عجب اک موڑ پر خود کو اکیلا چھوڑ آیا ہوں
میں دنیا بھر سے اپنے رابطے سب توڑ آیا ہوں
ہوا کے دوش پر بکھری تھی جو یادوں کی خوشبوئیں
انہیں میں بند کمروں کی طرف اب موڑ آیا ہوں
نہ کوئی ہم سفر ہے اور نہ کوئی ہم قدم میرا
میں اپنے سائے سے بھی راستہ اب چھوڑ آیا ہوں
تھکن اتنی تھی اس تپتے ہوئے صحرائے ہجرت میں
شجر کی چھاؤں کو بھی دھوپ میں ہی چھوڑ آیا ہوں
بھرے بازار میں پایا ہے خود کو اس قدر تنہاسیفی
کہ جیسے ہجوم میں اپنا کوئی بچپن چھوڑ آیا ہوں
🌹سیفی موتیہاری 🌹

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں