خالد سیف اللہ موتیہاری
دھوپ کے بارے میں سوچتا ہوں تو سب سے پہلے وہ صبح یاد آتی ہے جب سردیوں میں چھت پر چارپائی ڈال کر لیٹے تھے اور دھوپ آہستہ آہستہ پاؤں سے چڑھتے ہوئے چہرے تک پہنچی تھی۔ اس وقت لگا تھا کہ دنیا میں اس سے بہتر کوئی احساس نہیں نہ کوئی دولت، نہ کوئی منصب، نہ کوئی خوشی۔ بس وہ گرم روشنی جو آنکھیں بند کر کے بھی محسوس ہوتی تھی۔
دھوپ دراصل موسم نہیں، ایک پرانا رشتہ ہے۔
بارش کے بارے میں شاعروں نے بہت لکھا، رات کے بارے میں بھی خوب لکھا گیا، مگر دھوپ کو ہمیشہ تھوڑا کم توجہ ملی۔ شاید اس لیے کہ دھوپ بہت عام ہے روز آتی ہے، روز جاتی ہے۔ جو چیز روز ملے اسے ہم قدر کی نگاہ سے کم دیکھتے ہیں۔ انسان کی یہ پرانی عادت ہے کہ جو آسانی سے ملے اسے بھول جائے اور جو دور ہو اس کے لیے ترسے۔
مگر ایک بار سردیوں میں کئی دن ابر آلود رہیں اور دھوپ نہ نکلے تب پتہ چلتا ہے کہ دھوپ کتنی ضروری تھی۔ ہم اس کی قدر اسی دن کرتے ہیں جب وہ نہ ہو۔
دھوپ کے بھی کئی وقت ہوتے ہیں اور ہر وقت کی دھوپ کا اپنا مزاج ہے۔
صبح کی دھوپ سب سے معصوم ہوتی ہے۔ ابھی ابھی آئی ہے، تازہ ہے، آنکھوں کو چبھتی نہیں۔ درختوں کے پتوں سے چھن کر جب زمین پر گرتی ہے تو لگتا ہے کسی نے سونے کے سکے بکھیر دیے ہوں۔ اس وقت کی دھوپ میں بیٹھ کر اخبار پڑھنا، چائے پینا، یا بس یوں ہی بیٹھے رہنا یہ زندگی کی سادہ ترین خوشیوں میں سے ہے۔
دوپہر کی دھوپ البتہ بالکل اور ہی ہے۔ وہ کسی درویش کی طرح نہیں، بلکہ کسی سخت افسر کی طرح ہوتی ہے سیدھی، تیز، کوئی رعایت نہیں۔ گرمیوں کی دوپہر میں جب دھوپ اپنے پورے جوبن پر ہو تو سڑکیں سنسان ہو جاتی ہیں، کتے سائے میں دبک جاتے ہیں، اور درخت بھی جیسے ہانپنے لگتے ہیں۔ مگر اسی دوپہر میں وہ مزدور بھی ہے جو کام سے نہیں رک سکتا، وہ ریڑھی والا بھی ہے جس کا روزگار دھوپ سے نہیں چھپتا۔ دوپہر کی دھوپ ہمیں امیر غریب کا فرق بتا دیتی ہے ایک کے پاس پنکھا ہے، ایک کے پاس صرف پسینہ۔
شام کی دھوپ سب سے جذباتی ہوتی ہے۔ جب سورج ڈھلنے لگے اور روشنی سنہری ہو جائے، سائے لمبے ہونے لگیں اور ہوا میں ہلکی ٹھنڈک آ جائے اس وقت کی دھوپ دیکھ کر دل میں ایک عجیب سی اداسی آتی ہے جو بری نہیں لگتی۔ یہ وہ اداسی ہے جو یاد دلاتی ہے کہ دن گزرا، وقت بیتا، کچھ اور ختم ہوا۔ شام کی دھوپ میں بیٹھے بوڑھے لوگوں کے چہرے دیکھیں ان کی آنکھوں میں کچھ ایسا ہوتا ہے جو الفاظ میں نہیں آتا۔
ہمارے ہاں دھوپ کا ایک سماجی کردار بھی ہے جسے ہم محسوس تو کرتے ہیں مگر بیان نہیں کرتے۔
سردیوں میں محلے کے بزرگ دھوپ میں بیٹھتے ہیں تو وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ دھوپ ان کے لیے ایک بہانہ ہے ملنے کا، باتیں کرنے کا، دنیا جہان کے مسائل حل کرنے کا۔ چارپائیاں نکل آتی ہیں، کوئی مونگ پھلی لے آتا ہے، کوئی پرانی بات چھیڑ دیتا ہے اور پھر گھنٹوں کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ دھوپ یہاں صرف گرمی نہیں دیتی رشتے بھی گرم رکھتی ہے۔
بچوں کا دھوپ سے رشتہ اور بھی سادہ ہے۔ انہیں دھوپ سے کوئی فلسفیانہ لگاؤ نہیں انہیں بس اتنا معلوم ہے کہ دھوپ میں کھیلنا اچھا لگتا ہے۔ گرمی لگے تو سائے میں چلے گئے، ٹھنڈ لگے تو واپس دھوپ میں آ گئے۔ کاش ہم بڑے بھی زندگی کے ساتھ اتنا سادہ رویہ رکھ سکتے۔
دھوپ کا ایک استعارہ بھی ہے جو ہم روز استعمال کرتے ہیں۔
جب کوئی مشکل وقت گزر جائے تو کہتے ہیں "دھوپ نکل آئی۔" جب کوئی امید کی کرن دکھے تو کہتے ہیں "ذرا سی دھوپ آئی ہے۔" جب کوئی خوشگوار انسان ملے تو کہتے ہیں "تمہارے آنے سے دھوپ نکل آئی۔" یعنی دھوپ ہماری زبان میں اچھائی، امید اور خوشی کی علامت بن گئی ہے۔ اور یہ بے وجہ نہیں صدیوں کے تجربے نے یہ رشتہ جوڑا ہے۔
اندھیرے کمرے میں بیٹھا آدمی جب کھڑکی کھولتا ہے اور دھوپ اندر آتی ہے تو پہلی چیز جو ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کمرہ بڑا لگنے لگتا ہے۔ یہ دھوپ کا کمال ہے وہ جگہ کو نہیں بدلتی، بس روشن کر دیتی ہے، اور روشنی میں سب کچھ کشادہ لگتا ہے۔
میں نے ایک بار کسی بیمار سے ملنے ہسپتال گیا تھا۔ وہ کئی دن سے اندر تھے، کھڑکی نہیں تھی کمرے میں۔ جب باہر آئے اور دھوپ پڑی تو انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور کچھ دیر یوں کھڑے رہے جیسے کوئی دعا مانگ رہے ہوں۔ اس لمحے مجھے سمجھ آیا کہ دھوپ کیا ہے۔
دھوپ زندگی کی تصدیق ہے۔
آج دھوپ نکلی ہوئی ہے۔ چھت پر جانے کا دل ہے۔ کوئی کام نہیں، کوئی منصوبہ نہیں بس تھوڑی دیر دھوپ میں بیٹھنا ہے۔ آنکھیں بند کر کے، چہرہ اوپر کر کے، اور یہ محسوس کرنا ہے کہ سورج ابھی بھی ہے، دنیا ابھی بھی چل رہی ہے، اور ہم ابھی بھی زندہ ہیں۔
کبھی کبھی اتنا کافی ہوتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں