واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

اپنے کیریئر اور زندگی کا واضح مقصد

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

خالد سیف اللہ موتیہاری 

انسان کی زندگی ایک قیمتی سرمائے کی مانند ہے، جس کا بہترین مصرف یہی ہے کہ اسے کسی اعلیٰ اور بامقصد راہ میں گزارا جائے۔ ایک واضح مقصد کے بغیر زندگی ایک بے سمت مسافر کی مانند ہوتی ہے، جو نہ اپنی منزل سے واقف ہوتا ہے اور نہ ہی راستے کی دشواریوں کا ادراک رکھتا ہے۔ کیریئر اور زندگی کا ایک واضح مقصد نہ صرف انسان کی توانائیوں کو صحیح سمت میں لے جاتا ہے بلکہ اسے فکری اور عملی یکسوئی بھی عطا کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی زندگی کے لیے ایک بڑا ہدف مقرر کر لیتے ہیں، وہی درحقیقت کامیابی اور اطمینان کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں، جبکہ بے مقصد زندگی گزارنے والے افراد عام طور پر وقت، صلاحیتوں اور مواقع کو ضائع کر دیتے ہیں۔

مقصد کے تعین کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں، رجحانات اور دلچسپیوں کو پہچانے۔ ہر انسان کو اللہ نے کسی نہ کسی خاص صفت یا مہارت سے نوازا ہوتا ہے۔ کسی کو علمی میدان میں مہارت حاصل ہوتی ہے، تو کسی کو عملی کاموں میں کمال حاصل ہوتا ہے۔ بعض افراد تحقیق و تدریس میں مہارت رکھتے ہیں، تو کچھ لوگوں کو قیادت اور منصوبہ بندی میں غیر معمولی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی شخصیت، رجحانات اور مہارتوں کو پہچانے، تاکہ وہ اپنی زندگی اور کیریئر کے لیے ایسا ہدف مقرر کر سکے جو اس کی فطری صلاحیتوں سے ہم آہنگ ہو۔

ایک واضح مقصد انسان کی شخصیت میں نظم و ضبط، ثابت قدمی اور استقامت پیدا کرتا ہے۔ جن لوگوں کے سامنے کوئی بڑا ہدف نہیں ہوتا، وہ عام طور پر وقت کے بہاؤ میں بہتے چلے جاتے ہیں اور زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کے برعکس جن افراد کے پاس ایک متعین مقصد ہوتا ہے، وہ اپنی توانائیاں غیر ضروری کاموں میں ضائع کرنے کے بجائے اپنے مقصد کے حصول میں صرف کرتے ہیں۔ ان کی ترجیحات واضح ہوتی ہیں اور وہ اپنے وقت، وسائل اور محنت کو صحیح سمت میں لگاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں وہی لوگ کامیاب ہوئے جنہوں نے اپنی زندگی کو کسی بامقصد نصب العین کے لیے وقف کیا۔

زندگی کے مقصد کا تعین کرتے وقت یہ ضروری ہے کہ وہ صرف دنیاوی فوائد تک محدود نہ ہو بلکہ اس میں دینی، اخلاقی اور سماجی پہلو بھی شامل ہوں۔ اسلام ہمیں ایک ایسی زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے جو نہ صرف خود ہمارے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو۔ اگر ایک شخص اپنے کیریئر میں صرف مادی ترقی کو پیش نظر رکھے اور اس کے اندر کوئی اعلیٰ انسانی جذبہ نہ ہو، تو وہ چاہے کتنا ہی کامیاب کیوں نہ ہو جائے، اس کی کامیابی ایک سطحی کامیابی ہوگی، جو اسے روحانی اور ذہنی سکون عطا نہیں کر سکے گی۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے مقصد میں دین، اخلاق اور انسانیت کی خدمت کو شامل کر لیتا ہے، وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہوتا ہے۔

زندگی اور کیریئر کے مقصد کے تعین میں استقامت بھی ایک لازمی عنصر ہے۔ بعض افراد وقتی جوش میں کوئی ہدف مقرر کر لیتے ہیں، لیکن چند مشکلات اور چیلنجز کے بعد ہمت ہار دیتے ہیں۔ ایسے افراد عام طور پر کبھی کسی بڑے مقام تک نہیں پہنچ پاتے۔ ایک واضح مقصد کے ساتھ ساتھ اس کے حصول کے لیے مستقل مزاجی، صبر اور محنت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مشکلات ہر راستے میں آتی ہیں، لیکن جو لوگ اپنے مقصد پر ثابت قدم رہتے ہیں، وہی درحقیقت کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

انسانی تاریخ میں جتنے بھی عظیم افراد گزرے ہیں، ان کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان سب میں ایک قدر مشترک تھی: وہ یہ کہ ان کے پاس ایک واضح مقصد تھا اور وہ اس کے حصول کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کو تیار تھے۔ چاہے وہ علمی شخصیات ہوں، سماجی مصلحین ہوں، دینی رہنما ہوں یا سائنس دان، سب نے اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر ایک بڑا ہدف طے کیا اور پھر اس کے لیے جدوجہد کی۔ آج کی نوجوان نسل کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے مقصد کا واضح تعین کرے اور اس کے حصول کے لیے پوری یکسوئی، محنت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھے۔

بے مقصد زندگی صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ انسان کی صلاحیتوں کی بربادی بھی ہے۔ جو لوگ بغیر کسی ہدف کے زندگی گزارتے ہیں، وہ خود بھی بے چینی اور اضطراب میں مبتلا رہتے ہیں اور معاشرے کے لیے بھی کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کر پاتے۔ اس کے برعکس ایک واضح نصب العین رکھنے والے افراد نہ صرف اپنی زندگی کو بامعنی بناتے ہیں بلکہ وہ اپنے علم، تجربے اور کام کے ذریعے دوسروں کے لیے بھی روشنی کا مینار ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا مقصد واضح کرے، اس کے مطابق اپنی منصوبہ بندی کرے اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے اپنی زندگی کو بامقصد بنائے، کیونکہ حقیقی کامیابی اور سکون صرف اسی میں ہے۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے