مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج تیرہواں روزہ ہے۔ میں آج آپ کی بارگاہ میں ایک ایسی مخفی بیماری کا بوجھ لے کر آیا ہوں جو بظاہر نظر نہیں آتی، مگر روح کو دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ جاتی ہے۔ میرے پیارے رب! وہ مہلک مرض "بدگمانی" ہے۔ ہم انسان دوسروں کے ظاہر کو دیکھ کر ان کے باطن کے فیصلے کتنی عجلت میں کر لیتے ہیں! ہم کسی کی خاموش مجبوری کو نہیں جانتے، کسی کے حالات کے کرب سے واقف نہیں ہوتے، مگر اپنے ذہن کے بند کمروں میں اس کے خلاف عدالت لگا کر اسے مجرم قرار دے دیتے ہیں۔
میرے اللہ!
میرا دل تو ایک شفاف آئینے کی طرح ہونا چاہیے تھا، جس میں صرف آپ کی محبت اور معرفت کا عکس ہوتا۔ مگر افسوس! کہ میں نے اسے دوسروں کے بارے میں برے گمانوں، لایعنی شک اور حسد کی دھول سے میلا کر رکھا ہے۔ میں نے دوسروں کی خطاؤں کی فہرست تو ازبر کر رکھی ہے، لیکن اپنی سیاہ کاریوں پر مصلحت کے پردے ڈال رکھے ہیں۔ میں کتنا نادان ہوں مالک! جو یہ بھول جاتا ہوں کہ "گمان" کبھی حقیقت کا بدل نہیں ہو سکتا، اور میرا ایک برا گمان مجھے آپ کی قربت سے میلوں دور کر دیتا ہے۔
میرے پیارے رب!
آج اس عشرہِ مغفرت کی برکت سے، میں آپ سے "قلبِ سلیم" (صاف دل) کی خیرات مانگنے آیا ہوں۔ مجھے وہ بصیرت عطا کر دے جو دوسروں کے عیوب کے بجائے ان کی خیر کو تلاش کرے۔ مجھے اپنے بھائی کے لیے ستر (70) عذر تلاش کرنے والا بنا دے، بجائے اس کے کہ میں اس کی ایک لغزش پر نفرت کی بنیاد رکھ دوں۔ میرے اندر کی اس بے چینی کو جڑ سے ختم کر دے جو کسی کی کامرانی دیکھ کر یا کسی کے رویے کا غلط مفہوم نکال کر پیدا ہوتی ہے۔
اے میرے مہربان اللہ!
میرا باطن پاک کر دے۔ مجھے بدگمانی کے دم گھٹتے اندھیروں سے نکال کر "حسنِ ظن" کے اجالوں میں سانس لینے کی توفیق دے۔ مجھے دوسروں پر منصف (Judge) بن کر بیٹھنے کے بجائے ان کے حق میں دعاگو بنا دے۔ کیا خبر! جس کے بارے میں، میں سوءِ ظن (برا گمان) رکھ رہا ہوں، وہ آپ کے نزدیک مجھ سے کہیں زیادہ معتبر اور محبوب ہو؟
میرے مولا! آج سے میرا یہ عہد ہے کہ میں اپنے دل کے آئینے کو کسی کے خلاف کینے اور شک کے غبار سے آلودہ نہیں کروں گا۔ میرے دل کو صرف اپنی یاد کے لیے خالص کر لے۔
فقط،
آپ کا وہ خطا کار بندہ، جو اپنے دل کی تطہیر کا طلبگار ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں