واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

بیسواں روزہ: استقامت

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

 

مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج بیسواں روزہ ہے اور عشرہِ مغفرت بھی اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ آج میں ایک عجیب سے روحانی اندیشے اور فکر میں مبتلا ہوں۔ جیسے جیسے یہ مبارک دن تیزی سے گزر رہے ہیں، میرے دل میں بار بار یہ سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کیا میری یہ بدلی ہوئی زندگی، میری یہ گریہ و زاری، میری یہ نمازیں اور میری یہ پرسکون خاموشی صرف رمضان کے ان گنے چنے دنوں کے لیے ہے؟ کیا عید کا چاند نظر آتے ہی میں پھر سے وہی پرانا انسان بن جاؤں گا جو غافل تھا، جو بے صبرا تھا، اور جو آپ کی یاد سے کوسوں دور تھا؟
میرے اللہ!
میں "موسمی عبادت گزار" نہیں بننا چاہتا۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ رمضان گزرتے ہی میرا مصلّیٰ پھر سے تہہ کر کے طاق پر رکھ دیا جائے اور میری قرآن سے وہ دوستی ٹوٹ جائے جو بڑی مشکل سے جڑی تھی۔ مالک! اصل استقامت تو یہ ہے کہ جو نور ان بیس دنوں میں میرے اندر اترا ہے، وہ باقی گیارہ مہینوں تک میری زندگی کی تاریکیوں کو روشن رکھے۔ لیکن میں اپنے نفس کی کمزوریوں کو بخوبی جانتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ دنیا کی دلفریبیاں مجھے پھر سے اپنی طرف کھینچیں گی اور میرا سرکش نفس مجھے پھر سے سرابوں کے پیچھے دوڑائے گا۔
میرے پیارے رب!
آج اس دوسرے عشرے کی آخری ساعتوں میں، میں آپ سے "ثابت قدمی" کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔ مجھے وہ توفیق عطا فرما کہ میں اس رمضان میں پھوٹنے والی نیکیوں کی کونپلوں کو ایک تناور درخت بنا سکوں۔ مجھے دکھاوے کے کھوکھلے جوش سے بچا لیجیے اور عمل میں اخلاص کی پختہ عادت نصیب فرمائیے۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں ان محروم لوگوں کی صف میں شامل نہ ہو جاؤں جن کا رمضان تو بظاہر بہت اچھا گزرا، مگر ان کا باطن ویسا ہی تشنہ اور پسماندہ رہ گیا۔
اے میرے مہربان اللہ!
میرے ڈگمگاتے قدموں کو اپنے دین پر جما دیجیے۔ مجھے وہ "استقامت" عطا فرما جو فلک بوس پہاڑوں جیسی ہو، جسے حالات کی تند و تیز آندھیاں ہلا نہ سکیں۔ مجھے عید کے بعد بھی اسی محبت سے اپنی طرف پکارنا، مجھے اسی طرح سحر کی تاریکیوں میں اپنے سامنے کھڑا ہونے کی توفیق دینا، اور مجھے یونہی اپنے ذکر کی حلاوت سے سیراب کرتے رہنا۔ مالک! میرے اندر آنے والی اس تبدیلی کو عارضی نہیں، مستقل بنا دے۔
میرے مولا!
آج میں یہ عہد کرتا ہوں کہ میں اپنی اس اصلاح کی مہم کو رمضان کے بعد بھی جاری رکھوں گا۔ مجھے بس آپ کی غیبی مدد اور آپ کے سہارے کی ضرورت ہے۔ مجھے میرے حال پر اکیلا مت چھوڑیے گا، ورنہ میں پھر سے بھٹک جاؤں گا۔
فقط،
آپ کا وہ کمزور بندہ، جو ہمیشہ کے لیے بدلنا چاہتا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے