خالد سیف اللہ موتیہاری
انسانی زندگی ایک عجب پہیلی ہے۔ ہم اس جہانِ رنگ و بو میں آتے ہیں، سانسوں کا سفر طے کرتے ہیں اور ایک دن خاموشی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ ہمیں واقعی 'پڑھ' پاتے ہیں؟ کتنے ہیں جو ہماری روح کی گہرائی تک اترے؟ کتنے ہیں جنہوں نے ہمارے اندر چھپے اس انسان کو پہچانا جو شاید خود ہم سے بھی ڈھکا ہوا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ ہم سب کتابوں کی مانند ہیں ایسی کتابیں جن کے سرورق تو سب کو دکھائی دیتے ہیں، مگر متن تک رسائی چند ہی کو نصیب ہوتی ہے۔ اور یہ تشبیہ شاعرانہ نہیں، بلکہ ایک گہری اور تلخ حقیقت ہے۔ کتاب بھی تو یہی چاہتی ہے کہ کوئی اسے پڑھے، سمجھے، اس کے اوراق کو محبت سے الٹے۔ مگر دنیا کی اکثریت کتاب کے سرورق ہی پر رک جاتی ہے۔ رنگ برنگا سرورق، چمکدار عنوان بس یہی کافی ہوتا ہے فیصلہ کرنے کے لیے کہ یہ کتاب پڑھنے کے قابل ہے یا نہیں۔
انسانوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ لوگ پہلی نظر میں فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ چہرہ دیکھا، لباس پرکھا، لہجہ سنا اور بس، رائے قائم ہو گئی۔ یہ دنیا ظاہر پرستوں کی دنیا ہے جہاں باطن کا کوئی خریدار نہیں۔ جہاں آنکھیں صرف وہ دیکھتی ہیں جو دکھایا جائے، اور دل صرف وہ مانتا ہے جو سنایا جائے۔ لوگ ضخامت دیکھ کر قیمت طے کر لیتے ہیں، جبکہ علم کی گہرائی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
پھر کچھ لوگ ہوتے ہیں جو تھوڑا آگے بڑھتے ہیں وہ کتاب کا تعارف پڑھ لیتے ہیں۔ ہمارے بارے میں کچھ جانتے ہیں، کچھ سمجھتے ہیں، مگر وہ بھی سطح سے زیادہ گہرے نہیں اترتے۔ رشتہ داریوں میں یہی ہوتا ہے عزیز و اقارب ہمارا حال جانتے ہیں مگر ہماری داستان نہیں پہچانتے۔ جاننا اور سمجھنا دو الگ الگ باتیں ہیں، اور یہ فرق زندگی میں بہت بڑا ہوتا ہے۔
ایک اور طبقہ ہے وہ جو ہم پر کی گئی تنقید پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں پڑھا نہیں، جانا نہیں، مگر دوسروں سے سن کر رائے بنا لی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کتاب کے اندر جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے، بس ناقدین کی زبان پر بھروسہ کر لیتے ہیں۔ اور افسوس کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ وہ ہمیں ہمارے اعمال سے نہیں، دوسروں کے الفاظ سے ناپتے ہیں۔
اور کچھ کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے کچھ صفحات وقت کی دھول یا آنسوؤں کی نمی سے آپس میں چپک جاتے ہیں جنہیں پڑھنا خود صاحبِ کتاب کے لیے بھی ممکن نہیں رہتا۔ یہ وہ کیفیتیں ہیں جو لاشعور کی تہوں میں دفن ہو جاتی ہیں، وہ ان کہی تکلیفیں جو زبان پر آتے آتے رک جاتی ہیں۔ ایسے انسان کو پڑھنا تو درکنار، خود اسے بھی اپنے کچھ ابواب یاد نہیں رہتے۔
مگر پھر زندگی کے اس وسیع سمندر میں کہیں کہیں ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو کتاب کا ہر صفحہ پلٹتے ہیں، ہر سطر پڑھتے ہیں، ہر لفظ کو محسوس کرتے ہیں۔ وہ ہماری پوری داستان سے واقف ہوتے ہیں ہماری خوشیاں، ہمارے غم، ہماری خامیاں، ہماری خوبیاں سب کچھ۔ یہ دو چار لوگ ہی ہماری اصل دولت ہوتے ہیں۔ یہی ہمارے سچے قاری ہیں۔
یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ ہم خود کتنی کتابوں کے مکمل قاری ہیں؟ کتنے لوگوں کو ہم نے واقعی جاننے کی کوشش کی؟ کتنوں کی کیفیت کو ہم نے اپنا درد سمجھا؟ شاید ہم بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جو سرورق دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ احتساب ضروری ہے اپنے آپ سے بھی، اور اپنے رویوں سے بھی۔
آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ زندگی میں اگر دو چار ایسے لوگ مل جائیں جو آپ کی کتاب کو پوری طرح پڑھ لیں تو سمجھیں کہ آپ خوش نصیب ہیں۔ ایسے رشتے صدیوں میں بنتے ہیں۔ ایسے لوگ ڈھونڈنے سے نہیں ملتے، نصیب سے ملتے ہیں۔ انہیں سنبھال کر رکھیں، کیونکہ وہ آپ کی کتاب کے سچے امین ہیں اور اس بے مروت دنیا میں سچے امین بہت کم ملتے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں