میرے مالک!
آج بارہواں روزہ ہے۔ میں جب جب ماتھا زمین پر رکھتا ہوں، میرا سر تو جھک جاتا ہے، لیکن کبھی کبھی میرا "میں" اندر ہی کہیں اکڑا رہ جاتا ہے۔ میرے کریم رب! آج میں آپ کے سامنے اپنی اس "انا" کا اعتراف کرنے آیا ہوں جو میرے اور آپ کے وصال کے درمیان سب سے بڑا اور غلیظ پردہ بن کر کھڑی ہے۔
میرے اللہ!
یہ کیسی عجیب اور مہلک بیماری ہے؟ میں یہ حقیقت جانتا ہوں کہ میں مٹی کی ایک مٹھی ہوں اور ایک دن مٹی کے اسی ڈھیر میں گم ہو جانا ہے، پھر بھی میرا نفس مجھے جتاتا رہتا ہے کہ میں دوسروں سے برتر ہوں۔ کبھی میرا علم، کبھی میری دنیاوی آسائشیں، کبھی میری خاندانی وجاہت اور ستم تو یہ ہے کہ کبھی میری "نیکی" کا غرور مجھے تکبر کے تاریک راستوں پر لے جاتا ہے۔ میں دوسروں کی لغزشیں تو عقابی نظروں سے پکڑ لیتا ہوں، لیکن اپنی انا کے اندھیرے میں خود کو پارسا سمجھنے لگتا ہوں۔ میں معافی مانگنے کو اپنی توہین اور اپنی خطا تسلیم کرنے کو شکست سمجھنے لگا ہوں۔
میرے پیارے رب!
کبریائی اور بڑائی تو صرف آپ کو جچتی ہے، آپ ہی "الکبیر" اور "المتکبر" ہیں۔ ہم انسان تو سراپا عاجزی اور خاکساری کے لیے بنے تھے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے اپنی اس حقیر سی دنیا میں اپنی ہی انا کے کتنے ہی بت تراش رکھے ہیں۔ میرے مالک! میں نے اپنی بات اوپر رکھنے کی ضد میں نہ جانے کتنے دل دکھائے ہوں گے؟ میں نے کتنی بار حق کو صرف اس لیے ٹھکرا دیا ہوگا کہ وہ کسی "کم تر" انسان کی زبان سے نکلا تھا؟
اے میرے پاک پروردگار!
اس عشرہِ مغفرت کی برکت سے میرے اندر کے اس سرکش "میں" کو پاش پاش کر دے۔ مجھے وہ خاکساری عطا کر دے جس کی لذت تکبر کے بلند و بالا پہاڑوں پر بھی نہیں ملتی۔ مجھے دوسروں کے عیوب پر پردہ ڈالنے اور ان کی خوبیوں کو تسلیم کرنے والی کشادہ نظری عطا فرما۔ میرے دل سے یہ مہلک وہم نکال دے کہ میں کسی بھی مخلوق سے بہتر ہوں۔ مجھے اس اسوۂ حسنہ کا پیروکار بنا دے، جہاں کائنات کے سردار ﷺ غلاموں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے تھے۔
میرے اللہ! آج میں آپ کی چوکھٹ پر اپنی انا کی قربانی پیش کرتا ہوں۔ مجھے اپنی ہستی کی قید سے نکال کر صرف اپنا "بندہ" بنا لے۔ ایسا بندہ جس کی اپنی کوئی چاہت نہ ہو، جس کی ہر سانس صرف آپ کی رضا کی اسیر ہو۔
فقط
آپ کا وہ بے وقعت بندہ، جو اپنی ہستی مٹانے آپ کی چوکھٹ پر آن گرا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں