واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

ماہِ رمضان المبارک اور صدقات و خیرات

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

 

خالد سیف اللہ موتیہاری 

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، جو محض روزوں اور عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ ایثار، قربانی، سخاوت اور معاشرتی ہمدردی کا عملی مظہر بھی ہے۔ اس مہینے میں نیکیاں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں، رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور انسان کو اس کی اصل ذمہ داری یعنی اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے اور خلقِ خدا کی بھلائی کے لیے کام کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ماہِ رمضان کے فضائل کے ساتھ ساتھ صدقات و خیرات کی غیر معمولی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جو اس مبارک مہینے میں بندۂ مؤمن کے لیے فلاح و نجات کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جہاں روزے کی فرضیت بیان فرمائی، وہیں صدقات و خیرات کی ترغیب بھی دی۔ سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ" (البقرہ: 261)

ترجمہ: "جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے، جس سے سات بالیاں اگیں، اور ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لیے چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھا دے۔ اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔"

یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں سخاوت اور خیرات کا جذبہ اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ اہلِ ایمان جانتے ہیں کہ یہ مہینہ نیکیوں کی بہار کا مہینہ ہے، جس میں ایک نیکی کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان میں آپ کی سخاوت اور تیز ہو جاتی تھی، یہاں تک کہ آپ تیز چلتی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔ (صحیح بخاری)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ و خیرات کو نہ صرف ایک اخلاقی خوبی بلکہ دینی فریضہ قرار دیا ہے، جو معاشرے کی فلاح و بہبود میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا رجحان بڑھ جاتا ہے، کیونکہ لوگ اپنے مال کو پاک کرنے کے ساتھ ساتھ حاجت مندوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ زکوٰۃ ایک ایسا مالیاتی نظام ہے جو دولت کو سماج میں متوازن رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور اس کی ادائیگی رمضان میں زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔احادیث میں آیا ہے کہ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک جب وہ افطار کرتا ہے، اور دوسری جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔ مگر اس خوشی میں ان لوگوں کو بھی شریک کرنا چاہیے جو دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، اس کے لیے روزہ دار کے برابر ثواب ہے، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو۔" (ترمذی)

یہی وجہ ہے کہ رمضان میں سحری و افطاری کے دسترخوان وسیع ہو جاتے ہیں، مساجد میں اجتماعی افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور مخیر حضرات حاجت مندوں تک کھانے پینے کا سامان پہنچانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

رمضان المبارک میں صدقات و خیرات کی ایک نمایاں شکل فطرہ ہے، جسے "صدقہ فطر" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک لازمی خیرات ہے جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر واجب ہوتی ہے، تاکہ وہ ضرورت مندوں کی عید کی خوشیوں میں شمولیت کو یقینی بنا سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"صدقہ فطر روزے دار کے لیے لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاکیزگی کا ذریعہ ہے اور مساکین کے لیے خوراک ہے، جو اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کرے، وہ مقبول زکوٰۃ ہے، اور جو عید کے بعد ادا کرے، وہ عام صدقہ ہے۔" (ابو داؤد)

رمضان کا مہینہ صرف انفرادی عبادات کا نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کا درس دیتا ہے۔ اس مہینے میں دلوں میں نرم گوشہ پیدا ہوتا ہے، ہاتھ خیرات کے لیے کھل جاتے ہیں، اور باہمی اخوت کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔ اگر کوئی شخص رمضان کے اصل پیغام کو سمجھے اور اس پر عمل کرے، تو اس کا کردار نہ صرف اس کی اپنی ذات بلکہ پورے سماج کے لیے روشنی کا مینار بن سکتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"صدقہ غضبِ الٰہی کو بجھاتا ہے اور برے انجام کو ٹالتا ہے۔" (ترمذی)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ صدقہ محض ایک خیراتی عمل نہیں بلکہ یہ روحانی سکون، گناہوں کی معافی اور آخرت کی نجات کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس لیے رمضان میں صدقہ کرنا ایک ایسی حکمت ہے جو نہ صرف دنیا میں فلاح کا باعث بنتی ہے بلکہ آخرت میں بھی باعثِ نجات ہے۔صدقات و خیرات کا اصل مقصد ضرورت مندوں کی مدد کے ساتھ ساتھ انسانی دلوں میں نرم مزاجی، ہمدردی اور ایثار کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ عطا کیا ہے، وہ اس کی نعمت ہے، اور اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں دینا ایک سعادت ہے۔ رمضان المبارک ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ہم اپنے مال و دولت میں دوسروں کو شریک کریں، اپنے

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے