واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

سکت پور کا کھلتا گلاب اچانک بجھ گیا ۔

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...
از قلم: ابو حذیفہ یوسفی 
مدرسہ عربیہ نجم الاسلام سکت پور اعظم گڑھ 

انتقال کی خبر کسی بھی انسان کے لیے انتہائی دردناک اور رنجیدہ لمحہ ہوتی ہے، جو موت کی اٹل حقیقت اور زندگی کی فانی نوعیت کا احساس دلاتی ہے۔ یہ خبر دل کو صدمہ پہنچاتی ہے، لیکن اہل ایمان کے لیے یہ صبر، ایصالِ ثواب، اور مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کا موقع بن جاتی ہے۔ 
وت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ جب کسی عزیز، دوست یا کسی علمی شخصیت کے انتقال کی خبر آتی ہے، تو وہ اپنے پیچھے یادوں کا ایک طویل سلسلہ چھوڑ جاتی ہے۔ یہ خبر صرف ایک شخص کی موت نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک محبت اور ایک رشتوں کے ٹوٹنے کا اعلان ہوتی ہے
کچھ نام صرف نام نہیں ہوتے، وہ یاد بن جاتے ہیں… اور کچھ لوگ صرف لوگ نہیں ہوتے، وہ دل کا حصہ بن جاتے ہیں۔
میرا پیارا دوست احمد ابن نثار بھی ایسا ہی انسان تھا، جس کی اچانک روڈ ایکسیڈنٹ میں جدائی نے دل کو جیسے خاموش کر دیا ہے۔
اعظم گڑھ کے علاقے سکت پور سے تعلق رکھنے والا احمد صرف اپنے گھر والوں کا سہارا نہیں تھا، بلکہ ہم دوستوں کے لیے بھی ایک روشنی تھا۔ اس کی مسکراہٹ میں خلوص تھا، اس کے لہجے میں محبت تھی، اور اس کے دل میں دوسروں کے لیے درد تھا۔ وہ ایسا انسان تھا جو خود تکلیف میں ہو تب بھی دوسروں کو ہنسانے کی کوشش کرتا تھا
کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ میرے دوست احمد ابن نثار احمد سکت پور اعظم گڑھ کی اچانک حادثے میں وفات بھی ایسی ہی ایک جدائی ہے جس نے دل کو اندر تک توڑ دیا ہے۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے جب وہ ہمارے درمیان تھا، مسکراتا تھا، ہنساتا تھا، اور زندگی کو آسان بنا دیتا تھا… اور آج وہ ہم میں نہیں۔
زندگی میں بعض حادثات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو اندر تک ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ میرے دوست احمد ابن نثار احمد کا روڈ ایکسیڈنٹ میں اچانک انتقال بھی ایسا ہی ایک سانحہ ہے جس نے مجھے اور میرے اردگرد کے لوگوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔
حادثہ صرف سڑک پر نہیں ہوا… حادثہ تو ہمارے دلوں میں ہوا ہے۔ ایک قیمتی انسان ہم سے چھن گیا، ایک سچا دوست بچھڑ گیا، ایک مسکراتا چہرہ ہمیشہ کے لیے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
دل چاہتا ہے کہ وقت پلٹ جائے… وہ دوبارہ سامنے آ جائے… ہنس کر کہے “کیا ہوا، اتنے خاموش کیوں ہو؟”
مگر وقت واپس نہیں آتا، اور جانے والے لوٹ کر نہیں آتے
آج جب اس کی یاد آتی ہے تو دل بے اختیار بھر آتا ہے۔ اس کی آواز، اس کی ہنسی، اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے سب آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ وہ اب ہمیں صرف یادوں میں ملے گا۔ اس کی کمی صرف ایک انسان کی کمی نہیں، بلکہ ایک سچے دوست، ایک اچھے انسان اور ایک روشن دل کی کمی ہے
انتقال کی خبر ہمیں دنیا کی بے ثباتی یاد دلاتی ہے اور آخرت کی تیاری کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ لمحہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل پونجی اس کے نیک اعمال اور رشتوں کے ساتھ حسن سلوک ہے، جو اس کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔
اے اللہ! احمد ابن نثار کی مغفرت فرما، اس کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما، اور اس کے والدین و اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ ہمیں بھی اس کی جدائی برداشت کرنے کی ہمت عطا فرما۔ آمین۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے