خالد سیف اللہ موتیہاری
بارش کا ذکر آتے ہی میرے ذہن میں سب سے پہلے وہ پرانی کچی چھت آتی ہے جس کے نیچے بچپن گزرا تھا۔ جب آسمان پر بادل چھاتے تو گھر میں ایک عجیب سی ہلچل مچ جاتی۔ امی برتن ڈھونڈنے لگتیں، ابو چارپائی کھینچ کر اندر لے جاتے، اور ہم بچے ایک دوسرے کو بتاتے کہ "بارش آ رہی ہے!" گویا کوئی مہمان آ رہا ہو جسے سب جانتے ہوں مگر جس کا وقت کوئی نہ جانتا ہو۔
بارش دراصل موسم نہیں، ایک کیفیت ہے۔
جب پہلی بوند زمین پر گرتی ہے تو مٹی سے ایک خوشبو اٹھتی ہے جسے سائنس والوں نے "پیٹریکور" کا نام دیا ہے مگر یہ نام سن کر وہ بات نہیں بنتی جو بچپن میں صحن میں بھیگی مٹی سونگھنے سے بنتی تھی۔ کچھ چیزیں نام سے نہیں، احساس سے پہچانی جاتی ہیں۔ بارش انہی میں سے ہے۔
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس کی یادوں میں بارش کا کوئی حصہ نہ ہو۔ کسی کو یاد ہوگی اسکول سے بھاگ کر گھر آنے کی وہ دوڑ جب بستہ سر پر رکھ لیا تھا اور پھر بھی پوری طرح بھیگ گئے تھے۔ کسی کو یاد ہوگی وہ شام جب محبوب کے ساتھ کسی چھت کے کنارے کھڑے ہو کر پہلی بارش دیکھی تھی۔ اور کسی کو یاد ہوگا وہ دن جب گھر کی چھت ٹپکنے لگی تھی اور باپ نے رات بھر جاگ کر برتن بدلتے رہنے کو ہی "گھر کا سکون" سمجھ لیا تھا۔
بارش سب کے ساتھ برابر نہیں برتتی، مگر سب کو یاد ضرور رہتی ہے۔
شاعروں نے بارش کو محبت سے جوڑا، فلسفیوں نے اسے زندگی کی علامت بتایا، اور کسانوں نے اسے رزق کا دروازہ کہا۔ مگر جس نے بارش کو سب سے سچے دل سے سمجھا وہ شاید وہ بچہ ہے جو پہلی بار گھر سے نکل کر بارش میں بھیگتا ہے بغیر کسی مطلب کے، بغیر کسی فلسفے کے، بس اس لیے کہ پانی اوپر سے گر رہا ہے اور یہ بات اسے خوش کر رہی ہے۔
بڑے ہو کر ہم بارش سے ڈرنے لگتے ہیں۔ کپڑے بھیگیں گے، جوتے خراب ہوں گے، آفس دیر سے پہنچیں گے۔ بارش وہی رہتی ہے مگر ہم بدل جاتے ہیں۔ اور پھر ایک دن کسی کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر باہر گرتا پانی دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں "کاش بھیگ سکتے۔" یہ "کاش" دراصل بچپن کی یاد ہے جو بارش کے ساتھ لوٹ آتی ہے۔
بارش کے بھی کئی رنگ ہوتے ہیں۔
رات کی بارش الگ ہوتی ہے جب سب سو جائیں اور صرف پانی کی آواز آئے۔ اس وقت بارش ایک ہمدرد کی طرح لگتی ہے جو بغیر بولے ساتھ بیٹھا ہو۔ تنہا آدمی کو رات کی بارش سے بہت انس ہوتا ہے کیونکہ اس وقت بارش بھی تنہا ہوتی ہے۔
دوپہر کی بارش ذرا شرارتی ہوتی ہے۔ اچانک آتی ہے، سب کے منصوبے درہم برہم کر دیتی ہے، اور پھر جتنی جلدی آئی اتنی جلدی چلی بھی جاتی ہےپیچھے چھوڑ جاتی ہے گیلی سڑکیں، خوشبودار ہوا، اور کچھ ناراض لوگ جن کے کپڑے بھیگ گئے ہوں۔
اور صبح کی بارش؟ وہ سب سے نرم ہوتی ہے۔ جب آنکھ کھلے اور کھڑکی سے پانی کی آواز آئے تو لحاف کا کنارہ اور کس لیا جاتا ہے۔ اس صبح چائے کا کپ بھی زیادہ گرم لگتا ہے اور وقت بھی کچھ سست رفتار ہو جاتا ہے۔
ہمارے ادب میں بارش کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ میر سے لے کر فیض تک، ہر شاعر نے بارش سے کچھ نہ کچھ مانگا ہے۔ اختر ہوشیارپوری نے کہا تھا:
تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے
بارش پانی نہیں، وقت کا آئینہ ہے جو پرانے نقش دھو ڈالتی ہے۔ کسی نے اپنے درد کو بارش کے پانی میں بہا دینا چاہا، کسی نے اپنی محبت کو بارش کی بوندوں میں ڈھونڈا۔ اردو شاعری اور بارش کا رشتہ ایسا ہے جیسے پرانے دوستوں کا کبھی بھی ملو، بات وہیں سے شروع ہو جاتی ہے جہاں چھوڑی تھی۔
مجھے یاد ہے کہ ایک بار بارش میں بھیگتے ہوئے دل میں خیال آیا تھا کہ بارش شاید اس لیے آتی ہے تاکہ ہم سب کچھ دیر کے لیے رک جائیں۔ بھاگتی دنیا میں بارش ایک وقفہ ہے ایک لمحہ جب آسمان کہتا ہے: ٹھہرو، سانس لو، بھیگو۔
لیکن بارش کا ایک اور چہرہ بھی ہے جسے ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
وہ بارش جو کچے گھروں میں سیلاب بن کر آتی ہے۔ وہ بارش جو کسان کی فصل تباہ کر دیتی ہے۔ وہ بارش جس میں بچے اسکول نہیں جا پاتے کیونکہ سڑک پانی میں ڈوب گئی ہوتی ہے۔ یہ بارش وہی ہے، مگر اس کا تجربہ بالکل الگ ہے۔ شاید اسی لیے بارش کے بارے میں لکھتے وقت ہمیں صرف اپنی کھڑکی سے نہیں، بلکہ ان سب کی نظر سے بھی دیکھنا چاہیے جن کے سر پر چھت نہیں ہے۔
بارش سب کے لیے رحمت نہیں ہوتی اور یہ سچ ہمیں شکرگزار بناتا ہے کہ ہم اسے رحمت کی طرح محسوس کر سکتے ہیں۔
آج صبح جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو باہر بادل چھائے ہوئے ہیں۔ لگتا ہے بارش آنے والی ہے۔ چائے کا کپ میرے پاس ہے، کھڑکی کھلی ہے، اور ہوا میں وہی پرانی خوشبو ہے جو بچپن کی کسی گلی سے آتی ہوئی لگتی ہے۔
بارش آئے گی تو میں چھتری نہیں اٹھاؤں گا۔ کم از کم آج تو نہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں