بھول گیا تھا۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی کے یاد دلانے پر خفا ہونے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے کسی کے ذریعے ہمیں ہماری بھولی ہوئی چیز یاد کروا دی۔ لیکن ہمارے معاشرے میں حفاظ کو یاد دلانے والوں کو فخر اور بڑائی کا موقع مل جاتا ہے، اور وہ دوسروں کو شرمندہ کرنے کے لیے یاد دلاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا اس معاملے میں رویہ نہایت ہی نرم اور شکر گزاری والا تھا، جبکہ ہمارا انداز اکثر بالکل اس کے برعکس ہوتا ہے۔اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتا چلے گا کہ بہت سے جلیل القدر علما و فقہا بھی بعض اوقات کسی حدیث یا آیت کو بھول جاتے تھے، لیکن وہ اسے اپنی توہین نہیں بلکہ اپنی انسانی کمزوری سمجھتے تھے اور شکر ادا کرتے تھے کہ کسی نے انہیں درست کر دیا۔ ایک مشہور واقعہ حضرت عمرؓ کے متعلق ہے کہ وہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور ایک آیت بھول گئے۔ ایک صحابی نے فوراً انہیں یاد دلایا، تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: "جزاک اللہ خیراً، تم نے مجھے میری بھولی ہوئی آیت یاد دلا دی۔" غور کیجیے کہ حضرت عمرؓ جو عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں، جو عشرہ فاروقِ اعظم کے لقب سے مشہور ہیں، وہ بھول سکتے ہیں تو آج کے حفاظ پر تنقید چہ معنی دارد؟

حافظِ قرآن وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے سینوں میں قرآن محفوظ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "إن من إجلال الله إكرام ذي الشيبة المسلم، وحامل القرآن غير الغالي فيه والجافي عنه" یعنی "اللہ کے احترام میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی مسلمان بوڑھوں کی عزت کرے، اور قرآن کو یاد کرنے والے کا احترام کرے جو اس پر عمل بھی کرے۔" (ابو داؤد)۔ اگر ہم اپنی مساجد کے ائمہ کی عزت نہیں کریں گے، تو کل کو کون حافظِ قرآن بننے کی ہمت کرے گا؟ ہم نے ایک افسوسناک رواج بنا لیا ہے کہ ہم اپنے امام پر طنز و تشنیع کے تیر برساتے ہیں، انہیں ہراساں کرتے ہیں، ان کی غلطیوں کو اچھالتے ہیں، حالانکہ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی عزت کریں، ان کی غلطیوں کی تصحیح نرمی اور محبت کے ساتھ کریں، اور ان کی محنت کی ستائش کریں۔ اگر ہم نے اپنے حفاظ کے ساتھ نرم رویہ اختیار نہ کیا تو آنے والی نسلیں حفظِ قرآن کے نورانی عمل سے دور ہو جائیں گی، اور یہ اُمت ایک بہت بڑی علمی و روحانی نعمت سے محروم ہو جائے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عقل سلیم عطا فرمائے، اور ہمیں حفاظِ کرام کی قدر دانی کی توفیق بخشے۔ آمین۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے