واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

غزل:تنہائی کا سفر

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

عجب اک موڑ پر خود کو اکیلا چھوڑ آیا ہوں

میں دنیا بھر سے اپنے رابطے سب توڑ آیا ہوں

ہوا کے دوش پر بکھری تھی جو یادوں کی خوشبوئیں

انہیں میں بند کمروں کی طرف اب موڑ آیا ہوں

نہ کوئی ہم سفر ہے اور نہ کوئی ہم قدم میرا

میں اپنے سائے سے بھی راستہ اب چھوڑ آیا ہوں

تھکن اتنی تھی اس تپتے ہوئے صحرائے ہجرت میں

شجر کی چھاؤں کو بھی دھوپ میں ہی چھوڑ آیا ہوں

بھرے بازار میں پایا ہے خود کو اس قدر تنہاسیفی 

کہ جیسے ہجوم میں اپنا کوئی بچپن چھوڑ آیا ہوں

🌹سیفی موتیہاری 🌹 

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے