خالد سیف اللہ موتیہاری
رات کو جب بجلی چلی جاتی تھی اور بچپن میں یہ اکثر ہوتا تھا تو ہم سب چھت پر چلے جاتے تھے۔ پنکھا بند، کمرہ گرم، باہر ہلکی ہوا۔ چارپائی پر لیٹتے اور اوپر دیکھتے تو آسمان بھرا ہوا ہوتا تھا ان گنت ستاروں سے، جیسے کسی نے مٹھی بھر بھر کے روشنی بکھیر دی ہو۔
اس وقت نہ موبائل تھا، نہ کوئی اسکرین بس ہم تھے اور آسمان تھا۔ اور آسمان اس رات بہت بڑا لگتا تھا۔
ستارے عجیب چیز ہیں۔ اتنے دور ہیں کہ ان کی روشنی ہم تک پہنچتے پہنچتے کئی سال لگ جاتے ہیں کچھ کی روشنی تو ہزاروں سال پرانی ہے۔ یعنی جو ستارہ ہم آج رات دیکھ رہے ہیں، ہو سکتا ہے وہ اب وجود میں بھی نہ ہو۔ ہم ایک ایسی روشنی دیکھ رہے ہیں جو ماضی سے آئی ہے، ایک ایسے وجود کی یاد جو شاید مٹ چکا ہو۔
یہ سوچ کر دل میں ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے نہ پوری اداسی، نہ پوری حیرت۔ کچھ درمیان کی چیز۔
بچپن میں ستاروں کی گنتی کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایک، دو، تین، چار پانچویں تک پہنچتے پہنچتے بھول جاتا تھا کہ پہلا کون سا تھا۔ آسمان نے کبھی گنتی نہیں دی، بس پھیلا رہا۔ بعد میں کسی نے بتایا کہ آسمان میں اربوں ستارے ہیں یہ سن کر گنتی کرنے کا شوق ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
کچھ چیزیں ناپنے سے چھوٹی ہو جاتی ہیں۔ ستارے انہی میں سے ہیں۔
ہمارے بزرگ ستاروں کو پہچانتے تھے نام سے، چال سے، جگہ سے۔ ثریا کہاں ہے، قطبی ستارہ کون سا ہے، فلاں ستارہ کس موسم میں نکلتا ہےیہ علم کتابوں میں نہیں، تجربے میں تھا۔ مسافر ستاروں سے راستہ پہچانتے تھے، ملاح سمندر میں ستاروں کو دیکھ کر سمت طے کرتے تھے۔ آسمان ان کا نقشہ تھا۔
آج ہمارے پاس موبائل میں نقشہ ہے مگر آسمان سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔ ہم زمین پر اتنے مصروف ہو گئے کہ اوپر دیکھنا بھول گئے۔ اور جب اوپر دیکھتے بھی ہیں تو شہر کی روشنیوں نے آسمان کو دھندلا کر دیا ہے ستارے ہیں، مگر نظر نہیں آتے۔
شاید یہ ترقی کا نقصان ہے جو ہم نے خوشی خوشی قبول کر لیا۔
ستاروں کا ادب میں بھی گہرا رشتہ ہے۔ اقبال نے ستاروں سے آگے جانے کی بات کی، غالب نے آسمان کی وسعت کو اپنی بے بسی کے سامنے رکھا، اور نہ جانے کتنے شاعروں نے اپنے محبوب کی آنکھوں کو ستاروں سے تشبیہ دی۔ مگر ستاروں کی سب سے سچی تعریف میں نے کسی شاعر میں نہیں، ایک بچے کی زبان میں سنی تھی جس نے کہا تھا
"رات کو آسمان میں سوراخ ہو جاتے ہیں اور اندر کی روشنی باہر آتی ہے۔"
غلط بات تھی مگر اتنی خوبصورت کہ صحیح کرنے کو دل نہیں کیا۔
ستاروں کا ایک اور پہلو ہے وہ ہمیں چھوٹا کرتے ہیں۔
جب آسمان بھرا ہو اور ہم نیچے لیٹے ہوں تو ایک لمحے کے لیے اپنے سارے مسائل چھوٹے لگنے لگتے ہیں۔ جو بات صبح سے پریشان کر رہی تھی، جو رنجش دن بھر سینے پر بوجھ بنی رہی، جو فکر سونے نہیں دے رہی تھی وہ سب اس وسیع آسمان کے سامنے ذرا کم بڑی لگتی ہے۔
یہ ستاروں کا علاج ہے بغیر کسی نسخے کے، بغیر کسی قیمت کے۔ بس اوپر دیکھو اور تھوڑی دیر کے لیے بھول جاؤ کہ تم بہت اہم ہو۔
مجھے یاد ہے ایک بار گاؤں میں رات کو اکیلے کھیتوں کی طرف نکل گیا تھا۔ شہر کی روشنی سے دور، کوئی بلب نہیں، کوئی گاڑی نہیں بس اندھیرا اور آسمان۔ اس رات جتنے ستارے دیکھے اتنے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ایسا لگا جیسے آسمان نے پردہ ہٹا دیا ہو اور اصلی چہرہ دکھا دیا ہو۔
اس رات کافی دیر کھڑا رہا کچھ سوچا نہیں، کچھ کیا نہیں۔ بس دیکھتا رہا۔
کبھی کبھی دیکھنا ہی کافی ہوتا ہے۔
ستاروں کی ایک بات اور ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔
وہ ہر رات آتے ہیں بغیر ناغہ کیے، بغیر تھکے، بغیر شکایت کیے۔ بادل چھائے ہوں تو چھپ جاتے ہیں، مگر ہوتے ضرور ہیں۔ ان کا وجود بادلوں کی موجودگی سے ختم نہیں ہوتا بس نظر نہیں آتے۔
کتنے لوگ ایسے ہیں جو مشکل وقت میں چھپ جاتے ہیں مگر ختم نہیں ہوتے بادل گزر جائیں تو پھر چمکتے ہیں۔ ستارے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ غائب ہونا اور ختم ہونا ایک بات نہیں۔
آج رات آسمان صاف ہے۔ ستارے نکلے ہوئے ہیں۔
چھت پر جا کر لیٹنے کا دل ہے بالکل ویسے جیسے بچپن میں بجلی جانے پر جاتے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تب مجبوری تھی، اب انتخاب ہے۔
اور شاید انتخاب سے کیا گیا کام زیادہ سکون دیتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں